کتاب والا اسلم رسولپوری

نقادادیب شاعر محقق محترم اسلم رسول پوری صاحب ویسے تو کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ وہ اپنے آپ میں ایک انجمن ہیں۔
رسولپوری صاحب 1941ء ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے ضلع راجن پور کے نواحی علاقے رسول پور میں بلوچوں کے احمدانی قبیلے میں پیدا ہوئے۔ والدین نے محمد اسلم نام رکھا ۔ ان کے والد عبدالحکیم بزات خود بھی شاعر تھے اور عبد تخلص کرتے تھے۔ انہیں سرائیکی مثنوی سیف المکوک زبانی یاد تھی۔
عبدالحکیم صاحب کے سسر یعنی اسلم رسولپوری صاحب کے نانا مولوی محمد موسیٰ ایک صاحب ذوق انسان تھے اور دو کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ ان کی اپنی ایک شاندار لائبریری تھی۔
یوں اسلم رسولپوری صاحب نے علمی ادبی گھرانے میں انکھ کھولی ۔رسولپوری صاحب نے ابتدائی تعلیم مقامی اسکول رسول پور سے حاصل کی۔ اس کے بعد ان کی تربیت ان کے رشتے دار مولوی نصیر بخش خان جو کہ بہت بڑے عالم فاضل انسان تھےاور خواجہ غلام فریدؒ کے دست بعیت تھے نے کی۔
اسلم رسولپوری صاحب نے ان سے فارسی ۔علم نجوم ، علم رمل ،اور علم عروض جس میں شعر کا وزن کیسے قائم ہوتا ہے اور تصوف پڑھا۔ یہاں تک کہ اس عرصہ میں انہوں نے ایک ہزار سے زیادہ شعر بھی زبانی یاد کرلئے جس کا فائدہ انہیں نارمل اسکول مظفر گڑھ میں داخلے کے وقت طلباء کے درمیان بیت بازی کے مقابلے میں ہوا کیونکہ انہوں نے پوری ٹیم کو اکیلے ہرا دیا۔ یوں استاد نے خوش ہو کر اسکول کی لائبریری کی چابیاں ہی سونپ دیں کہ آج سے یہ تمہاری ذمہ داری ہے اس طرح علم کےاس خزانے سے انہوں نے دل کھول کر نہ صرف اپنی علمی پیاس بجھائی بلکہ شوق کا یہ عالم تھا کہ ہر وقت کتاب ہاتھ میں ہوتی یہاں تک کہ لوگوں نے( کتاب والا چھوہر) کتاب والا لڑکا نام رکھ دیا۔ اب اگر کوئی کسی سے ان کے بارے میں پوچھتا تو جواب آتا اچھا وہ کتاب والا لڑکا،،؟ ہاں وہ وہاں لائبریری میں ہوگا ۔
نارمل اسکول میں پڑھائی کے دوران ہی ڈرامے لکھنا شروع کر دیے۔ وہ ڈرامے اور افسانے لکھتے اور اپنی نانی صاحبہ جو معروف سرائیکی لکھاری اسماعیل احمدانی صاحب کی والدہ محترمہ تھیں اور ایک صاحب ذوق خاتون تھیں کو سناتے۔ وہ دعاوں کے ساتھ خوب حوصلہ افزائی کرتیں۔ ان ڈراموں میں سے بعض کچھ تبدیلی کے ساتھ بعد میں ریڈیو پاکستان ملتان سے نشر بھی ہوئے۔ اسکے بعد ان کی مزید ادبی تربیت سرائیکی زبان کے مشہور و معروف ایوارڈ یافتہ رائٹر محمد اسماعیل احمدانی جو کہ رسولپوری صاحب کے سگے ماموں بھی تھے نے کی۔
6 جنوری 1962 ء میں وہ بھکر پور میں بطور جے ۔وی ٹیچر بھرتی ہوئے۔
پھراللہ آباد محمد پور اور مختلف شہروں کے پرائمری اور مڈل اسکولوں میں پڑھاتے رہے۔          1966 میں بی اے اور 1971ء میں ایم۔اےاردو پنجاب یونیورسٹی یونیورسٹی سے پرائیویٹ طور پر کیا ۔ تدریس کے شعبے سے وابستگی کے دوران ہی پرائیوٹ طور پر ایل۔ایل بی کا بھی امتحان پاس کیا اور پھر 1987 ءمیں نوکری چھوڑ کر جام پور میں باقاعدہ طور پر وکالت شروع کر دی جو کہ آج تک جاری ہے۔
اسلم رسول پوری نے1968ء میں اپنی ایک رشتہ دار خاتون خدیجہ بی بی سے شادی کی جس سےانکے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ ان کے ساتھ ان کی ایک بیٹی ثروت سحر بھی ایڈوکیٹ ہیں اور ان کا ہاتھ بٹاتی ہیں ۔بلا شبہ ثروت سحر بھی اپنے والد محترم کی طرح بے مثال وکیل ہیں ۔
جیسا کہ ذکر ہوا اسلم رسولپوری صاحب نے بہت ہی کم عمری سے لکھنا شروع کیا تھا۔ انہوں نے کچھ عرصہ شاعری بھی کی۔ شاعری میں ابتدا میں ان پر اقبال کا اثر غالب رہا۔ بعد میں انہوں نے سرائیکی زبان میں شاعری شروع کی۔ بہاولپور سے دلشاد کلانچوی صاحب ایک رسالہ سرائیکی کے نام سے نکالتے تھے اس میں ان کی کافی شاعری شائع ہوئی۔اس کے علاوہ وہ سرائیکی ادب اور دیگر رسالوں میں بھی شائع ہوتے رہے ۔بعد میں رسولپوری صاحب نے یہ محسوس کیا کہ سرائیکی زبان کی خدمت کرنی ہےتو نثر میں کام کرنا بہت ضروری ہے۔ لہذا انہوں نے نثر میں سارا تحقیقی اور تنقیدی کام کیا ۔انہوں نے سوچا کہ پرانے سرائیکی ادب کو اکٹھا کیا جائے اس پر انہوں نے متعدد کتابیں اور مضامین لکھے ۔ اس نےسندھ کادورہ بھی کیا تاکہ سچل سرمست ،بیدل سندھی اور حمل لغاری، پر کتابیں لکھیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے شاہ لطیف کا سرائیکی کلام بھی اکٹھا کیا ۔ اس طرح انہوں نے اپنا تحقیقی اور تنقیدی کام سرائیکی نثر میں شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔
انہوں نے زیادہ تر جدید خیالات پر پڑھا اورلکھا۔ وہ بڑے بڑے فلسفیوں اور نقادوں کو پڑھتے رہے ۔مغرب میں تھیوری کےنام سے جوایک اسکول ہے جہاں بڑے بڑے اسکالرز
فوکو ۔لاکاں ، رولاں بارتھ دریدا ایڈورڈسعید اور فینن وغیرہ بنیادی ستون ہیں کو پڑھا ۔اس کا ان پر اثر ہوا ۔ان کی ایک کتاب انہی مغربی اسکالرز کی اس فکر کا احاطہ کرتی ہے۔
ہندوستان پر انگریزوں کاجو دور تھا اسے نو آبادیاتی عہد کہا جاتا ہے۔ انگریزوں نے ہندستان میں کون کون سے مظالم ڈھائے اور ان کے جانے کے بعد جس ادب نے جنم لیا اسے ما بعد نو آبا دیاتی عہد کا ادب کہتے ہیں، اسلم رسول پوری اس مغربی تہذیبی جبر اور سامراجیت کی ثقافتی بالا دستی کا مقابلہ اپنی تنقید و تحریر سے کرتےہیں ۔
انہوں نے اپنی کتابوں میں بہت سے دوسرے مغربی فلسفیوں کے بارے میں بھی لکھا۔ بالخصوص کارل مارکس پہ۔ ان کا کہنا ہے مارکسزم انسانی مسائل کی سالویشن کا فلسفہ ہے اور مارکسی ادب انسان کو اس کی مادی حالتوں کا شعور دیتا ہے۔ اس پر ان کا ایک کتابچہ مارکسی نقطہ نظر تے ساڈا ادب کافی مشہور ہے۔ ایسے بڑے فلسفیوں میں ایک سارتر بھی ہے جس کی فکر کے حوالے سے اس کا ذکر ان کی کتاب تلاوڑے میں بھی کیا گیا ہے۔ سارتر کا کہنا ہے انسان کا سب سے مشکل وقت اس وقت ہوتا ہے جب اس کے پاس دو راستے ہوتے ہیں مگر اسے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے ۔جس طرح سقراط کے پاس دو راستے تھے یا وہ زہر پی لیتا یا اپنے شاگردوں کی صلاح پر بھاگ جاتا ۔اور سقراط نے زہر کا پیالہ پیا اور تاریخ میں زندہ ہوگیا۔
رسولپوری صاحب نے نفسیاتی حوالے سے بھی بہت کچھ لکھا۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون َمیں مثنوی سیف المکوک کے کرداروں کا نفسیاتی جائزہ لیا ہے اور لکھا ہےکہ انسان اپنی اندر کی خواہش کی تسکین کے لیے ایسے کرداروں کو تخلیق کرتا ہے۔
ان کی نظر میں شاعری بھی انسان کا ایک خواب ہوتی ہے جسے وہ اپنے شعر کےذریعے پورا کرتا ہے ۔
وہ کچھ عرصہ نیشنل عوامی پارٹی میں رہے۔اورابتدائی طور پر مولانا بھاشانی کے ساتھ کام کیا۔ جس کی وجہ سے ان کا رجحان سرائیکی قومی مسائل کی طرف ہوگیا اور سرائیکی خطے کی محرومیوں اور لوگوں میں سیاسی شعور پیدا کرنے کے لیے سرائیکی قومی سوال کے نام سے کتاب لکھی، پھر سرائیکی پارٹی میں شمولیت کی اور بالترتیب سینئر نائب صدر اور سیکریٹری جنرل کے عہدے پر کام کرتے رہے۔سیاسی کام کے ساتھ انہوں نے اپناعلمی ادبی کام بھی جاری رکھا
انہوں نے سرائیکی زبان کے بارے میں سوال وجواب نام سے ایک کتابچہ بھی لکھا جس کے سوال اور جواب خود ہی مرتب کیے جو عام لوگوں کےلئے تھا اور بہت ہی مقبول ہوا۔
بزم ثقافت ملتان نے انکی متعدد کتابیں چھاپیں۔ ان کا بنیادی عشق لسانیات سے تھا۔ انہوں نے جدید لسانیات پر کافی کام کیا
سرائیکی زبان کا اپنا رسم الخط بنانے کے لیے تقرباّ سو سال سے زیادہ عرصہ کوششیں کی گئی اور بہت سے لوگوں نے اس پر کافی کام بھی کیا۔ ابتدا میں عبید ا للہ سندھی کی تنظیم کی طرف سے ریاستی قاعدہ پھر دیرہ غازی خان کے قاضی راضی نے کام کیا۔اس کے بعد مولانا عزیز رحمان نےایک کمیٹی بنائی اور سرائیکی رسم الخط مرتب کیا جو کہ دیوان فرید میں استعمال ہوا ،پھر اس کے بعد بھی رسم الخط پر مزید کام ہوا ۔ 1975ء میں ایک سرائیکی کانفرنس ملتان میں منعقد ہوئی جس میں سرائیکی رسم ا لخط کمیٹی بنائی گئی اسلم رسولپوری صاحب نےسب سے کم عمر ممبر کی حثیت سے شرکت کی۔ اس کےبارےمیں انہوں نے سرائیکی رسم الخط کی مختصر تاریخ کے نام سے ایک کتابچہ لکھا جس میں رسم الخط کی تاریخ کے ساتھ ان لوگوں کاذکر تھا جنہوں نے سرائیکی رسم الخط پر کام کیا۔ اس حوالے سے ان کی یہ کتاب بھی مقبول و معروف ہوئی۔
علاوہ ازیں نذیر لغاری اور شوکت صدیقی کی دعوت پر کراچی میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی گولڈن جوبلی 1986ءمیں شرکت کی اور سرائیکی ادب پر مضمون پڑھا اور کئی اجلاس کی صدارت بھی کی ۔وہاں انہوں نے سوبھو گیان چندانی شمیم اشرف ملک زاہدہ حنا جون ایلیا محمدعلی صدیقی اور بہت سے انڈین سکالرز سے بھی ملاقات کی ۔
رسولپوری صاحب کو موسیقی سے بھی کافی دلچسپی رہی ہے۔ ان کا کافی گلوگاروں اورفنکاروں سے تعلق رہتا ہے ۔انہوں نے اپنے ایک گائیک دوست نصیر خان سے موسیقی کے اسرار و رمٗوز سیکھے ۔سروں اور دھنوں کے بارے میں بہت کچھ پڑھا۔ انہوں نے موسیقی کے بارے میں ایک کتاب سرائیکی لوک موسیقی بھی لکھی۔ اس کتاب میں موسیقی سے متعلق سبھی معلومات موجود ہیں۔
ان کی لکھی گئی کتابیں ایم اے اور ایم فل سرائیکی کے نصاب میں شامل ہیں جن میں تلاوڑے ،سرائیکی زبان اوررسم الخط ا
تے آوازاں ،اور سچل سرمست اور ان کی سرائیکی شاعری وغیرہ شامل ہیں۔
اس کےعلاو کچھ عرصہ پہلےپروفیسر ممتاز خان جوکہ اسلامیہ یونی ورسٹی بہاول پور کے سرائیکی پروفیسر ہیں نے ان کی ایک کتاب سےحاشیہ نشین موضوعات کاشاعر حسن رضا گردیزی نامی ایک مضمون باقاعدہ نصاب میں پڑھانے کی ہدایت کی۔
رسولپوری صاحب پر کئی مقالے بھی لکھے گئے جن میں 2013 میں سب سے پہلا مقالہ ڈیرہ غازی خان کے ربنواز احمدانی نےیونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کالج برائے ایلیمنٹری ٹیچر ٹرینگ ڈیرہ غازی خان سے اسلم رسول پوری کی علمی خدمات کا جائزہ مقالہ برائے ایم ایڈ ، ڈاکٹر قاسم مجاہد بلوچ کی نگرانی میں مکمل کیا
اس کے بعد ایک خاتون سائرہ افضل نے ڈاکٹر عقیلہ جاوید ،ہیڈ آف اردو ڈپارٹمنٹ اردو بی زیڈ یو ،کی زیر نگرانی اسلم رسول پوری صاحب کی علمی اور ادبی خدمات پر ایک جامع مقالہ لکھٓا۔اس کے علاوہ اسلم رسول پوری کی لسانی خدمات پر تنویر حسن نے جس کے نگران حاکم علی برڑو تھے اسلام آباد اوپن یونی ورسٹی میں لکھا ۔
رسول پوری صاحب کو ان کی علمی ادبی خدمات پر کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں احمد خان طارق جو کہ سرائیکی زبان کے معروف شاعر ہیں کے نام پر بنائی گئی ایک بزم طارق کی جانب سےآپ کی ادبی خدمات پر ایوارڈ دیا گیا ۔انہیں خواجہ غلام فرید ایوارڈ بھی دیا گیا ہےاسی طرح کے انعامات سے بے پرواہ اسلم رسولپوری صاحب نے اپنی پوری زندگی بنا کسی حرص و لالچ کے سرائیکی زبان اور ادب کی خدمت میں بسر کی۔
اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں انہوں نے عاصمہ جہانگیر کے ساتھ بھی کام کیا انہوں نے کالا کالی یا کاروکاری کی فرسودہ رسم کے خلاف مسلسل جدوجہد کی ۔اسی طرح بچوں عورتوں اور قیدیوں کے حقوق ان کی حالت زار پررپورٹیں تیار کیں۔ انہوں نےجیل خانہ جات کے معاِئنے کئے اور سزائے موت کے قیدیوں کی حالت زار پر ایک کتاب سزائے موت کیئوں لکھی۔
اسلم رسولپوری نے سچ کی تلاش کو اپنا مقصدبنایا۔ وہ سرائیکی ادب کے ذہین اور باشعور نقاداور کئی کتابوں کے مصنف ہیں انہں جدید سرائیکی تنقید کا بانی کہا جا سکتا ہے
ان کی اب تک شائع ہونے والی کتابیوں میں
(1) تلاڑے
(2) نتارے
(3) سرائیکی قائدہ
(4) سرائیکی رسم الخط کی مختصر تاریخ
(6) سرائیکی زبان اوندا رسم الخط تے آوازں
(7) سرائیکی ادب وچ معنی دا پندھ
(8) سرائیکی تنقید تے مابعد نوآبادیاتی نظریہ
(9) مارکسی نقطہ نظر تے اسا ݙا ادب
(10) لسانی مضامین
(11) سرائیکی زبان تے لسانیات
(12) سچل سرمست
(13) بیدل سندھی
(14) حمل لغاری
(15) سرائیکی قومی سوال
(16) سرائیکی وچ حاشیہ نشین تنقیداور سرائیکی وچ اسلوبیاتی تنقید۔
علم و ادب کا یہ سمندر اپنی موجوں سے بہت سے کئی لوگوں کوسیراب کررہاہے ان کے گھر میں موجود اس وقت بھی ایک بہت بڑی لائبریری موجود ہے جس کے دروازے علم دوستوں کے لیے ہمہ وقت کھلے رہتے ہیں
میں ابھی تک ورطۂ حیرت میں ہوں کہ جنہوں نے اپنی پوری زندگی قوم کی علمی ادبی خدمت میں گزاری جن کی لکھی کتابیں ایم اے اور ایم فل اور پی ایچ ڈی سرائیکی کے نصاب میں شامل ہوں جن پر طالب علم مقالے لکھتے ہوں کیا وجہ ہےکہ ابھی تک ان کی علمی خدمات کو سرکاری طور پر نہیں سراہاگیا ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*