اے بھٹائی

اے بھٹائی
پیر و مرشد!
اے اسیرِ حُسنِ ذات
بےنیازِ رنگ و بُوئے کائنات
اے ثباتِ بےثبات
میں کہ ہوں محوِ صفات
اِس طلسمِ ہاٶ ہُو میں روز و شب
بےسبب اور بےادب
کائناتِ بےکراں کو مسترد کرتا تھا میں
رد و کد کرتا تھا میں
آج پھر میں تیرے در پر آیا ہوں
ہدیہ فہم و فراست لایا ہوں ہوں
اے بھٹائی
پیر و مرشد!
ہے غمِ جاناں حقیقت
اور غمِ دوراں حقیقت
اور بالا تر سبھی سے
ہے غمِ انساں حقیقت
اب مگر میں مانتا ہوں اک غمِ بےنام بھی ہے
اور بامعنی و مقصد تیرا ہر پیغام بھی ہے
آج تم سے فیصلہ کر کے اُٹھوں گا
جامِ صحت تیرا میں بھر کے اُٹھوں گا
اے بھٹائی
پیر و مرشد!
متفق ہے تو کہ ہر تخلیق سے ہے خوب تر
کائناتِ بےکراں میں زندگانی بشر
پرتوِ حُسنِ ازل ہے
بےبدل ہے
جانتا ہوں میں کہ ہے یہ بےثبات
اور یہ کامِ نہنگِ کائنات
روز و شب اُس کو نگلنے پر تُلا ہے
ایک دروازہ کُھلا ہے
جس سے جا کر کوئی لوٹ آتا نہیں
پھر دیارِ درد میں جاتا نہیں
اے کہ تارِ عنکبوتِ کائنات
سے ہے واقف تیری ذات
تُو کہ اسرارِ ازل سے آشنا
یہ بتا
کہ کسی انساں پہ انساں کے ستم کا ہے جواز ؟
اے شناسائے حقیقت اور دانائے مجاز
آج میں ظلم و ستم سے برسرِ پیکار ہوں
جب کبھی فرصت ملی تیار ہوں
تیرے بحرِ بےکراں میں دور جانے کے لئے
اور دل حیراں میں اک غوطہ لگانے کے لئے

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*