کھویا ہوا دن

 

ہمیں کیا پڑی تھی ۔۔۔۔
درختوں پہ بیٹھی ہوا کو اڑایا
سویرے سے پہلے چمکتا ستارا بجھایا ۔۔۔۔
مدھر نیند میں کھوئے بادل پلٹ کر گلابی خراشیں جمائیں۔۔۔
اجالے کے رستے پہ بیٹھے ہوئے پھول مسلے ۔۔۔۔
لرزتی ہوئی اوس کی نرم بوندوں میں سرخی بھری
اورکھڑکی پہ انگارا رکھا۔۔۔ بدلتے ہوئے وقت کی شاخ سے کچے لمحوں کو توڑا۔۔۔۔
کہیں کچھ چٹخنے کی آوازبھی تھی
مگرجی نہ پگھلا۔۔۔
سو اس روز روٹھی خدائی سے روتی ہوئی رات گزری تھی
اور دیکھتے دیکھتے
شام ہونے کو آئی
مگر دن نہ نکلا۔۔۔۔۔
کوئی چیز جاں کو کچلتی تھی
اور تیز لہجے کی جلتی ہوئی میخ جی میں گڑی تھی
بھلے دن کے رستے کو روکیں
ہمیں کیا پڑی تھی
مگر کیا کریں
آخری پہر کے آخری پل میں جیسے
بڑی بےکلی تھی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*