رقصِ بِسمِل

چکور چاند کی اُور پرواز کرتا ہے
زخمی سینہ لیئے زمین پر آن گرتا ہے
بدن میں کئی ناگ ایک ساتھ پُھنکارتے ہیں
اور من کا کُُتّا سرد اندھیری رات میں
روتا ہی رہتا ہے
زندگی کا سمندر موتیوں سے خالی ہے
محبت ریت کا اِک ایسا ذرّہ
جو آنکھ میں پڑ جائے
تو کُچھ بھی دیکھنے نہیں دیتا
پاؤں میں بیڑیاں پہنے وہ عورت
جو ٹکٹکی پر بندھی ہے
گُناہگار ہے, خطا کار ہے
کہکشاؤں کو دیکھتی ہے
دیوتاؤں کی بستی میں
انسانوں کو ڈھونڈتی ہے
ہمدم و مُونِس کھوجتی ہے
اور سب سے بڑھ کر یہ
کہ
اپنے آپ کو انسان کہتی ہے
انسان جو خطا کا پُتلا ہے!
اپنے دُکھ درد کہتی ہے
بغاوت کی مُرتکب ہے
عورت ہو کر بولتی ہے
پاؤں کی جوتی کاٹتی ہے
کنیزوں میں بغاوت کا اندیشہ ہے
وکیل۔۔۔۔۔۔۔کوئی نہیں ہے
کنیزوں کے مُقدمے کوئی نہیں لڑتا
دیوتاؤں سے بغاوت
ایسی جرات کسی میں نہیں ہے
کہ مارا جائے گا
گواہیاں ساری آدھی ہیں
آدھی گواہی کی کوئی وُقعت نہیں ہے
مُدّعی اور مُنصف، دونوں دیوتا ہیں
دیوتا اونچے سنگھاسن پہ بیٹھے
صرف سزا سُناتے ہیں
عورت ہونا جُرم ٹھہرا ہے
اس کا تو اپنا بدن سُن ہے
دیوتا کے کسی عضوِ بدن سے
کوئی رغبت نہیں ہے
پھر بھی کاری ہے؟
تعزِیر تو لگے گی
آج وہ سنگسار ہوگی
دستورِ زمانہ ہے
چلو تُم بھی کُچھ پتھر اُٹھاؤ
پہلا پتھر تمہیں ہی مارنا ہے
قبر پتھروں سے ڈھک گئی ہے
چلو آؤ اِک جام پیتے ہیں
اور کنیزوں کا رقص دیکھتے ہیں
اور کنیز بنتِ کنیز سوچتی رہے گی
کہ غلامی کی دُھن پر
یہ رقصِ بِسمِل کب تک رہے گا؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*