ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : نومبر 2020

یکسوئی

عہدِ گم گشتہ کی تصویر دکھاتی کیوں ہو؟ ایک آوارۂ منزل کو ستاتی کیوں ہو؟ وہ حسیں عہد جو شرمندۂ ایفا نہ ہوا اس حسیں عہد کا مفہوم جتاتی کیوں ہو زندگی شعلہء بے باک بنا لو اپنی! خود کو خاکسترِ خاموش بناتی کیوں ہو میں تصوّف کے مراحل کا ...

مزید پڑھیں »

سُرخ لکیر

لفظ تو بے جان ہے اسے وجود کیسے ملتا ہے کیوں بہت سے معنی رکھتا ہے زندگی، اِک عام سا لفظ ہر کسی لیئے اس کے معنی الگ ہیں پیمانہ آدھا بھرا ہے یا آدھا خالی ہے روشنی اِک الیوژن ہے روشن آنکھ بھی ہمیشہ روشنی نہیں دیکھتی منظر ایک ...

مزید پڑھیں »

آزاد امریکہ کے قید خانے آخر اتنے آباد کیوں ہیں؟

جب میری ملازمت امریکہ کے ایک جیل میں بطور منشیات کے عادی افراد کی تھرپسٹ کے ہوئ توکرم فرمائ کے دعوی دار ایک حضرت نے کچھ تمسخر اور کچھ طنز سے فرمایا، “ضرور کام کیجیے وہاں۔ تاکہ آپکے سوشل ورک سے متعلق آئیڈیلزم کا نشہ تو اترے”۔ میں نے اس ...

مزید پڑھیں »

بخت نامہ کاکڑ

بخت نامہ کاکڑ پہلی خاتون قیدی اور پہلی خاتون شہید کے رتبے پر فائز ھونیوالی بہن بیٹی ھے۔ بخت نامہ شہید کاکڑ قوم سے تعلق رکھتی تھی۔ مورخین کا کہنا ھے کہ 1925 تا 1930 کے درمیان بخت ہندوباغ (مسلم باغ) کے علاقے میں ناپاک فرنگی راج کیخلاف مسلح جدوجہد ...

مزید پڑھیں »

محبت کی ایک نظم

میری زندگی میں بس ایک کتاب ھے ، ایک چراغ ھے ایک خواب ھے اور تم ھو یہ کتاب و خواب کے درمیان جو منزلیں ھیں میں چاھتا تھا تمھارے ساتھ بسر کروں یہی کل اثاثہ زندگی ھے اِسی کو زادِ سفر کروں کسی اور سمت نظر کروں تو دعا ...

مزید پڑھیں »

اداریہ سنگت نومبر 2020

کٹھور دائرہ ٹوٹ رہا ہے وہ بَلا ،جو دوسو برس قبل یورپ کے سروں پر منڈ لا رہی تھی، وہ اب پاکستان کے حکمران طبقات کے کمپاﺅنڈ میں لینڈ کرچکی ہے ۔ حکمران طبقات پہ قیامت آئی ہوئی ہے ۔ اُن کے فکری ذخیرے لمحہ بہ لمحہ سکڑتے جارہے ہیں۔ ...

مزید پڑھیں »

بندہ مزدور کی سلگتی آنکھیں!

سوا نیزے پہ سورج، چلچلاتی دھوپ، مانو آسمان سے آگ برس رہی ہو لیکن کاروبار حیات موسموں کا مرہون منت تو نہیں ہوا کرتا۔ اپنے پرسکون، نیم تاریک اور خنک آمیز گھر کے دروازے سے نکل کے گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے لو کے تھپیڑے چہرے سے ٹکراتے ہیں۔ اونگھتا ...

مزید پڑھیں »

کُجا ہستی؟

تصویریں بولتی ہیں ظُلم کی اور شقی اُلقلبی کی ایسی داستانیں سُناتی ہیں کہ کلیجہ پھٹنے لگتا ہے اِن میں لکھا درد ہڈیوں میں سرسراتا ہے یہ درس گاہ ہے یا قتل گاہ ہے؟ فرش پہ بہتے لہو کی لالی کہہ رہی ہے سفّاکیت کی حد کوئی نہیں ہے میں ...

مزید پڑھیں »