ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : نومبر 2020

جنم  دن کا بوجھا

    خلاوں تک پھیلے ہوئے خواب کا بوجھ ہے مٹی سے قبریں بنائی جائیں یا تختیاں لیپی جائیں نام تو تمہارا ہی گودا جائے گا خالی تکیوں پر پڑی خاموش سلوٹیں اور وقت کی جلد پر پڑی خراشیں میری شناخت کو دفن کرنے ٓا ئی  ہیں کمال تو یہ ...

مزید پڑھیں »

جنم  دن کا بوجھ

  خلاوں تک پھیلے ہوئے خواب کا بوجھ ہے مٹی سے قبریں بنائی جائیں یا تختیاں لیپی جائیں نام تو تمہارا ہی گودا جائے گا خالی تکیوں پر پڑی خاموش سلوٹیں اور وقت کی جلد پر پڑی خراشیں میری شناخت کو دفن کرنے ٓا ئی  ہیں کمال تو یہ ہے ...

مزید پڑھیں »

نظم

  تمنا کی وسعت کی کس کو خبر ہے محبت اور اس کی سبھی نرم شاخیں گزشتہ صدی سے بدن کی رگوں میں نمو پارہی ہیں تمنا کی ترشی زباں سے حلق تک گھلی جارہی ہے نظر اور حدِ نظر تک نظارے کہیں بہتے جھرنے، کہیں ابر پارے تیرے نام ...

مزید پڑھیں »

غزل

  لہو سے میں نے سینچی ہے جو سوچی بھی نہیں تو نے جو دنیا میں نے دیکھی ہے وہ دیکھی ہی نہیں تو نے دکھائی دینے لگتے ہیں وہ منظر جو نہیں منظر فلک کی نیلی چادر کیا کبھی کھینچی نہیں تو نے بہت اوپر سے مجھ کو دیکھتا ...

مزید پڑھیں »

خودی

میری ذات ذرہ ذرہ میری ذات کرچی کرچی مجھے یوں ہے جو بکھیرا کہ سمٹ گیا جسم میرا زباں جو لب کشا ہوئی تو دن میں رات بین کرتی جو میں موندھ لوں یہ آنکھیں رات اندھیرے میں مچلتی اری سیاہ کار او بے خبر بنے تو جو میری چارہ ...

مزید پڑھیں »

میر عبداللہ جان جمالدینی کی یاد میں

میرے ساتھی، میرے اُستاد ، میرے مُحسن ۔۔۔ مجھے اپنی نوجوانی بلکہ لڑکپن سے ہی اپنی زبان سے گہرا لگاؤ تھا۔ یہ تقریباً1954 یا1955 کا زمانہ تھا جب میں15 یا 16 برس کا تھا۔ ماہنامہ ’’ اومان‘‘ باقاعدگی سے پڑھنے بلکہ کبھی کبھار اس میں لکھنے کی ’’ مشق‘‘ بھی ...

مزید پڑھیں »

ایک سندیسے کی آس میں

ایک سندیسے کی آس میں ۔۔۔  علی بابا تاج منڈیروں پہ پنچھی جب سے چلنا بھول گئے اڑنا بھول گئے اجلے دن میں دیر تلک کیا رہنا تھا اک منظر جو آنکھ میں اترا بے شکلی میں اک آواز تھی بوسیدہ وقت کے پہلو میں سو وہ بھی سورج پار ...

مزید پڑھیں »

تیزاب اور عورت کا چہرہ

  کوئٹہ شہرہے صوبائی حکومت کادارالحکومت ۔ بروری روڈ کے بھرے بازار میں دن دہاڑے ٹیوشن پڑھا کر گزارہ کرنے والی ایک یتیم بچی کو ماں کے ساتھ آگ جیسے جھلسا دینے والے تیزاب کی بارش سہنی پڑی۔ ہمارے سماج کے بارے میں دانشوروں کے بڑے بڑے بول ایک بار ...

مزید پڑھیں »

حملہ

شب کے شب خون میں اک تیرہ شبی کا خنجر دہر کے سینہِ بیدار میں حسبِ معمول وار بھرپور تھا ؛ پیوست ہوا قبضے تک رو کے خاموش ہوئی گنبدِ مسجد میں اذان میوزیم میں کہیں اوندھی گری گوتم کی شبیہہ نے شکستہ ہوئی ؛ نوحے تھے نہ نغمے باقی ...

مزید پڑھیں »