ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : نومبر 2020

نزار قبانی

روشنی لالٹین سے مقدّم ہے روشنی لالٹین سے مقدّم ہے نظم ڈائری سے زیادہ اہم ہے اور بوسہ لبوں سے زیادہ قیمتی ہے تمہارے نام میرے خط ہم دونوں سے زیادہ عظیم بھی ہیں اور مقدم بھی صرف یہی وہ دستاویز ہیں جہاں لوگ تلاش کرسکیں گے تمہارا حسن اور ...

مزید پڑھیں »

یہ دنیا

ﯾﮧ ﻣﺤﻠﻮﮞ ﯾﮧ ﺗﺨﺘﻮﮞ ﯾﮧ ﺗﺎﺟﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﯾﮧ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﮐﮯ ﺩﺷﻤﻦ ﺳﻤﺎﺟﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﯾﮧ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﮯ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﺭﻭﺍﺟﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﮔﺮ ﻣﻞ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ؟ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺟﺴﻢ ﮔﮭﺎﺋﻞ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺡ ﭘﯿﺎﺳﯽ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺠﮭﻦ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ...

مزید پڑھیں »

غزل

مَکیں اِدھر کے ہیں ، لیکن اُدھر کی سوچتے ہیں جب آگ گھرمیں لگی ہو، تو گھر کی سوچتے ہیں کہ جب زمین ہی سَیلِ بَلا کی زَد میں ہو تو پِھر ثَمر کی نہیں ، پِھر شَجر کی سوچتے ہیں اُڑے توطَے ہی نہیں کی،حَدِّ آشیاں بَندی اَب اُڑ ...

مزید پڑھیں »

صدیوں کی غلامی نسلوں کا المیہ (پوسٹ ٹرامیٹک سلیو سنڈروم)

ایسا نہیں کہ تاریخ کی کوکھ سے خوشیوں نے کبھی جنم ہی نہیں لیا۔ لیکن مسرتوں کے لمحات اکثر وقت کی ڈیوڑھی پہ اپنا نشان ثبت کیے بغیر سرعت رفتاری سے گذر جاتے ہیں ۔ ٹھہرجانے والے تو دکھ اور اذیت کے لمحات ہوتے ہیں جو تاریخ کے سینے پہ ...

مزید پڑھیں »

وچھوڑا

روح دا در کھلیا سی آس دی کنڈی پجی سی دل شور سنیا دھک دھک داب لکی پا،باری توں تکیا تیری یاد دا تاج سر تے سجاے اداسی وال کھلارے روندی جائے اتھرو اداسی دے ڈگڈے جاندے دوارے لگیا زنگ، دھوندے جاندے دل میرے نے شکوہ پایا بکل ماری، باری ...

مزید پڑھیں »