ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : نومبر 2020

کُجا ہستی؟

تصویریں بولتی ہیں ظُلم کی اور شقی اُلقلبی کی ایسی داستانیں سُناتی ہیں کہ کلیجہ پھٹنے لگتا ہے اِن میں لکھا درد ہڈیوں میں سرسراتا ہے یہ درس گاہ ہے یا قتل گاہ ہے؟ فرش پہ بہتے لہو کی لالی کہہ رہی ہے سفّاکیت کی حد کوئی نہیں ہے میں ...

مزید پڑھیں »

روزنِ سیاہ

اُس طرف دائمی نیند تھی ایک بھیدوں بھری رات اور اک صدا تھی جو سارے جہاں کو پکارے چلی جا رہی تھی بھڑکتی ہوئی آگ بھی اور اڑتی ہوئی خاک بھی اشک اور قہقہے نرم سانسوں کی حدت چمکتی ہوئی دھوپ بہتی ہوئی بدلیاں رنگ، خوشبو، ہوائیں سبھی ایک تاریک ...

مزید پڑھیں »

مجھے بھی جلا دو شاعر

حکومت نے اعلان کیا کہ خطرناک باتوں کا پرچار کرنے والی کتابیں سر عام جلا دی جائیں کتابیں گاڑیوں میں لاد کر لائی گئیں اور چوک میں اُن کا ڈھیر لگا دیا گیا ایک جلا وطن شاعر نے جو اِس ملک کے سب سے اچھے شاعروں میں شمار ہوتا تھا ...

مزید پڑھیں »

قافلے کی گھنٹی!

کتاب کا نام :سائیں کمال خان شیرانی مصنف: ڈاکٹر شاہ محمد مری مبصر: عابدہ رحمان سرسبز وشاداب، چشموں کی جھنکار اور بارش کی رم جھم برستے بادلوں کے شین مرغزارٹھنڈے میٹھے علاقے، شنہ پونگہ، میں دنیائے فکرو فلسفہ اور انسانیت کے آسمان پرایک ایسا ستارہ طلوع ہواکہ جس کی روشنی ...

مزید پڑھیں »

تم دھیرے دھیرے مرنے لگتے ہو

‎تم دھیرے دھیرے مرنے لگتے ہو ‎گر سفر نہیں کرتے ‎گر مطالعہ نہیں کرتے ‎گر زندگی کی آوازیں نہیں سنتے ‎گر خود کو نہیں سراہتے ‎تم دھیرے دھیرے مرنے لگتے ہو ‎جب خود توقیری کو قتل کرتے ہو ‎جب دوسروں کو اجازت نہیں دیتے ‎کہ وہ تمہاری مدد کر سکیں ...

مزید پڑھیں »

شئیر

روئے تئو پہ چے بوذناں بر کنئے نمب و ھشکاوغی٘ں ڈیہئے انڑزاں مزیر دلگرانی ڈغارو وتنئے منی کُل گہیں مردمانی ترا بار بنت تئو اے بارا مہ زیر بارے ئا گھوئی یے کن و دھیاں کں پذا پیلوی٘ں اُستمانے تئی رنداں پذا بریں بھانڑاں پذا گریوغی٘ں ڈلکغی٘ں ھڈکغیں ریشغی٘ں موتیاں ...

مزید پڑھیں »

گِل کدہ (مہرگڑھ)

یہ زندگی بھی مسافتوں کا عجیب سا ایک سلسلہ ہے یہ ایک بے انت فاصلہ ہے رواں دواں پھر بھی قافلہ ہے یہ گِل کدہ جو مہک رہا ہے صدا و صوت و نوا و نغمہ کی دھڑکنوں سے کبھی اس امروز کا کوئی خوشگوار دیروز بھی ہوا تھا کتابِ ...

مزید پڑھیں »

۔۔۔۔

جوگ بجوگ کی باتیں جھوٹی، سب جی کا بہلانا ہو پھر بھی ہم سے جاتے جاتے ایک غزل سن جانا ہو ساری دنیا عقل کی بیَری، کون یہاں پر سیانا ہو ناحق نام دھریں سب ہم کو، دیوانا دیوانا ہو نگری نگری لاکھوں دوارے، ہر دوارے پر لاکھ سخی لیکن ...

مزید پڑھیں »

مَیں

پنجرے کا دروازہ جب ٹوٹ جائے اُڑنا آ ہی جاتا ہے وہ قیدی پرندہ جُل مرا ہے اُس کی کوئی قبر نہیں ہے کوئی کتبہ نہیں ہے جس قبر میں تُم نے اُسے سُلانا تھا وہ قبر اب ویراں رہے گی تُم وہاں تنہا رہو گے تُم اُسے چاہ کر ...

مزید پڑھیں »