جنم  دن کا بوجھ

 

خلاوں تک پھیلے ہوئے

خواب کا بوجھ ہے

مٹی سے قبریں بنائی جائیں

یا تختیاں لیپی جائیں

نام تو تمہارا ہی گودا جائے گا

خالی تکیوں پر پڑی خاموش سلوٹیں

اور وقت کی

جلد پر پڑی خراشیں

میری شناخت کو دفن کرنے ٓا ئی  ہیں

کمال تو یہ ہے کہ

لوگ خواب دکھاتے ہوئے بھی

خواب رہ جانا چاہتے ہیں ۔۔۔

 

اور میں

کہیں پر بھی رہتے ہوئے

صرف ایک خواب میں

ریشم کے کیڑے کی طرح خود کو

لپیٹ کر مارتی جا رہی ہوں ۔۔۔۔؟؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*