گھنٹی

رات کے اندھیرے میں
بلب کی ملگجی زرد روشنی میں
ہر چھت میری سوچ کی طرح
کفن جیسی سفید چادر میں لپٹی
اُداسیوں میں ڈوبی ہوئی ہے
اندھیرا سب کچھ چُھپا لیتا ہے
تو
اُداسی بھری سفیدی کیوں نہیں چُھپتی؟
ہُو کے عالم میں
سنسان راستے پہ
قدموں کی چاپ سُن کر
ڈر کیوں لگتا ہے؟
بند دروازے پہ دستک سے
خوف روح میں سرسراتا ہے
آنکھوں کے پردے پر
کئی شبیہیں اُبھرتی ہیں
ہاتھ پکڑ کر روکتی ہیں
مت کھولنا
اجنبی ہے
خیال ہے گمان ہے
گماں اور بد گُمانی میں
صرف چند قدم کا فاصلہ ہے
اندر آ گیا تو واپس نہ جائے گا
بڑھتے قدم زمیں پہ جم سے جاتے ہیں
میں سہم کر کوئی آہٹ نہیں کرتی
مُبادا سُن نہ لے۔۔۔۔۔
پھر فون کی گھنٹی بجتی ہے
بھاری سانسوں کی آواز آتی ہے
لائنوں میں کھڑکھڑاہٹ ہے
اس شور میں
آوازیں گُم ہو جاتی ہیں
دونوں وہ کہہ نہیں پاتے
جو
اِ ک دوسرے سے سُننا چاہتے تھے
اور لائن منقطع ہو جاتی ہے
میں سوچتی ہوں
کیا رابطہ منقطع ہو جانے سے
دِلوں کا ربط بھی ٹوٹ جاتا ہے؟
باہر ڈھیروں برف پڑی ہے
تو یہ کھڑکی کیوں سُلگتی ہے؟
گماں کو بھولنے میں
کتنا وقت لگتا ہے؟
وہ تو صبح تک بھول جائے گا
یادوں کے تکیئے پر
جاگتی آنکھ سو نہیں سکتی
یہ گھنٹی بھی تو اِک گُمان ہے
یہ بھی تو
ہر اِک لمحے دماغ کے اندر بجتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

24th November 2020

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*