گوادر کے ماہی گیر

گوادر کے ماہی گیروں کے لیے روزی کمانے کے سارے راستے بند کیے جارہے ہیں۔کبھی کسی ایکسپریس وے کی تعمیر کے بہانے ، کبھی کوئی اور عذر بناکر۔ صدیوں سے ماہی گیری ہی اِن محنت کشوں کاآبائی پیشہ اور بچوں کے زندہ رکھنے کا وسیلہ رہی ہے ۔ سی پیک وغیرہ کے کسی بھی بہانے سے انہیں سمندر سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔اور اگر ’’ترقی ‘‘ کے بغیر سرکار کے پیٹ کا درد دور نہیں ہوتا تو پھر یوں کیا جائے کہ تالاب تک نہ رکھنے والے علاقے سے لوگوں کو گوادر میں بسانے کے بجائے انہی سمندری اشرف انسانوں کو سمندری نوکریاں دی جائیں۔۔۔ اور بڑی نوکر یاں ۔ اس لیے کہ سمندر کے بارے میں ہر طرح کی معلومات اِن کی جینز میں شامل ہیں۔

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*