اشفاق سلیم مرزا

دل کے جینے کے بہانے کے سوا اور نہیں
مرزا صاحب اپنے قریب آتے ہوئے اختتام سے بخوبی آگاہ تھے۔ قریبی دوستوں، رشتے داروں اور عزیزوں کی موت اور عمر کے احساس نے اُنھیں ذہنی طور پر تیار کر رکھا تھا، جیسا کہ کوئی بھی باشعور شخص تیار ہوتا ہے۔ وہ اکثر بادلوں بھری شام، خنکی اور گرمی کی خبر فیس بک پر دیا کرتے تھے۔ کبھی کبھی اختتام ہفتہ کی نظم اور ’’بیوٹی آف دی وِیک‘‘ کے طور پر کسی گداز بدن، سانولی، گیلی ساڑھی اور بھرے بھرے کولھوں اور چھاتیوں والی لڑکی کی تصویر بھی لگایا کرتے تھے۔ اکثر وہ سیاست، انقلابی و نظریاتی جدوجہد کے حوالے سے اپنا اخذ کردہ کوئی حتمی نتیجہ بھی پیش کرتے تھے۔ اپنی شائع کردہ کتب کی تصاویر بھی لگائیں، اور اپنی نظر میں قابلِ غور اقتباسات کا عکس بھی۔
سبھی کی طرح وہ بھی موت سے خوف زدہ تھے، اور اُنھیں آہستہ آہستہ اپنی گرفت ڈھیلی پڑتی محسوس ہوتی تھی۔ اس کے باوجود وہ مایوس ہونے کی بجائے آخری دن تک زندگی کے ساتھ بھرپور طریقے سے چمٹے رہے۔ اُنھوں نے قدم ہمیشہ پیچھے ہٹانے کی بجائے آگے ہی بڑھایا۔ مرد اور عورت دوستوں سے قربت کی خواہش، محفلوں میں جانا، اپنی بساط کے مطابق کچھ نہ کچھ لکھنا، اگر کچھ پڑھا ہے تو اُسے شیئر کرنا، ٹیلی فون پر لمبی بات کرنا، اپنے کیے ہوئے کام پر فخر، اپنی کمائی ہوئی یا دستیاب دولت کی تسکین، رشتے داروں سے میل جول، اور اپنی موجودگی کا احساس…… ہم اپنی زندگی کو جتانے کے لیے یہی سب کچھ تو کرتے ہیں۔ اشفاق سلیم مرزا بھی یہی سب کرتے رہے۔
ہر دو چار ماہ بعد خود ہی فون کر لیا کرتے تھے۔ کبھی کوئی اصطلاح ڈسکس کرتے، کبھی کسی اصطلاح کے ترجمے پر بات کرتے۔ جتنی دیر بھی بات ہوتی کافی جوش اور تسلسل سے ہوتی۔
کوئی دو سال پہلے اسلام آباد گیا تو نوشابہ شوکت نے کہا کہ چلیں اشفاق صاحب سے ملنے چلتے ہیں۔ ہم زیرو پوائنٹ کے قریب گاڑی میں بیٹھ کر کچھ دیر بحث کرتے رہے۔ نوشابہ کا کہنا تھا کہ ضرور ملو، میں نہ ملنے کے بہانے کر رہا تھا۔ آج خوشی ہے کہ نوشابہ کی رائے غالب آئی۔
جب ہم اور آپ مریں گے تو باقیات میں کیا کچھ ہو گا: چند پڑھی ہوئی کتابیں، جلد ملاقات کے کیے ہوئے کچھ وعدے، اپنی لکھی ہوئی کچھ چیزیں، کسی حسین چہرے کے ساتھ ایک مرتبہ پھر تصویر اتروا کر فیس بک پر لگانے اور کمنٹس میں لوگوں کے رشک و حسد پر خوش ہونے کی خواہش، فون میں جمع کردہ کچھ نامعلوم گیلے، سانولے اور گداز جسموں کے عکس، کچھ نہ مل پائے لوگوں سے ملنے کی معلق کسک……۔
یہ غیرمرئی ورثہ ہم سب کا ہو گا، اشفاق صاحب کا بھی ورثہ یہی ہے۔ لیکن اُنھوں نے زندگی بھر جمع کی ہوئی گراں قدر کتب اور اچھی یادیں بھی چھوڑی ہیں۔ یہ کتب تو جانے کہاں جائیں گی، کس کباڑیے تک پہنچیں گی، لیکن اُن کی یادوں کی ہم دو چار دن تک جگالی کریں گے اور پھر اگلے سال 23 نومبر کو ذکر کریں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*