فہمیدہ ریاض: فرخزاد سے شہرزاد تک

ساٹھ کی دہائی میں اپنی اثر انگیز تانیثی شاعری کے لئے معروف ایرانی خاتون شاعر فروغ فرخزاد کی زندگی کا چراغ گل ہوا، جب وہ تینتیس برس کی عمر میں ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئیں، لیکن اپنی مختصر عمر میں انہوں نے شعر و ادب کی تانیثی روایت پر جو اثرات چھوڑے وہ آج بھی قائم ہیں، اور یہ محض اتفاق نہیں کہ انہی زمانے میں اردو مجلّے فنون کے صفحات پر اردو ادب میں ایک ایسی ہی توانا نسائی آواز ابھر رہی تھی جس نے اگلے پچاس برسوں میں اپنے طرز اظہار سے نئی روایات قائم کرنی تھیں، اور سماجی و سیاسی سطح پر نسائی اظہار کے طے شدہ سانچوں کو توڑتے چلے جانا تھا، یہ آواز فہمیدہ ریاض تھی، جن کے شعری مجموعے ’پتھر کی زبان‘ نے ویسا ہی تلاطم پیدا کیا جیسا عصمت چغتائی نے فکشن کے میدان میں پیدا کیا اور جیسی ان کی پسندیدہ خاتون شاعر فروغ فرخزاد نے فارسی شاعری میں پیدا کیا تھا، اور یہ کتاب بھی اسی سن میں چھپی جب فروغ فرخزاد کا انتقال ہوا۔

اپنی پہلی کتاب کے لئے فہمیدہ ریاض نے عام ڈگر سے ہٹ کر غزل کے بجائے نظم کا میدان چنا، جس کی وجہ انہوں نے خود یہ بتائی کہ وہ قافیے اور ردیف کےلئے شاعری نہیں کرنا چاہتیں، لیکن شاید ایک وجہ غزل کی روایت اور اس کے موضوعات بھی تھے کہ وہ ’عورتوں سے باتیں کرنے‘ کی نہیں، عورتوں کی بات کرنے کے لئے شاعری کر رہی تھیں۔

پتھر کی زبان سے شروع ہونے والا سفر چلتا گیا، اور 1973 میں ان کا دوسرا مجموعہ ’بدن دریدہ‘ شائع ہوا، جس کے شروع میں انہوں نے زندگی کی کشمکش اور تاعمر جنگ میں رہنے کی کیفیت، اور اپنے ناقدوں کی بیباکی و بلند آہنگی پر اعتراضات کے بارے میں لکھا، ’’جب جاں سے گزرنا ہی ٹہرا تو سر جھکا کر کیوں جائیں، کیوں نہ اس مقتل کو رزم گاہ بنا دیں۔ آخری سانس تک جنگ کریں، سو میں نے بھی اپنی گردن جُھکی ہوئی نہیں پائی، میری نظمیں جو آپ کے سامنے ہیں، ایک رجز (میدان جنگ میں پڑھے جانے والے اشعار) ہیں، جسے بلند آواز سے پڑھتی ہوئی میں اپنے مقتل سے گزری، اس لحاظ سے ’بدن دریدہ‘ ایک رزمیہ ہے۔ اسے پڑھ کر اگر لوگ چونکے تو کیا برا ہوا‘‘۔

اعتراض کرنے والوں نے ان کی شاعری کے ساتھ وہی برتاؤ رکھا جو عصمت چغتائی کے لکھے ہوئے فکشن سے روا رکھا، لیکن فہمیدہ آپا کو کسی کے تیور پر بل پڑنے کی کب پروا تھی، وہ نظمیں لکھتی رہیں، لفظ بُنتی رہیں، اور صرف لکھا نہیں، بلکہ تبدیلی کے اس خواب کو پلکوں میں لے کرعملاً میدان کارزار میں اتریں، آمریت کو چیلنج کیا، ضیاء کے زمانے میں وہ ایک مجلّے ’آواز‘ کی مدیر تھیں، جب وہ مارشل لاء انتظامیہ کا حلق کا کانٹا بنا، تو فہمیدہ آپا کو سات سال جلا وطنی میں کاٹنا پڑے، اپنی ایک نظم ’انقلابی عورت‘ کی ابتدا وہ کچھ یوں کرتی ہیں۔

رن بھومی میں لڑتے لڑتے میں نے کتنے سال

اک دن جل میں چھایا دیکھی چٹے ہو گئے بال

پاپڑ جیسی ہوئیں ہڈیاں جلنے لگے ہیں دانت

جگہ جگہ جھریوں سے بھر گئی سارے تن کی کھال

اور اس دوران نہ انہوں نے کسی فرسودہ روایت کو پیروں کا بندھن بننے دیا، اور نہ ہی جدید دور کی عورت کے جسم کی کموڈیفیکیشن کو آڑے ہاتھوں لینے سے باز آئیں، جب عالمی سطح پر کثیر القومی کمپنیوں کے سرمائے سے مقابلہ ہائے حسن کے نام پر بازار لگا، جس میں عورتوں کے جسم کے پیمائش کی جائے اور شناختی پریڈ منعقد ہو، تو فہمیدہ آپا نے ان لوگوں کے دماغ کی پیمائش کا مطالبہ کرڈالا، ’مقابلہ ء حسن‘ کے نام سے اپنی نظم میں کہا ۔ ۔ ۔

کولھوں میں بھنور جو ہیں تو کیا ہے

سر میں بھی ہے جستجو کا جوہر

تھا پارۂ دل بھی زیر پستاں

لیکن مرا مول ہے جو ان پر

گھبرا کے نہ یوں گریز پا ہو

پیمائش میری ختم ہو جب

اپنا بھی کوئی عضو ناپو

ان کی شاعری کے فروغ فرخزاد سے موازنے کی ایک وجہ ان کی طرف سے نوّے کی دہائی میں فروغ فرخزاد کی نظموں کا کیا جانے والا منظوم ترجمہ بھی ہے جو ’کھلے دریچے سے‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوا، ان نظموں کو پڑھتے سمے ایک لحظہ کو بھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ فمہیدہ آپا کی اپنی شاعری سے یہ خیالات ذرہ برابر بھی مختلف ہیں، وہی جذبات، وہی کیفیات، جس میں شریک سب ہوں لیکن اسے عورت کی زبان سے سننے کا کوئی روادار نہ ہو۔

یہ انہی دنوں کی بات ہے جب کراچی بدترین لسانی تشدد کی لپیٹ میں تھا، ایم کیو ایم کے خلاف ریاستی آپریشن جاری تھا، اور دونوں طرف سے تشدد اور قتل و غارت گری میں کوئی حد کوئی ضابطہ آڑے نہیں آ رہا تھا، فہمیدہ آپا نے قلم اٹھایا، اور سہ ماہی اردو مجلّے ’آج‘ کے خصوصی شمارے ’کراچی کی کہانی‘ کےلئے ’کراچی‘ کے نام سے ناول لکھ دیا، جو اس شہر کا نوحہ تھا۔ یہ ناول ’کراچی کی کہانی‘ کے دوسرے حصہ میں شامل تھا، جو ہمارے ارد گرد موجود کرداروں اور سیاست کاروں کی سیاست گروں اور ان کے ہاتھوں محصور لاکھوں لوگوں کی ہزار داستان تھا، اور فہمیدہ آپا نے الف لیلٰی کی شہرزاد کی طرح وہ سب داستانیں کہہ ڈالی تھیں، تاکہ محصورین کو نہ سنے جانے کا شکوہ نہ ہو، اور محاصرہ کرنے والے اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ سکیں، اور شاید شہر کو رہائی ملے۔

فہمیدہ آپا کی قدآور شخصیت کے سامنے خیر کسی کا چراغ کیا جلتا، انورسن رائے نے ان کی موت پر کہا کہ معاصر ادیبوں میں سب سے معتبر نام آج رخصت ہوا، ذاتی طور پر مجھے ان کے ساتھ اس وقت اسٹیج شیئر کرنے کا اعزاز ہوا، جب چار سال قبل مجھے صوفی ازم کے ہمارے معاشروں پر اثرات کے حوالے سے ایک سیمینار میں بات کا موقع ملا۔

ایک دوست نے رابطہ کیا کہ کراچی کی ایک تنظیم اس موضوع پر سیمینار کر رہی ہے اور ان کو ایک پشتون اسپیکر درکار ہے، جو پشتون سوسائٹی میں صوفی ازم کے کردار اور اثرات پر بات کرے۔ دن کم ہی بچے تھے، اور کسی کو پختونخوا سے بلانا ممکن نہ تھا، سو میں نے خود بات کرنے پر رضامندی ظاہر کردی۔ مقررہ دن اور وقت پر پرل کانٹینینٹل جا پہنچا، دیکھا تو مقررین میں نذیر لغاری، ہما بقائی، اور فہمیدہ ریاض ہیں، میں تھوڑا نروس ہوا، لیکن کم علمی اور جہالت کا ایک خاصہ یہ ہے کہ بندہ اوور کانفیڈنٹ ہوتا ہے۔

بات شروع ہوئی تو اندازہ ہوا کہ اکثر مقررین بڑی لگی بندھی، روایتی سی باتیں کئے جا رہے ہیں، البتہ فہمیدہ آپا نے ایک لکھا ہوا مقالہ پڑھا، پھر میری باری آئی تو میں نے وزریستان کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے پیر روشن سے بات شروع کی، ان کی وسیع المشربی، وحدت الوجود سے وابستگی، اور پشتو زبان کے حوالے سے ان کے درخشاں کردار سے بات لی اور مغلوں سے ان کے مناقشے میں پیربابا آف بونیر، اخوند درویزہ وغیرہ جیسے صوفیاء کے کردار اور موخرالذکر کی پیرروشن سے مخاصمت پر تنقید بھی کی۔

زمین کی تقسیم اور عورتوں کے وراثت میں حصے سے محرومی پر بھی اس وقت کے اہل مذہب اور صوفیوں کے کردار پر بھی بات کی، اور ان کی اکثریت کے سیاسی بالادست قوتوں سے گٹھ جوڑ اور مرد شاہی نظام کی حفاظت کے لتّے بھی لے لیے۔ بہرحال پاکستانی انٹیلی جنسیا کے ممدوح سیکولرمغل بادشاہ اکبر اعظم کے دور میں پیر روشن کے خلاف لڑائی میں مذہبی بنیادوں پر پراپیگنڈہ کرنے کی بات بھی آگئی، شاید گفتگو کا یہ زاویہ منتظمین کو پسند نہ آیا، پرچی بھیجی گئی، اور مجھے بات ختم کرنی پڑی۔

وقفہ ہوا تو پہلی قطار میں بیٹھی فہمیدہ ریاض آپا نے اشارہ کرکے مجھے اپنے پاس بلالیا، اور پوچھا، جو باتیں آپ نے کی ہیں، میرے لئے اکثر نئی تھیں، کوئی ایسی تحریر نظر سے نہیں گزری، میں نے گلہ کیا کہ لوگ پڑھتے نہیں ہیں، اور پشتونوں کے بارے میں اسٹیریو ٹائپس دہراتے جاتے ہیں۔ آپا زیر لب مسکرائیں اور میرے کندھے پر تھپکی دے کر کہا، میں پڑھوں گی۔

  1. بعد میں مجھے اپنے طرز گفتگو پر شرمندگی بھی ہوئی، کچھ عرصے بعد ان کی شاعری کا ایک انتخاب نظر سے گزرا تو اس میں رحمان بابا کے مزار پر دہشت گرد حملے پر ان کی نظم پڑھی، شرمندگی اور گہری ہوگئی، لیکن فہمیدہ آپا کا چہرہ یاد آجاتا، جس پر ناراضگی یا ناپسندیدگی کا شائبہ بھی نہیں تھا، جسے یاد کرکے شکر گزاری اور احترام کے جذبات آجاتے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*