انگریز راج میں بلوچستان کی زراعت

انگریزوں نے جب بلوچستان پر چڑھائی کی تو وہ سندھ کے راستے جیکب آباد سے نصیرآباد، بیل پٹ ہوتے ہوئے سبی کے میدانی علاقے میں داخل ہوگئے۔ اور سبی جیکب آباد ریلوے لائن بچھانے کا آغاز کردیا۔ انتظامی امور کے لئے انگریز نے بولان، نوشکی سمیت نصیرآباد کا علاقہ والی قلات خدادا خان سے لیز پر لے لیا۔

۔1877 میں انگریز سرکار نے افغانستان اور ریاست قلات سے حاصل کئے گئے علاقوں بشمول نصیرآباد کو برٹش بلوچستان کے نام سے انتظامی یونٹ بنایا۔ موجودہ نصیرآباد ریجن دو حصوں پر مشتمل تھا۔ چھتر اور تمبو کچھی کا حصہ تھے۔ موجودہ ضلع صحبت پور اور جعفرآباد نصیرآباد کہلاتے تھے۔ 1903 میں سبی ضلع بننے کے بعد دیگر علاقوں کی طرح نصیرآباد بھی ضلع سبی کا حصہ بنا۔ 1932 میں نصیرآباد کو سب ڈویڑن کا درجہ دیا گیا اور اس کا ہیڈکوارٹر جھٹ پٹ کو بنا دیا گیا۔

ضلع سبی کے قیام سے پہلے نصیرآباد برگیڈیئر جان جیکب کی نگرانی میں تھا۔ انگریز سرکار نے کشمور کے مقام سے زرعی مقاصد کے لئے بیگاری کے نام سے ایک غیر دائمی نہر کھدوائی۔ اس نہر کی ٹیل سے نور واہ کے ذریعے نصیرآباد کے کچھ علاقے بھی سیراب ہونا شروع ہوئے۔ اس کے بعد گڈو ہی سے شاہی واہ نکالی گئی۔ شاہی واہ اور اس کے ذیلی شاخوں اوچ اور مانجوٹھی شاخ سے نصیرآباد کے علاقے ملگزار سے جھٹ پٹ تک آباد ہونا شروع ہوئے۔ چتن پٹی سے لیکر جھل مگسی تک برٹش سرکار نے صرف پینے کے مقصد کے لئے اسے توسیع دی۔ دوسری طرف بیگاری واہ سے مغرب کی طرف گنداخہ اور گوٹھ غلام محمد جمالی کے علاقے آباد ہوئے۔

بیگاری واہ اور شاہی واہ غیر دائمی نہریں تھیں۔ خریف کے سیزن میں جب بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے دریا میں پانی زیادہ ہوتا تھا تو ان نہروں میں بھی کم مقدار میں پانی آتا تھا۔ اس لئے پانی دستیابی کی صورت میں پہلے تالابوں اور چراگاہوں کو بھرا جاتا تھا اس کے بعد انسانی خوراک کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کم پانی سے پیدا ہونے والی فصلیں کاشت کی جاتی تھیں۔ جن میں جو، جوار، تِل، باجرہ، سرسوں وغیرہ شامل تھے۔

۔1932 میں سکھر بیراج کی تکمیل کے بعد دریائے سندھ کے دائیں کنارے دادو اور رائیس کینال کے ساتھ کیر تھر کینال بھی نکالی گئی۔ جیکب آباد کے قریب مولاداد کے مقام پر کیرتھر کینال بلوچستان میں داخل ہوتی ہے۔ اسی نہر سے اوستہ محمد کا اندرون کا سارا علاقہ تقریبا“ مکمل طور پر آباد ہونا شروع ہوا۔

۔1929 میں اوستہ محمد میں ایریگیشن دفاتر اور کالونی بن چکے تھے۔ اس سے پہلے 1913 میں حیردین اور ہانبھی کے مقام پر دفاتر اور رہائشی کالونیاں بن چکی تھیں۔برطانوی راج کے ختم ہونے کے بیس سال بعد تک نصیرآباد آبپاشی معاملات سندھ سرکار کے پاس تھے۔ 1970 میں بلوچستان جب صوبہ بنا تو یہ کنٹرول بلوچستان کے پاس آیا۔ انگریز سرکار نے نصیرآباد کا سروے کرایا۔ اس کا تمام ریونیو ریکارڈ اور نقشہ جات وغیرہ خیرپور میرس سندھ میں موجود ہیں۔ اس ریکارڈکے مطابق نصیرآباد کا رقبہ 2397 مربع میل ہے۔

انگریز سرکار کے اس نہری نظام سے نہروں کے کناروں اور قرب و جوار میں انسانی بستیاں آباد ہوئیں۔ پہنور سنہڑی، مانجھی پور، حیردین، آدم پور، صحبت پور، درگی، گنداخہ، اوستہ محمد، غلام محمد جمالی، بکھرڑو، علی آباد، مراد علی، دمبڑی، باگڑ اور جروار کا بنیاد اس دور میں پڑا۔

ماہنامہ سنگت نومبر2020

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*