روزنِ سیاہ

اُس طرف دائمی نیند تھی
ایک بھیدوں بھری رات
اور اک صدا تھی جو سارے جہاں کو
پکارے چلی جا رہی تھی
بھڑکتی ہوئی آگ بھی
اور اڑتی ہوئی خاک بھی
اشک اور قہقہے
نرم سانسوں کی حدت
چمکتی ہوئی دھوپ
بہتی ہوئی بدلیاں
رنگ، خوشبو، ہوائیں
سبھی ایک تاریک روزن میں گرتے چلے جا رہے تھے
وہاں بھی گئے ہم
جہاں پھول تھے
اور گیتوں کے ٹکڑے دھرے تھے
مگر گانے والے پرندے پراسرار روزن میں گرتے چلے جا رہے تھے
جدھر چاند کو توڑ کر ایک ناؤ بنائی گئی تھی
ادھر چڑھتے دریا کی لہریں بھی روزن میں گرتی چلی جا رہی تھیں
وہ ساری زمینیں جہاں راستے، منزلیں اور سمتیں تھیں گرتی چلی جا رہی تھیں
وہ پُرہول ساعت، کٹھن ، سخت ، مشکل گھڑی تھی
بھلا ایسے عالم میں ہارے، تھکے دل کی گرتی ہوئی دھڑکنوں کی
کسے، کیا پڑی تھی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*