اداریہ سنگت نومبر 2020

کٹھور دائرہ ٹوٹ رہا ہے

وہ بَلا ،جو دوسو برس قبل یورپ کے سروں پر منڈ لا رہی تھی، وہ اب پاکستان کے حکمران طبقات کے کمپاﺅنڈ میں لینڈ کرچکی ہے ۔ حکمران طبقات پہ قیامت آئی ہوئی ہے ۔ اُن کے فکری ذخیرے لمحہ بہ لمحہ سکڑتے جارہے ہیں۔ ان کے عوام دشمن نظریات کی ترتیب روزبروز گڑبڑا رہی ہے۔ لگتا ہے بال صفا پاﺅڈر چھڑک کر سماج سے سماج دشمن جھاڑیاں صاف کی جارہی ہوں۔
پاکستانی سماج کو گذشتہ 70سالوں سے پچھل پا سماج رکھا گیا ہے ۔ یہ وطن سائنس کے لیے ممنوعہ علاقہ رہا ہے ۔ اسے مختلف برانڈز کی خانقاہستان بنا دیا گیاہے ۔ یہاں ہر بات کو ملّا زدہ پنجاب یونیورسٹی کی آنکھ سے تولا ناپاجاتا رہا ۔ ہمارا وطن بنیاد پرستی برآمد کرنے کا سب سے بڑا گڑھ رہا ہے ۔اس قدر کہ میکار تھی ازم ہماری فنڈا منٹلزم کے آگے ہیچ۔ ہم دنیا میں بنیاد پرستی کا سب سے بڑا ٹمپل بن گئے ۔ اور ہر مکتبہ فکر کی طرف اور ہر ذریعے سے انتہا پسندی کی بارودی سرنگیں ذہنوں میں پلانٹ کی جاتی رہی ہیں۔
بلوچستان ،خیبرپختونخواہ ، پنجاب میں احمد خان کھرل ،اور سندھ نے انگریز کے خلاف ہزاروں بچے قربان کر کے آزادی حاصل کرلی۔مگر اُس ساری جدوجہد کی تاریخ مٹا دی گئی اور کانٹا چُبھنے جتنا خون بھی نہ نکلنے والے لیاقت علی کو آزادی کا نمونہ بنا کر حکمرانی دی گئی۔ ہمارے شہید ، ہمارے ہیروز اور ہماری جنگ آزادی حرفِ غلط کی طرح مٹادی گئی اور ہمیں ایک ایسی تاریخ پڑھا دی گئی جس میں وطن دوستی اور سامراج دشمنی نام کو بھی موجود نہ تھی۔ اب ہم محض ہندو دشمنی پہ مبنی ایک ملک بنا دیے گئے ۔
ماوند و میر علی کے بچوں کے سکول کو اُن کے آبائی سامراج دشمنی کی تدریس سے محروم کیا گیا ۔ اور اُن کے بستے میں ایک گھڑا ہوا دو قومی نظریہ ڈال دیا گیا۔ نہ صرف دو قومی نظریہ ڈال دیا گیا بلکہ اُس کو ایمان کا حصہ بھی بنوا دیا گیا۔ کتنی جیلیں ، کتنے عقوبتی مراکز اِس بہانے سے آباد رکھے گئے ۔
پھر، اسی دو قومی نظریے کو ترقی دے کر ایک نیا لفظ ایجاد ہوا ، نظریہِ پاکستان ۔ اس کے خالقوں مالکوں تک کو معلوم نہیں کہ نظریہ پاکستان کیا ہے ۔ مگر دو قومی نظریہِ اور نظریہ پاکستان میں ایک مشترک بات ”بنیاد پرستی “کی رہی۔ اس بنیاد پرستی کی رسی کشمیر کے معاملے کے ساتھ مضبوطی سے باندھی گئی ۔ ہندوستان کے ساتھ جنگوں نے اس بنیاد پرستی کو جنگی ترانے، گانے، نعرے ، محاورے اور افسانے مہیا کر دیے ۔ نیٹ رزلٹ یہ کہ ایک ایسا نحوست بھرا دائرہ معرض وجود میں آگیا کہ اس کے ہرنقطے سے بنیاد پرستی بڑھتی اور مضبوط ہوتی گئی۔ ہماری ریاست نے پنجاب یونیورسٹی ، منصورہ اور نوائے وقت کی گھڑی ہوئی اس اصطلاح کے منکروں کو غدار اورکافر بنانے میں کبھی کنجوسی نہیں کی۔ سینکڑوں لوگ کافر بنائے گئے اور ہزاروں غدار۔ ملک بھر کی عقوبت گاہیں، جیلیں، پھانسی گھاٹ اور نامعلوم قبریں اس بنیاد پرستی کے میڈل ،یا ،گریہ گاہیں ہیں۔
دو قومی نظریہ (بعد میں نظریہ پاکستان) کے ساتھ ساتھ ایک اور معاملہ فلسطین کا بھی ابھراتھا۔ مذہب کے نام پر بننے والے ملک اسرائیل کا قیام یورپ اور امریکہ نے عملی اور حتمی کردیا۔ نتیجے میں فلسطین کی زمین سکڑتی گئی۔ اس سیاسی اور مذہبی معاملے نے پاکستان میں ماحول کو زبردست معاون دیکھا۔ ویسے بھی پاکستان میں جو بھی چیز آئی اُس کی سیاست کی دُم اور کان کاٹ دیے گئے اور صرف مذہبی حصے کو ہی عروج ملی۔ یہاں ملک کے باقی حصوں کی شمولیت بھی رہی لیکن اصل میں پنجاب یونیورسٹی اور اُس سے فارغ التحصیل لوگوں نے اس کا ٹھیکہ لیا اور ہر ادارے اور ہر شعبے میں اس مذہبی کارڈ کو خوب گہرا اگا دیا۔ رفتہ رفتہ اس معاملے کو سیاسی سے پیچھے ہٹا کر خالصتاً مذہبی بنادیا گیا ۔اب یہ خالصتاًیہود کے معاملے کے بطور، رہ گیا ۔ یوں یہ مذہبی معاملہ پاکستان کی داخلی اور خارجہ امور میں خوب استعمال ہوا۔
تیسرا معاملہ کمیونزم کا تھا جسے فنڈامنٹلزم کے فروغ کی بہت بڑی وجہ بنادیا گیا۔ امریکہ ، شاہ ایران، سعودی اور ہم نے مل کر سیٹو گری کی ،سنٹو سازی کی ،اور اسی کمیونسٹ خطرے کے نام پہ امریکہ، یورپ اور خلیج سے بہت پیسہ حاصل کیا۔ یہ پیسہ آئی ایم ایفی اثرات کے ساتھ تھا۔ قرض، سود، پالیسیوں میں غلامی اور ہمہ وقت کرائے پہ موجود۔ ہم گہرے گرتے گئے اور یوں روشنی کے ہر الیکٹرون کے دشمن بنتے گئے ۔ اِس کمیونسٹ دشمنی پہ مبنی بنیاد پرستی اُس وقت انتہا کو پہنچی جب افغانستان میں ترہ کی کی پارٹی اقتدار میں آئی۔ اُس کے بعد ہماری بنیاد پرستی کی ایسی سفاک صورتیں ابھریں جن کا دنیا اور اس کی تاریخ میں ثانی نہیں ملتا۔ ہمارا ہر ریاستی ادارہ اِس بنیاد پرستی کی ہیڈ کوارٹری کے لیے پاگل بنا رہا۔ پچاس سالہ لڑائی میں اِس فنڈامنٹلزم سے انفرادی طور پر ہزاروں پُر تشدد اموات ہوئیں۔ بات گلے کاٹنے، انگلیاں اعضا کاٹنے ،اورجنسی بے حرمتی کرنے سے بڑھتے بڑھتے ہجوم کو نشانہ بنانے میں تبدیل ہوئی ۔ ایسی بنیاد پرستی کہ تاریخ میں انوکھی ، اذیت ناک اور کثیر ہلاکت والی ہوگئی۔ یعنی کمیونزم اور افغان معاملہ ہمارے ہاں فنڈا منٹلزم کا تیسرا بڑا سبب و مقام بنے۔
جب ہم قعرِ مذلت کے پیندے سے جالگے اور مزید پستی موجود اور ممکن نہ رہی تو حالیہ چھ آٹھ ماہ میں ٹہراﺅ آتے آتے بنیاد پرستی کی اِن تینوں فیکٹریوں کو تباہ کرنے کا عمل شروع ہوا۔
اس کام کی ابتدا اُسی کپٹلسٹ دنیا نے کرائی جس نے یہ پاگل پن شروع کروایا تھا۔ اور ہماری ریاست کہیں خوشی سے اور کہیں ناکام دل کے ساتھ اِس کام میں ہاتھ بٹانے لگی۔FATFکی طرف سے پاکستان کو ”گرے لسٹ“ میں ڈال دیاگیا ۔ ”گرے لسٹ“ کا مطلب ہے ”دہشتگردوں کی فنانسنگ کرنے والے ممالک کی لسٹ“۔ ہمارے اوپری طبقات نے حسبِ سابق ڈبل گیم کھیلنے کی بہت کوششیں کیں۔ مگر فنانشل پیچیدگیوں سے آگاہ دنیا اُن کے ہر پینترے کو سمجھ کر اسے کاﺅنٹر کرتی رہی ہے۔ بنیاد پرستی اور بین الاقوامی تنہائی کے بیچ مخمصے میں رہ رہ کر اب ہمارا حاوی طبقہ رینگتے ہوئے بنیاد پرستی کے اپنے بنکرز بند کرتا جارہاہے ۔
بین الاقوامی کپٹلزم بہت نپے تلے انداز میں بہ یک وقت بنیاد پرستی کے تینوں مراکز کو نشانہ بناتا گیا۔ کشمیر ہندوستان کو دے دیا ۔ افغانستان سے ٹرمپ نے نہ صرف اپنی فوجیں نکال لیں بلکہ افغانستان کے متحارب فریقوں کے مذاکرات شروع کروائے ۔ اورپھر، ایک دن اچانک خلیجی ممالک اور سوڈان نے پاکستان میں موجود بنیاد پرستی کے تیسرے اور آخری سبب پہ کاری ضرب لگادی۔عرب لوگوں نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا، اُس سے تعلقات نارمل اور دوستانہ بنانے لگے ۔ اور یوں ضیا کے زمانے میں بھر پور طور پر کھلی ہوئی سعودی تجوریاں بھی آہستہ آہستہ قفل ہونے لگیں۔
چنانچہ ہنود، یہود اور کمیونزم تینوں کا معاملہ فنا ہوگیا۔ اور یہاں بنیاد پرستی ایک لمبے عرصے کے لیے جان کنی میں جانے لگی ہے۔
بنیاد پرستی کے اس خونی کھیل میں کافر بنانے اور غدار قرار دینے والا ہتھیار اداروں، بورژوا پارٹیوں اور حاکموں کے پسندیدہ ہتھیار تھے۔ غداری کا فتوی بنیاد پرستی، عسکریت، اور دہشتگردی کے فتوں کا ساتھی ہوتا ہے ۔ اور یہی باتیں سماج کو تباہ کر جاتی ہیں۔ حکمران کا خوف بالآخر نیچے عوام تک سرایت کر جاتا ہے ۔ ہر شخص انفرادی طور پر ایک چھوٹا خوفزدہ ڈکٹیٹر بن جاتا ہے۔ اسلحہ جمع کرتا رہتا ہے اور سٹیٹ ہی کی نقل میں خود کو چیلنج یا مخالفت سے بالا سمجھنے لگتا ہے ۔ پورا سماج ڈکٹیٹر شپ کے مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔یوں سماج کا فیبرک جمہوری عناصر سے خالی ہوتا جاتا ہے۔ جاہل، کرپٹ اور نااہل کی حاکمیت نچلی سطح سے لے کر ایوانِ صدر تک قائم ہوجاتی ہے۔ سماج تنزل کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔
دلچسپ یہ ہے کہ کافر بنانے کا فتوی تو پورے پاکستان کے لیے تھا مگر غداری صرف بیرونِ پنجاب استعمال کے لیے تھا۔ مگر موجودہ ہائبرڈ سلیکٹڈ حکومت اس حقیقت کو نہ سمجھ سکی۔ اُس ”عقلمند“نے غداری جیسے مہلک اور زور دار ہتھیار کو پنجاب کے اندر بھی استعمال کرڈالا ۔ نواز شریف ، اُس کی پارٹی کے لیڈروں اور اس پارٹی سے وابستہ ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں وزیروں ، وزیراعظموں کو غدار لفظ سے آلودہ کرنے کی کوشش کی ۔پنجاب میں بھی یہ فتوی کسی مزدور لیڈر پہ نہیں بلکہ بالائی طبقات سے وابستہ لوگوں پہ لگایا گیا۔ اس کا ایسا بیک فائر ہوا کہ اب لفظ ”غدار ” استعمال کے قابل نہ رہا۔
پہلی بار پنجاب کی دھرتی پر ایک سیاسی تحریک ،مذہبی نعروں کے بغیر شروع ہوئی ہے ۔ پہلی بار ایک سیاسی تحریک خالص سیاسی شناخت لیے چل پڑی ہے ۔
اور اب پہلی بار ”غدار“ کے خزانوں سے مالا مال خطے پنجاب میں غدار نامی کرنسی ڈی ویلیو ہوگئی۔
بنیاد پرستی کا ایک اور لفظ، ایک اور بت دھڑام سے زمین بوس ہوگیا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکمران طبقات بنیاد پرستی سے دستبردار ہوچکے ہیں۔ یا وہ نئے طرز کی بنیاد پرستی کی ایجاد سے رکیں گے۔ نہیں۔ یہ تو ایک جاری پراسیس ہے۔ جب تک سماج طبقاتی ہے تب تک تبدیلی کی قوتوں کو بنیاد پرستی کے نئے نئے برانڈز سے واسطہ رہے گا۔ جو پچھلے نعروں اور برانڈوں سے زیادہ مہلک اور زیادہ پیچیدہ ہوں گے۔ رائٹسٹ بنیاد پرستی کپٹلزم کی ضرورت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔
یہاں توہم جشن اِس بات کا منا رہے ہیں کہ کم از کم اُن تین چار مرکزوں کا خاتمہ ہورہا ہے جنہوں نے گذشتہ پچھتر برسوں میں سینکڑوں نازک انسانوں کو پھانسی گھاٹ کی راہ دکھائی ، ہزاروں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں پٹخ دیا اور لاکھوں انسانوں کو گمراہ کیے رکھا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*