مَیں

پنجرے کا دروازہ
جب ٹوٹ جائے
اُڑنا آ ہی جاتا ہے
وہ قیدی پرندہ
جُل مرا ہے
اُس کی کوئی قبر نہیں ہے
کوئی کتبہ نہیں ہے
جس قبر میں تُم نے اُسے سُلانا تھا
وہ قبر اب ویراں رہے گی
تُم وہاں تنہا رہو گے
تُم اُسے
چاہ کر بھی ڈھونڈھ نہ پاؤ گے
اب صرف میں ہوں
“ مَیں “
جو پہلے یہاں کہیں نہیں تھی
“میں” کا مطلب سمجھتے ہو؟
تُم سے بہتر کون سمجھے گا!
تمہاری دُنیا میں
یہ ہی سکہ چلتا ہے
نا چاہتے ہوئے بھی
یہ آسیب مُجھ میں آگیا ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*