ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : اکتوبر 2020

میرے انکل جولز

ایک سفید داڑھی والے بوڑھے شخص نے ہم سے خیرات مانگی ۔میرے دوست جوزف ڈاورینچ نے اسے پانچ فرانکس دیے ۔ مجھے حیران ہوتے دیکھ کر اس نے کہا ،”اس بوڑھے غریب کو دیکھ کر مجھے ایک کہانی یاد آگئی ، جسے میں کبھی نہیں بھول سکتا ۔ تمھیں میں ...

مزید پڑھیں »

مینٹل اسائلم میں

"تم ہنستی ہو مجھے اکیلا دیکھ کے میرے رستے میں بیگانہ موسم ، گھائل دن ، نوکیلے کانٹے چُن دیتی ہو ۔۔۔ اور پھر پیڑ کے پیچھے چُھپ کر دیکھتی ہو۔۔۔ میری عمر کا سُوت، آنکھ کے موتی، میرے من کا سونا اِدھر اُدھر بکھرا دیتی ہو۔۔۔۔ تم ہنستی ہو۔۔۔ ...

مزید پڑھیں »

حادثہ

مجھے دیہات سے دارالحکومت آئے چھ برس ہو چکے ہیں۔ اس دوران میں نے نام نہاد ریاستی معاملات کے بارے میں بہت کچھ دیکھا اور بہت کچھ سنا۔ مگر کسی چیز نے بھی مجھ پہ بہت زیادہ اثر نہیں ڈالا۔ اگر ان اثرات کا پوچھا جائے تو میں محض یہ ...

مزید پڑھیں »

*

زندگی چو بُز میشا ساہ ءِ کہچراں چَرَغ اِیں ڈْروہ ڈْروہ دَم بُرتہ اے سَما کدی بیثہ اژ مئے ساعداں کَفَغ اِیں روح اندرا بُرَغ ایں زندگی زہیرانی نوہ گڈّگی لئیویے لئیو لئیو دہ مارا اے سما کدی بیثہ بُستگیں پُراں جَنَغ ایں یار ! گَڈّغاں وَرَغ ایں

مزید پڑھیں »

آنٹی لوسی

دروازے پر لگی برقی گھنٹی لگاتا ر بج رہی تھی۔گھنٹی بجانے والی، گھنٹی کی آواز کوناکافی جانتے ہوئے ہر بار بٹن پر انگلی کے دباؤ کے ساتھ ”باجی“کی صدا بھی بلند کرتی۔ میں نے بڑ بڑ اتے ہوئے ہاتھ میں پکڑی کتاب میز پر پٹخی۔بیلوں اور گملوں میں لگے پودوں ...

مزید پڑھیں »

نظم کا آخری ٹھکانہ

وہ مجھے لے جاتی ہے مکانوں کی پیچھے متوازی چلتی ہوئی لمبی گلیوں کو کاٹتی پگڈنڈیوں پہ شارٹ کٹ کا بہانہ کر کے وہ مجھے لے جاتی ہے پرندوں سے ڈرے ہوۓ کھیتوں میں اور بازو پھیلا کے کھڑا کر دیتی ہے وہ میرے صبر کا امتحان لیتی ہے کڑی ...

مزید پڑھیں »

سکول کا پرنسپل جلال آل احمد

اصلی نام سید جلال آل احمد تھا۔ جلال آل احمد کے نام سے شہرت دوام پائی۔ 24 نومبر 1923کو تہران میں پیدا ہوا۔ والد سید احمد طالقانی اور والدہ خانم دانائی تھیں۔ والد مجتہد تھا۔ جلال نجف کے دینی مدارس میں الہیات پڑھنے کے ساتھ ساتھ (جسے اس نے ادھورا ...

مزید پڑھیں »

ابلاغ کی زبان اور فن کی زبان

جس طرح ہر آدمی میں دس بیس آدمی ہوتے ہیں،اسی طرح ہر زبان میں کئی "زبانیں ” ہوتی ہیں۔ واضح رہے یہاں زبان کے رجسٹر وں کا ذکر نہیں کیا جارہا ہے ، جو موقعے اور ضرورت کے تحت اختیار کیے جاتے ہیں اورجنھیں رسمی ، غیر رسمی اور معروضی ...

مزید پڑھیں »

ڈاکٹر رشید جہاں: انگارے والی یا سراپا چراغ؟

” ڈاکٹرنی نے مجھ سے میری عمر پوچھی میں نے کہا بتیس سال۔ کچھ اس طرزسے مسکرائی جیسے کہ یقین نہ آیا۔ میں نے کہا، مس صاحب آپ مسکراتی کیا ہیں؟ آپ کو معلوم ہو کہ سترہ سال کی عمر میں میری شادی ہوئی تھی اور جب سے ہر سال ...

مزید پڑھیں »

چوکور دائرے

جس وقت اُس نے دیوار پھلانگی، تو اُس سڑک پر تاریکی کے ساتھ ساتھ ہو کا عالم تھا،جس پر ابھی کچھ دیر قبل، وہ اپنی پوری قوت جمع کر کے سر پٹ دوڑ رہا تھا،باوجود اس کے کہ اس کی ایک ٹانگ کسی سخت چیز کی شدید ضرب سے زخمی ...

مزید پڑھیں »