ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : اکتوبر 2020

فاصلوں سے ماورا

ڈاکٹر فاطمہ حسن کی زیرِ نظر کتاب کے تین حصے ہیں، نظمیں، غزلیں اور عقیدتیں۔ ان کی نظمیں مجسم احساس ہیں اور غزلیں مجسم فکر جب کہ عقیدتیں مجسم توسل۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن کا طرزِ احساس اضطراب کو جنم دیتا ہے جبکہ ان کی فکر اس اضطراب کا تجزیہ کرتی ...

مزید پڑھیں »

نوائے جرس کی خاموشی!

جاتی سردیوں کی بارش۔۔۔شال تو نکھر گیا۔۔۔!۔ بارش؛ جو ہر پتے ، گُل، بوٹے کو نم کر کے فضا میں سبزے کی خوشبو ہر سُو بکھیر دیتی ہے۔۔۔ ایسے ہی وہ بہت سوں کے اندر کو بھی نم کر دیتی ہے۔ ٹِپ ٹِپ کرتی بارش کی وہ جھل تھل کہ ...

مزید پڑھیں »

ﮨﻢ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ……………….!

ﮨﻢ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﻻﺯﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﻭﮦ ﺩﻥ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻭﻋﺪﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻟﻮﺡِ ﺍﺯﻝ ﭘﮧ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺳﺘﻢ ﮐﮯ ﮐﻮﮦِ ﮔﺮﺍﮞ ﺭﻭﺋﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﮌ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮨﻢ ﻣﺤﮑﻮﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﺗﻠﮯ ﺟﺐ ﺩﮬﺮﺗﯽ ﺩﮬﮍ ﺩﮬﮍ ﮈﮬﮍﮐﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻞِ ﺣﮑﻢ ...

مزید پڑھیں »

معلق ہوئی کھسیانی ہنسی

اس سے پہلے پھول باسی ہوجائیں وہ مجھے مرا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں وہ میری میت پہ مرے ہوئے پھول نہیں ڈالنا چاہتے مگر مجھ پہ مرے ہوئے نوحے لکھ لکھ کر مجھ سے جوڑے رشتے پہ تھوکتے لعنت بجھتے کرلاتی آواز میں بین کرنا چاہتے ہیں میری ٹکٹکی پہ ...

مزید پڑھیں »

آگ

تم نے ہی ہم کو جانا ہے تم ہی ہمیں پہچا نے ہو ہم خوب ملے تھے روز اول ہم اس دن سے ہیں سرگرداں پیہم ……. تم نے ہی اس خالی گاگر میں کچھ عشق کے ست رنگ آب بھرے وہ اک صدائے منصوری.. اور اک شرار تبریزی .. ...

مزید پڑھیں »

سیوی گپتہ تی دنگاں ۔۔۔

سرحد پار اظہر صاحب کے آبائی علاقے میں اُس کا بچپن بہت اچھا گزرا۔ اُس زمانے میں سکھ، ہندو،اور مسلمان لڑکوں کی آپس میں کی زبردست دوستیاں تھیں۔ کوئی تعصب، اور خراب دلی نہیں تھی۔ اس نے جب مجھے اپنے اسکول کا نام بتایا تو میں حیران رہ گیا۔ تضادات ...

مزید پڑھیں »

ٹرمنالوجی اور روز مرہ زندگی

سیاسی ورکرز ، فلاسفرز اور دانشور ٹھیک کہتے ہیں کہ ہماراسارا سیاسی نظام ’’بورژوا ‘‘ہے ۔ سیاست وریاست کی ساری خرابیوں کی ساری تفصیل کو ایک لفظ میں سمو دیا گیا ہے ۔ وضاحت ہوجاتی ہے سارے معاملے کی۔ مگر یہ لفظ’’بورژوانظام‘‘ کہنے کے بہت سارے نقصانات بھی ہیں۔ اور ...

مزید پڑھیں »

بجوکا

پریم چند کی کہانی کا’ہوری‘ اتنا بوڑھا ہو چکا تھا کہ اس کی پلکوں اور بھوؤں تک کے بال سفید ہو گئے تھے کمر میں خم پڑگیا تھا اور ہاتھوں کی نسیں سانولے کھُردرے گوشت سے اُبھر آئی تھیں۔ اس اثناء میں اس کے ہاں دو بیٹے ہوئے تھے‘ جو ...

مزید پڑھیں »

غزل

صُبحدَم سب چَلے گئے نہ رہے کوئی گھر میں رہے بَھلے نہ رہے مُسکرائے تھے ہم کِسی غم میں رو پَڑے ہیں وہ مشغلے نہ رہے جَلنے بُجھنے میں اَب مزا نہ رہا آئینے بُجھ گئے دئیے نہ رہے حَبس ہے ‘ شور ہے ‘ تماشا ہے شعر کہنے کے ...

مزید پڑھیں »

عورت اور محبت

پچھلے دنوں سوشل میڈیا پہ بپا طوفان نے کچھ سوچنے پہ مجبور کر دیا ہے۔ ایک روتی التجا کرتی آواز گونج رہی ہے، ” میں ایک عورت ہوں اور میں نے وہ کیا ہے جو ہر شادی شدہ عورت کرتی۔ اپنا گھر بچانے کے لئے، اپنے شوہر کو دوسری عورت ...

مزید پڑھیں »