ہم ہیں ۔۔۔۔۔۔ حالانکہ نہیں ہیں ۔۔

ہم نے ایک دوسرے کو

ایک دوسرے سے چرایا

اوراس کنویں میں چھپا دیا

جسے بلیک ہول کہتے ہیں

ہم تھے۔۔۔۔۔۔۔۔مگرنہیں تھے

پھر۔۔۔۔۔ وقت کے

ہیرپھیرنے، اتھل پتھل نے

کا ئنات کا سارا لکھا مٹا دیا

سارا بنا بگاڑ دیا

مشرق سے مغرب تک

شمال سے جنوب تک

زمیں پرنقطوں کی صورت

جابراورچوکنی سرحد یں

اپنی اپنی للکارسمیت

سمیٹ دی گئیں

اورتب

بلیک ہول نے اپنی حفاظت میں لیا ہوا

سارا قیمتی خزانہ لوٹا دیا

دیکھا تم۔۔۔۔

صدیوں پہلے

ہم تھے

مگر نہیں تھے

صدیوں بعد

ہم ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حالا نکہ نہیں ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*