گارشیا مارکیز اور "محبت کا انتظار”

اپنی وفات سے پہلے، جب وہ آہستہ آہستہ ہر چیز کو بھول رہا تھا، تو اس نے اپنے پڑھنے والوں کے نام جو آخری خط تحریر کیا، اس میں لکھا تھا کہ "آدمی اس وقت بوڑھا ہوتا ہے، جب وہ محبت کرنا ترک کر دیتا ہے”. یہ الفاظ اس لکھاری کے تھے، جس کی تحریروں میں اکتوبر کا مہینہ بار بار آتا ہے، خاص طور پر جب اس کے ناول "کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا” کا ایک مرکزی کردار کرنل اپنے پینشن کے طویل انتظار میں اپنے پیٹ کے مسائل کے ساتھ ساتھ اکتوبر مہینے کی مصیبتوں سے نبرد آزما ہوتا ہے۔
لاطینی امریکا کے مایا ناز صحافی اور ناول نگار گیبریل گارشیا مارکیز کا ناول Love in the time of cholerae "وبا کے دنوں میں محبت” ادب کی دنیا میں ایک ایسا کرشما ہے، جس کی بنیاد ایسے امکانات پر رکھی گئی ہے جو ایک خوش گوار حیرت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ جس طرح ناول کے مرکزی کرداروں کی اندرونی کیفیت آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہے، ویسے ہی قاری کی قلبی بے چینی نمودار ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اور بلآخر ایسا لگتا ہے گارشیا اپنے تحریر سے پڑھنے والے کو بھی تریپن برس، سات ماہ اور گیارہ دن سے اس انتظار میں مبتلا کر کہ بیٹھا ہوا تھا۔ حالیہ وبا میں جب لوگ اپنی تنھائی اور یکسانیت کے ہاتھوں مجبور ہوکر رہ گئے تھے تو یہ ناول ایک بار پھر شدت سے اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگا۔ کئی دہائیوں سے یہ ناول اپنے شاندار اسلوب اور کلائیمیکس کی وجہ سے ادب کی دنیا میں موجود ہے۔ جب کبھی محبت کا تذکرہ ہوتا ہے تو یہ ناول شدت سے یاد آتا ہے، پرانے قارئیں دوبارہ اس کے اوراق پلٹتے ہیں، اور اس ناول میں اپنی پرانی محبت کے انتظار کو فلورنتینو آریزا کے انتظار میں اپنا وہ انتظار تلاش کرتے ہیں جو کسی نہ کسی فرمینا دازا کے لیئے کیا گیا تھا اور اس درد کی تجدید کے لیئے کسی ایسی دوپہر کو یاد کرتے ہیں جو کسی کی محبت میں ڈوب کر گذاری گئی تھی۔ گارشیا مارکیز بھی اس ناول میں اسی بات کا حامی تھا کہ "وبا میں محبت اور بھی شدت سے کی جاتی ہے”۔ اور وہ شدت جس میں آپ کسی کے لیئے خود کو تو فراموش کر سکتے ہیں مگر سامنے والی ہستی سے دستبرداری ناممکن ہوتی ہے۔ خود کو اس طرح سے سپرد کردیں کہ کسی دوسرے کے جسم کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی، آپ کا نکتہ خیال صرف اس بات پر ہو کہ سانس کی روانی اور دل کی دھڑکن کا سلسلا اگر جڑا ہوا ہے تو صرف اس لیئے کہ اسے بہرحال اور ہر صورت اپنی منزل تک پہنچنا ہے، جس کی راہ ایک طویل انتظار سے گذرتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ "محبت میں مرنے سے زیادہ کوئی اور عظمت نہیں”. اس ناول میں ایک روایت یہ بھی تھی جو آج کے دور میں دم توڑ چکی ہے اور وہ ہے خطوط لکھنا۔ فلورنتینو آریزا کے اس طویل اور رسوا کردینے والے انتظار کی شروعات اس عمل سے ہوتی ہے کہ وہ فرمینا دازا کے ہاں اس کے باپ کو خط دینے جاتا ہے، اور وہاں سے ایک چھوٹی سی کھڑکی سے، فرمینا دازا کی آنکھوں سے، چپ چاپ میں اپنے دل کے لیئے ایک ایسی دنیا لے کر آتا ہے، جس کو سنبھالنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ درجنوں لڑکیوں سے ملنے کے دوران بھی فلورنتینو آریزا کے سوچ کا مرکز صرف ایک ہی عورت ہوتی ہے، جو اپنے شوہر کا نیا معاشقہ اس کے کپڑوں کی خوشبو سے جان جاتی ہے۔ فلورنتینو آریزا، فرمینا دازا کو اپنی سوچ کا محور بلکل اسی طرح رکھتا یے، جیسے گارشیا کے دوسرے ناول "کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا” کا مرکزی کردار کرنل ہر جمعے کے دن آنے والی ڈاک کے پوسٹ مین پر رکھتا ہے، جس میں اسے پندرہ سال پرانی پینشن ملنے کی امید ہوتی ہے۔ گارشیا اپنی تحاریر میں وقت کے دورانیے کو اس طرح سال، مہینے اور دنوں میں بیان کرتا ہے، جس کو پڑہ کر قاری کو ایسے لگتا ہے جیسے کہ یہ انتظار تو قاری کے سامنے کیا گیا ہے، یا وہ سمجھے گا کہ یہ انتظار اس نے دیوار پر لٹکی ہوئی گھڑی کی آنکھ سے دیکھا ہے۔ خطوط لکہنے کے نہ رکنے والے سلسلے میں مبتلا فلورنتینو آریزا ایک بار جب عشق کے جنون سے کانپ اٹھتا ہے تو اس کی ماں نے اسے کہتی ہے "اس چیز کی قدر کرو، یہ چیز ساری زندگی ساتھ نہیں رہتی”
اور جب یہ سلسلہ اپنی دیوانگی کی حدوں چھونے لگا تو وہی ماں اسے کہتی ہے کہ، "کوئی عورت اس دیوانگی کی مستحق نہیں۔” عین اسی وقت کہیں دور اس کی محبوبہ فرمینا دازا اپنی روزانہ کی سیر سے اس انکشاف پر حیرت زدہ واپس آتی ہے کہ "آدمی نہ صرف محبت کے بغیر, بلکہ اس کے ہوتے ہوئی بھی خوش رہ سکتا ہے”۔ اور وہ انکشاف اسے چونکا دیتا ہے۔
نصف صدی سے زیادہ انتظار کی اذیت اور کامل یقین کا مجسمہ، فلورنتینو آریزا جب نوجوان لڑکی کے ساتھ بستر میں برہنہ ہوتا ہے تو، ایک غیر یقینی کے ساتھ وہ گھنٹیاں اس کی کانوں سے ٹکراتی ہیں، جس میں اس شخص کے مرنے کی خبر ہوتی ہے جس کے مرنے کا انتظار وہ اسی شدت اور یقین سے کرتا ہے، جس طرح اسے فرمینا دازا سے ملنے کا یقین ہوتا ہے۔ اور یہ خبر اس کو ایک نئی جلا دیتی ہے۔
اور اسی طرح نصف صدی پر محیط انتظار کا عرصہ ان الفاظ کی بنیاد پر کھڑا نظر آتا ہے، جو الفاظ فلورنتینو آریزا کا باپ اپنے کسی خط میں لکھ گیا تھا کہ،
"اگر میں محبت کے لیئے نہیں مرا تو مرتے وقت یہ میرا واحد دکھ ہوگا”۔

rahmatsoomro89@gmail.com

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*