مرشدی، رشید امجد

ہجرت یا نقلِ مکانی کے تجربات سب کے الگ الگ ہوتے ہیں لیکن میں اگرفوائد اورنقصانات جوڑنے اورگھٹانے بیٹھوں تو جہاں اکثراس نقل مکانی کی مہربانیوں کا دیرتک شکرانہ ادا کرتی ہوں کہ اپنے کھوئے ہوئے وجود کو دوبارہ پانا اورانسان ہونے کا حق ملنا ہے۔ اپنی سوچ کے زنگ آلود تالوں کوٹوٹ کے گرتے دیکھنا اوراپنی گدی سے کھچی ہوئی زبان کوبولتے سنناکیسی سرشاری کا ا حساس بخشتا ہے یہ مجھے خوش بخت نقلِ مکانی نے سمجھایا۔ لیکن ان خوش بختیوں کے ساتھ ساتھ کچھ رنج بھی اکثرپہلوسے پہلوجوڑکے بیٹھ جاتے ہیں۔

دن ڈھلے مجھ کوصدائیں سی بہت کرتی ہے
وہ جوبستی میری سوچوں کے مضافات میں ہے

یہ رنج موقع بے موقع بولاتے ہیں مجھے۔۔ عجب ہوک سی اٹھتی ہے۔ وہ ہستیاں جنکے قدموں میں بیٹھ کے میری فکرکا خالی کشکول چھلک سکتا تھا۔ جنکی باتوں کے لنگرسے کچھ جاننے اورجان لینے کی بھوک کوغذا مل سکتی تھی وہ اور وہ علمی درسگاہوں جیسی محافل سب سے بچھڑجانے کی ہوک دل کوتب اوربے چین کردیتی ہے ۔
جب رشید امجد جیسی ادب کی کوئی قدآورشخصیت کچھ گھنٹوں کومیسر آجائے دل ترستا ہو جن کے لئے ان کے بخشے ہوئے چند گھنٹے پھرہم سینت سینت کے رکھتے ہیں اوران میں جیتے ہیں، اس ملال کے ساتھ کہ یہ ملاقات اکثرنہیں ہوسکتی۔ یہ جوقد آورشخصیت میں نے کہا تو حقیقت تو یہ ہے کہ آ ج کے دورمیں یہ لفظ اپنی وقعت کھوچکا ہے کہ اب تو مجھ جیسے کم علم اورنااہل بھی بہ زعمِ خود قد آورہونے کے غرورسے بیحد کلف شدہ ا س مسند پرخود کوخود ہی سجا دیتے ہیں جس پہ پیربھی رکھنے کی بے ادبی کرتے ہم جیسوں کولرزہ طارہونا چاہیے تھا ۔ لیکن رشید امجد جیسے حقیقی قد آوراپنی الگ ہی شنا خت رکھتے ہیں، ان کواگرقد آورکہوتوچہرے پرناگواری کے تاثرا ت بھی ہونگے اورکوئی ایک جملہ بھی ایسا کہہ دیں گے جس کواگرکان دھرکے سنیں تواصل میں ہمارے اپنے لئے ہی کوئی نہ کوئی نصیحت کوئی سبق پوشیدہ ہوتا ہے۔شا ید یوں ہے کہ رشید امجد جیسے سروقد اپنی فطرت میں پیڑوں جیسے ہوتے ہیں۔ یہ صرف اپنوںکواپنی چھاﺅں میں نہیں سمیٹتے بلکہ جوبھی ان کے تنے سے ٹک کے بیٹھ جائے اسکی مسافت چین پاجائے ۔ انکی جڑیں اندراندرپھوٹتی ہیں پھیلتی ہیں گھنی ہوتی ہیں اورانہیں ایسا تناور،شاداب اورسروقد بنا دیتی ہیں کہ ان کی اپنی خصلت بھی درختوں جیسی ہی ہوجاتی ہے۔
رشید امجد نامی ایسے ہی ایک برگد کے پیڑسے ملاقات ا وروہ چند گھنٹے جومجھے میسرآئے اس سنگت میں میرے لئے انتہائی قیمتی ہیں جس کے لئے اشفاق حسین اورخاص کر ڈاکٹرانورنسیم کی تہہ دل سے ممنون ہوں۔ اس ملاقات سے پہلے میں ان کے تین افسانوں میں ان سے مل چکی تھی اوراس چھوٹی سی ملا قات نے مجھ میں انکی کھوج کو مستقل کردیا۔ اس کھوج کے دوران ہی ان کے حوالے سے کچھ ذاتی باتیں بھی معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ آپ کے والد سری نگرکشمیرمیں غالیچوں کے ڈیزائن بنانے کے ماہرتھے۔ تب میرے دل نے دیکھا کہ رنگ برنگے دھاگے ،ریشم کے سرخ سبز نارنجی لچھے اورنرم ملائم اون سے جب انگلیاں ان کے بنائے ہوئے ڈیزائن پرتیزی سے چلتیں توقالین پریوں پھول کھلتے جیسے ابھی ابھی شاخ سے توڑکے اس دبیزفرش پرڈال دئے گے ہوں۔ ہم جانتے ہیں کہ کشمیرکے قالین دنیاکے حسین ترین قالینوں میں شمارہوتے ہیں یعنی یہاں نت نئے زندہ سانس لیتے ڈیزائن بنا نے کی وراثت یا جین کچھ اورہی سوچ کے مسکرارہی ہے۔ وہ مسکرارہی ہے کہ یہ سانس لیتے جیتے جاگتے نمونے بنانے کی ذہانت اوروراثت آنے والے زمانوں میں حروف کے رنگ برنگے ریشم، سوت اوراون سے کاغذ پرفن کا معجزہ دکھائے گی۔ دوسری دلچسپ بات میں نے یہ جانی کہ جب رشید امجد صاحب کمسنی میں والدین کے ساتھ کسی عزیزسے ملنے کی غرض سے اسلام آباد آئے تووقت کے اشارے پراسلام آباد کی گلیوں نے ایک حسین سازش کی اورسری نگرجانے والے راستہ کوہی مٹادیا۔ سرحد پارسے اڑتا ہوا گویا کوئی پرندہ اپنی چونچ میں کوہ نورلئے آیا اوراسلام آباد کی جھولی میں یہ ہیرا ڈال گیا۔ اب اس کوگنوانا کیسے ممکن تھا سویوں ہم مالا مال ہوئے اور رشید امجد ہمارے ہوئے۔ ایک اوردلچسپ بات یہ کہ اس کمسن کشمیری کواردو آتی تھی نہ پنجابی اورانگریزی کا ذخیرہ بھی چند جملوں تک محدود تھا۔ سکول داخلہ دینے پرراضی نہیں تھے جس کا حل والد نے یہ نکالا کے شام کواپنے ساتھ انہیں لے کے اوردورتک دیواروں پرلکھا اشتہار انہیں پڑھنے کوکہتے۔ یوں انہوں نے بچپن میں ہی دیواروں کا لکھا پڑھ اورسمجھ لینے کا گُرجان لیا۔ اس کے بعد کی ہماری کہانی ہی دراصل رشید امجد کی کہانیاں ہی ہیں۔ ہمارا گھردیوار دردیوار تقسیم ہوتا چلا گیا اوران دیواروں پرلکھا پڑھ پڑھ کے ہم ایک دوسرے سے خوفزدہ بہت سے گروہوں میں بٹتے چلے گئے۔ ہم ”گملے میں اگے شہر” ( گملے میں اگا شہر افسانہ ) کے وہ بد نصیب پودے قرارپائے جن کو اپنی جڑیں زمیں میں دورتک پھیلانے ،جڑپکڑنے گھنا اوراونچا ہونے کے لئے محبت واحترام ذہانت وفطانت اورفکروفن کے نم سے سینچی زرخیز زمین نہیں ملی۔۔۔ توبھلا کہاں ممکن تھا کہ ہم شاداب وسرسبزبلند وجھماٹ درختوں جیسی خصلت والی قوم کی صورت اختیارکرتے۔ سویوں ہوا کہ نہ صرف محبتوں کی روایات کا امین سری نگرسے اسلام آباد آنے والا ایک راستہ بند ہوا بلکہ ہم پرہمارے اپنے ہی گھراوراپنی ہی روایات کے دروازے بھی ایک کے بعد ایک بند ہوتے چلے گئے ۔ہمارے پاس ہمارا کوئی راستہ نہیں بچا سوائے دائروں میں گھومنے کے۔ رشید امجد کی آنکھیں سب کچھ دیکھ رہی ہیں ، دل سارا کچھ بھوگ رہا ہے اورآنسو کاغذ پریہ یاد داشتیں یا کہانیاں لکھتے چلے جارہے ہیں۔ ” بے چہرہ آدمی ” ایک کہانی کا عنوان بھی ہے اورہم میں سے ایک ایک کا چہرہ بھی ایک کہانی بھی ہے ہماری داستان بھی :
” اس نے رجسٹربے زاری سے کھولا
” رول نمبرون ، ٹو، تھری ،۔۔۔ روزانہ کی بیزارکن تکرار
آخری رول نمبرپکارکے اس نے رجسٹربند کیا انگلی سے میز بجاتے ہوئے بولا
اچھا تو آج ہمیں کیا پڑھنا ہے ؟
سچائی کی تلا ش سر
سچائی کی تلا ش ؟ کوئی بڑبڑایا
کون سی سچا ئی؟ کسی نے چیخ کے پوچھا
سچا ئی یہ ہے۔۔۔۔ اس نے تھوک سے گلا ترکیا اورمردہ سی آوازمیں بولا ” سچا ئی یہ ہے کہ ہمیں سچ کوتلا ش کرنا ہے “ اس کا جی چاہا کس کے اپنے منہ پرایک زنا ٹے دارتھپڑمارے اورباہرنکل گیا۔
شام کوجب وہ کیفے میں پہنچا تو سارے ایک ختم نہ ہونے والی بحث میں الجھے ہوئے تھے۔
روحِ عصر۔۔۔۔۔ ہمارے دورکی روحِ عصرمنافق ہے
دوسرے نے یہ سن کے پہلے کوگھورا
یہ دراصل انفرادیت پسندی ہے اوریہ بھی ایک نعرہ ہے
نعرے پرتمہیں سانپ کیوں کاٹ لیتا ہے ؟
اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کے دونوں ہاتھوں میں ریت اورکنکرہیں ۔۔۔۔ اس نے ساتھ والے کا ہاتھ پکڑلیا اوررازدارانہ لہجے میں کہنے لگا
” تمہیں معلوم ہے ؟ ہم سب ایک دوسرے کا قتل کررہے ہیں ”
رشید امجد کاکوئی بھی افسانہ اٹھا لیں، کہیں سے کوئی ورق پڑھنا شروع کردیں ایک تجربہ لازمی ہوگا اوروہ یہ کہ ہم بہ یک وقت حزن وملال اورسرشاری کی کیفیت میں اس طرح مبتلا ہوتے ہیں کہ اس احساس کوکوئی نام دینے سے قاصرمحسوس کرتے ہیں۔ یہ حزن وملال آج کے دورکے انسان کی ابتلا کا قصہ ہے۔ کوئی خوف ہے جو مستقل ہے کہ کب کوئی ایسا دھماکہ ہو کہ سب کچھ بھک سے اڑجائے ۔ تنہائی کا عفریت بھرے پرے گھروں میں گھس آیا ہے، محفلوں میں مسند نشین ہے، بازاروں میںہمارا پیچھا کررہا ہے اورہم اس عفریت کواپنا مقدراوروقت کا فیصلہ سمجھ کے اس سے مانوس ہونے کی کوشش میں ہلکان ہورہے ہیں۔ رشید امجد کی کہانیاں اپنے اصل کی گمشدگی اوربے چہرگی کی دا ستان سنا تی ہماری کہانیاں ہیں۔۔ عصرکا لمحہ لمحہ۔ بیتے ہوئے وقت کا آئینہ اورآنے والے دنوں کی نقاب کشائی کرتی ان کہانیوں کے لئے وزیرآغا نے کہا تھا۔
”انتظارحسین نے پیچھے ہٹ کے کتھا اورداستان سے رشتہ جوڑا۔ اورانورسجاد نے آگے بڑھ کے مستقبل کوزیردام لانے کوشش کی جبکہ رشید امجد نے حال کے نقطہ پرکھڑے ہوکے ماضی اورمستقبل دونوں سے رابطہ قائم کیا۔ یہی اس افسانہ نگارکے فن کا امتیازی وصف ہے کہ وہ زنجیرکے کسی ایک سرے سے بندھا ہوا نہیں ہے بلکہ پوری زنجیرسے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے”
رشید امجد ہمارے زخم زخم وجود کوبڑی اپنا ئیت سے اپنے وجود سے لپٹا ئے کبھی سماج کی ٹوٹ ٹوٹ کے
گرتی حویلی کے صحن میں بیٹھ جاتے ہیں اورکبھی اس حویلی کوہمارے وجود میں اتاردیتے ہیں کبھی تاریخ کے اوراق کھنگال رہے ہوتے ہیں اورکبھی تہذیب کے کھنڈرات میں خود کواورہمیں ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ یہ کہانیا ںکبھی ہم سب کواپنے اندر سمیٹ لیتی ہیں اورکبھی ہم سب میں چھپ کے بیٹھ رہتی ہیں اورسوسوطرح ہمیں ہم پرمنکشف کرتی رہتی ہیں۔ یہ ”یوں کرو یوں نہ کرو جیسی نصیحتیں نہیں کرتیں ،نہ نعرے لگا کے انقلاب لانے کا گربتا تی ہیں بس ہمارے ساتھ ہردکھ ہرسانحہ ہرواقعہ کی شریک ہیں۔ ان کہانیوں کوپڑھ کے ہونا تویہ چاہئے تھا کہ انکا قاری ادا سی کی دلدل میں اترتا محسوس کرتا خود کو لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔بلکہ ہوتا یوں ہے جیسے کڑکتی دھوپ بھی ہواوربارش کی پھوارمیں بھی بھیگ رہے ہوں۔ آنکھیں آنسوﺅں سے لبریز تو ہوں لیکن یہ آنسوسوچوں پہ جمی گرد بھی صاف کرتے جارہے ہوں۔دھوپ اورچھاﺅں غم اورخوشی کا یہ بیک وقت احساس ان کی کہانی کی بنت کا وہ اسلوب ہے جوعلامت کے روپہلے مہین سے ریشم کی چادر جیسا ہرکہانی کا لباس ہے جواپنے ہوش ربا حسن سے ایسا مد ہوش سا کردیتا ہے جیسے تلخ شراب کا سروربخش نشہّ۔
بہت سادہ لہجہ لیکن کوئی مکالمہ کوئی جملہ کوسطر کوئی بیانیہ ایسا نہیں جوقطرے میں سمندرنہ دکھادے اور سمندر کو قطرے میں قید نہ کردے۔
فلسفیانہ معنویت والی علامتوں سے بنی رشید امجد کی کہا نیاں گوبھول بھلیاں نہیں ہیں لیکن ان کے باطن کی ایسی حویلی ہیں جس کی راہداریاں پرپیچ ہیں ، کمرے کشادہ اورروشن لیکن اپنے دربھیڑے اپنے مراقبہ ڈوبے ہوئے۔ رنگ برنگے لباس زیب تن کئے ،غلاما ن ِ حروف ہاتھ باندھے انکے دیوان خا نئہ فکر میں دن رات حاضررہتے ہیں اوریہ انہی کی جوڑتوڑ سے کبھی ہمیں ہم پرمنکشف کرتے ہیں اورکبھی خود پرمنکشف ہوتے ہیں۔ رشید امجد خود کہتے ہیں
” میں لفظوں کوجوڑجوڑ کراپنے آپ کومنکشف کرتا ہوں، میرا باطنی سفرپیچ درپیچ ہے، ایک سُرمئی دھند ہے جس میں چلتے رہنا، چلتے رہنا ہی ایک مبہم سچائی ،ایک ایسا تجربہ ہے جسے بیان کرنے کے لئے علامت اوراستعارے کی ضرورت پڑتی ہے۔ درحقیقت یہی میری کہانی کا اثاثہ ہے “۔
اس علامت اورا ستعارے کا فلسفیانہ لہجہ صرف ایک کوٹیشن میں پیش کرتی ہوں کہ اس سے زیادہ کی وقت اجا زت نہیں دے گا ورنہ تو یہ بات توبہت طول پکڑسکتی تھی۔
رشید امجد کے افسانوں میں ایک کردار” مرشد ” سے ہماری اکثرملا قات ہوتی ہے۔ وہ ،یا کوئی اورنامعلوم اکثر مرشد کے ساتھ مکالمے میں مصروف ملتے ہیں اوریہ مرشد یا یہ کردار بڑے بڑے بھیدوں پرسے پردہ اٹھا تے ملتے ہیں۔ یہ مرشد کون ہے ؟ ان کا تعارف نہیں کراتے رشید امجد۔ لیکن میرا خیال ہے کہ شاید یہ وہی ہے جسے ہم ، ہمزاد کے نام سے جانتے ہیں۔ لیکن یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ واقعی ایسا ہی ہے۔ یہ تورشید امجد صا حب سے پوچھا جا سکتا ہے لیکن مرشد سے مکالمے۔ اللہ اللہ
” وہ مرشد کے ہمراہ ساحل کے ساتھ ساتھ اپنی جڑیں تلا ش کرنے نکلا تھا۔ روانہ ہوتے ہوئے اس نے کہا تھا
” حال کی صورت تویہ ہے کہ نہ میری رائے کوئی اہمیت رکھتی ہے نہ میری محبت کے کوئی معنی ہیں، چلودیکھیں شاید ما ضی میں میری کوئی پہچان ہو“۔
مرشد بولا
”حال ٹھیک نہ ہوتو ماضی کی پہچان کوئی معنی نہیں رکھتی “
اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ دونوں ساحل کے ساتھ ساتھ بادبانی کشتی میں اپنی جڑوں کی تلاش میں کہاں جارہے تھے اسے اس کی کچھ خبرنہ تھی۔ ہواکے رقص میں ذرا ٹھہراﺅ آیا تو کشتی کی رفتار ست پڑگئی
مرشد بولا
” ہرقوم جس کے پاس اپنے وقت کے نئے نظریات ہوتے ہیں اپنے حال کی تعمیرکرتی ہے اورجب یہ نظریات پرانے ہوجاتے ہیں اوروہ قوم تا زہ ہواﺅں کے دریچے بند کردیتی ہے تو تاریخ کے قبرستان میں دفن ہوجاتی ہے ”
افسانہ ” فتادگی میں ڈولتے قدم ”

میں آپ کے مرشد کونہیں جانتی لیکن مرشدی رشید امجد۔۔۔۔۔ یہ کہانیاں صرف کہانیاں نہیں ہیں یہ ہمارے ”آج” کے لئے وہ نظریات ہیں ، وہ منشورہیں وہ راستے ہیں جوہمیں تاریخ کے قبرستان سے گھسیٹ کے زندگی کی شاہراہ پرلا کھڑا کرتے ہیں ۔یہ ہمارے وہ غم ہیں جن کوآپ عجب سرشاری عطا کرتے ہیں۔
یہ کوئی مضمون نہیں صرف میرے احساسات ہیں جومیں جانتی ہوں کہ آپ کے شایانِ شان نہیں لیکن مجھے اپنی اوقات سے بڑھ کے سوچنے کی عادت ہے۔ میری اس ہمت کومسکراکے برداشت کر جائینگے آپ مجھے یقین ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*