ابلاغ کی زبان اور فن کی زبان

جس طرح ہر آدمی میں دس بیس آدمی ہوتے ہیں،اسی طرح ہر زبان میں کئی "زبانیں ” ہوتی ہیں۔ واضح رہے یہاں زبان کے رجسٹر وں کا ذکر نہیں کیا جارہا ہے ، جو موقعے اور ضرورت کے تحت اختیار کیے جاتے ہیں اورجنھیں رسمی ، غیر رسمی اور معروضی کہا گیا ہے۔ ہمار ا سابقہ زیادہ تر دو قسم کی زبانوں سے رہتا ہے: ابلاغ کی زبان اور فن کی زبان۔ ابلاغ کی زبان میں ایک نو ع کافوری پن اور عجلت پسندی ہوتے ہیں؛ اپنے مافی الضمیر کو کسی تاخیر اور رکاوٹ کے بغیر دوسروں تک پہنچانے کی خواہش ہوتی ہے۔ تاخیر اور رکاوٹ کیسے پیدا ہوتی ہیں؟ کوئی نیا، نامانوس لفظ یا ترکیب استعمال کرنا۔مانوس لفظوں کو استعارہ یا علامت بنادینا ۔ ایک ایسا پیرایہء بیان اختیار کرنا کہ اس میں ابہام پیدا ہوجائے۔ ایک پل کے لیےیہ طے کرنے میں دشواری میں ہو کہ کیا بات کہی جارہی ہے یا کس بات پر اصرار کیا جارہا ہے اور کس بات کو غیاب میں رکھ کر اسے زیادہ نمایاں کرنے کی سعی کی جارہی ہیں۔اسی طرح اس لسانی اہتمام سے بھی فوری ابلاغ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے کہ جملے میں محض استفہام ہے یا استفہام اقراری یا استفہام انکاری ۔انشائیہ جملے زیادہ ابہام پیدا کرتے ہیں۔چناں چہ ابلاغ کی زبان آزمودہ نسخوں پر انحصار کرتی ہے۔وہ رائج و مقبول پیرایوں ، محاوروں ،ضرب المثل ،کہاوتوں اورمعروف اشعار کو کثرت سے کام میں لاتی ہے۔ ابلاغ کی زبان،دنیا سے ، دنیا کے مقبول پیرایوں میں کلام کرتی ہے۔ کم از کم پیرایہ ء اظہار کی سطح پر وہ کسی کے لیے خطرہ ہوتی ہے نہ چیلنج بنتی ہے۔ابلاغ کی زبان سب کچھ مستعار لیتی ہے۔ یہ اپنی اصل میں طفیلی (Parasite) ہوتی ہے۔اس کے طفیلی پن کے حق میں اگر کوئی بات کہی جاسکتی ہے تو یہ کہ وہ زیادہ سے زیادہ فن کی زبان کی طفیلی بنتی ہے۔
فن کی زبان میں کسی عجلت اور افادیت کا شائبہ نہیں ہوتا ۔ اس لیے ابلاغ کی زبان ،جن چیزوں کو رکاوٹ خیال کرتی ہے، انھیں فن کی زبان زیادہ سے زیادہ بروے کار لاتی ہے۔وہ نئےلفظوں ہی کو نہیں ، پرانے لفظوں کو استعارہ و علامت بنانے میں بھی سرگرمی دکھاتی ہے۔نیز نئے پیرائے خلق کرتی ہے۔نئے پیرائے بالکل سادہ ،عام فہم لفظوں پر مشتمل ہو سکتے ہیں،لیکن ان کی معنویت پیچیدہ ہوسکتی ہے۔مثلاً وہ طنز ، آئرنی اورپیراڈاکس پر مبنی ہوسکتے ہیں ۔ ابلاغ کی زبان ، خاموشی اور خلا پسند نہیں کرتی مگر فن کی زبان کو ان دونوں سے عجب رغبت ہے۔فن کی زبان جتنا کہتی ہے ، اس سےزیادہ چھپاتی ہے۔وہ جابجا وقفوں کا اہتمام کرتی ہے۔وہ اپنے پڑھنےو الوں کو تیز سوچنے اوراندھا دھند چلنے سے روکتی ہے ۔ فن ہی نے ہمیں اس حقیقت سے آگا ہ کیا ہے کہ غائب اور مخفی چیزیں ،موجود اور نمایاں اشیا کے مقابلے میں ہمیں زیادہ مضطرب اور پر شوق بناتی ہیں۔ اونچے سُر جسم میں مگر سرگوشی روح میں ارتعاش پیدا کرتی ہے۔پابلو نرودا اپنی نظم "خاموش رہنا” میں کہتے ہیں کہ "یہ (خاموشی کا) ایک عجیب وانوکھا لمحہ ہوگا/کسی بھیڑ اور انجنوں کے شور کے بغیر/ہم سب یکجاہوں گے/ ایک اچانک نرالے پن میں”۔ غالب نے تو یہ تک کہہ دیا کہ "خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے”۔تھیوڈور اڈورنو نےبعد میں لکھا کہ فن کی حقیقی زبان میں گونگا پن (Speechlessness)ہوتا ہے۔گونگے پن میں کہیں زیادہ اشاریت اور ماورائیت ہے!
فن کی زبان جانی پہچانی چیزوں کوبھی کچھ اس انداز سے پیش کرتی ہے کہ وہ اجنبی محسوس ہوتی ہیں۔ فن کی زبان صرف کہنا اور اگلنا نہیں چاہتی ،وہ کئی سطحوں پر چیزوں کو نئے سرے سے ، حیرت کے احساس کے ساتھ ،محسوس کرانا چاہتی ہے۔ فینٹسی کو حقیقت سے زیادہ مئوثر بنانا ، فن کی زبان کو مطلوب ہے۔یہی نہیں ایک اخترا ع کی گئی دنیا کے ذریعے اپنی حقیقی زندگی کو سمجھنے میں مدد دینا بھی فن کامقصود ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ فن کی زبان، موجود زبان پر کہیں باہر سے کچھ مسلط نہیں کرتی ۔ وہ زبان کی اصل تک پہنچتی ہے۔ جسے ہم نے خاموشی ، خلا، استعارہ ،علامت ،نیا پیرایہ کہا ہے ،وہ سب زبان کی اصل میں مضمر ہیں۔ زبان،اپنی اصل میں جامد نہیں ،سیال ہے۔معنی کو تنہائی پسند ہے نہ ثبات۔ وہ سدا حرکت میں رہتا ہے، زندگی اور وقت کی مانند۔وہ دوسرے معانی ، اشیا اور تصورات سے نئے نئے رشتے استوار کرتا ہے۔دوسرے لفظوں میں استعارہ سازی زبان کی اصل میں شامل ہے۔ فن کی زبان ، زبان کی استعارہ سازی کی اساسی خصوصیت کو شدت سے ابھارتی ہے ۔ اسی لیے زبانوں کاجمال، ان کی ترقی اور نئےماحول سے ان کی ہم آہنگی سے لے کر انسانی ذہن کی رفعت اور کلچر کی ترقی، فن کی زبان کے مرہون ہوتے ہیں۔
فن کی زبان مسلسل استعمال سے ، ابلاغ کی زبان میں بدلنے لگتی ہے۔فن کو اپنی زبان مسلسل اختراع کرنا ہوتی ہے۔
اگرچہ ابلاغ کی زبان روزمرہ کے امور، صحافت، سیاست اور علمی شعبوں میں استعمال ہوتی ہے اور فن کی زبان، ادب میں ، لیکن بعض اوقات ادب میں ابلاغ کی زبان اور صحافت میں فن کی زبان استعمال ہوتی ہے۔ یہ صورت صحافت کے لیے جس قدر نیک شگون ہے، ادب کے لیے اسی قدر بدشگون ۔ادب سب صدمے برداشت کرسکتا ہے، کلیشے کا صدمہ نہیں۔
ہر سماج میں ابلاغ اور فن کی زبانیں موجود ہوتی ہیں مگر جہاں ابلاغ کی زبان کا غلبہ ہوجائے اور فن کی زبان پسپا ہوجائے وہاں شور ، تصنع،تکرار،تقلید ِ محض،خطابت اورکلیشے عام ہوجاتے ہیں ۔ سماج کے ساتھ ساتھ زبان اورادب کے لیے بھی یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہوتا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*