کورونا ایک سال کا ہوگیا

کورونا ایک سال سے انسانیت کو اندھی کھائی میں دھکیل کرچاروں طرف سے اپنے ہلاکت خیز حملے جاری رکھے ہوئے ہے ۔ یہ صرف ایک بیماری نہیں ہے بلکہ معیشت کا فالج بھی ہے ۔ ایک عمومی عالمی بے روزگاری ہے ، سماجی تعلقات میں عالمگیر انطقاع ہے ، ایک حتمی غیر یقینیت ہے ، جسمانی ونفسیاتی صدمہ ہے، اور لاکھوں ایسی اموات ہیں جو دیگر ناانصافیوں والی خاموش اموات کے مقابلے میں بہت نظر آنے والی ہیں۔
دس لاکھ انسانوں کی موت کا درد بہت تکلیف دہ ہے ۔ایک ہی وقت میں اس قدر زیادہ جنازے ، قبر یں اور ماتم انسان نے سو سا ل سے نہیں دیکھے ۔ اس وائرس نے کئی کئی خاندانوں کی کمریں توڑ دیں ۔ اس قدر زیادہ الودا عیں، وصیتیں، دھاڑیں اور سسکیاں۔۔۔ زندگی کی روانی میںایسی یکدم بریکیں !۔
ویکسین کی تیاری کا سجدہ طویل ہوگیا، کوارنٹین نے زندگی کے گھٹنے سُن کر دیے۔ تنہائی،لاحاصل سوچیں، بے نمک تخلیق اور بے برکت پیداوار،اور ۔۔ بھوک اور موت کا خوف ۔ کوئی جلسہ کام نہیں دے رہا، کوئی جلوس ،پریس کانفرنس راستہ نہیں بنا رہی۔ سارے دم چُھو اور گنڈا تعویز لاحاصل ۔حوصلہ بخشنے کی کوئی صورت نہیں ۔عام شکست خوردگی ہے ۔۔۔ موت کے سامنے ایک سنجیدہ ،متین اوربے بس خاموشی ہے۔
نومبر2019سے لے کر اکتوبر2020تک کے اِن پورے بارہ مہینوں میں وائرس نے نظریات ، سپرپاوری، حکمرانی کی مکاری ،استادی، اخلاقی تدریس ، عبادتی ادارے سب کچھ یک دم بے نقاب کردیے۔۔۔ آناً فاناًایک نئی دنیا بن گئی ۔ ایک ایسی دنیا بن گئی جس کے بارے میں واقفیت سب سے کم ہے ۔ ٹرمپ ہویا جوبائیڈن ، انہیںاسی ناواقف حالتوں والی دنیا کا سامنا ہوگا ۔نئی دنیا جس میں جنگوں کے مراکز تبدیل ہوتے جارہے ہیں، بنیاد پرستی کی شکلیں اور جائے سکونت بدل رہی ہیں۔روایتوں اور عقیدتوں کی فولادی پوشاک پگھل رہی ہیں۔ کشمیر ، اسرائیل اور افغانستان اب مزید بنیاد پرستی کے گڑھ نہ رہے ۔ ہم سمیت بہت سے ممالک میں کامن سینس ہائبرڈ حکمرانی کو طلاق دینے کے لیے عوامی عدالت کھٹکھٹا رہا ہے ۔
ہمارے ملک میں گرے ، بلیک اور وائٹ لسٹ نے بنیاد پرستی کی تیز نیشوں پہ اِستری کا مزید ایک پھیرا لگادیا ہے۔گوکہ عادت سے مجبور اسٹیبلشمنٹ تیزی سے ون یونٹ کی جانب جانے کی دزدیدہ کوششوں میں جھپٹے مارتی رہتی ہے۔ اُسے نصاب کو دائیں سمت دھکیلنے کی پرانی لت کے دورے بھی پڑتے رہتے ہیں۔ لسانی، اور فرقہ وارانہ جذبات ابھارنے کی مشقیں بھی جاری رہیں۔ لوٹ مار کے نئے نئے ذرائع دریافت کرنے کا عمل بھی نہیں رکا۔ مسخ اور غائب کرنے کا سلسلہ بھی بندنہ ہوا۔ سیاسی جبر و پابندیاں بڑھتی رہیں۔ میڈیا پر قدغنیں بھی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں فاشزم کا بول بھی بالا ہے ۔اور جمہوری ادارے یرغمال بھی ہیں۔۔۔۔مگر نوشتہِ دیوار کچھ اور ہے۔
20 ستمبر 2020کو پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی۔ اور ایک پی ڈی ایم بنی ۔حکومت کو سخت اپوزیشن دینے فیصلہ ہوا۔ اور جنوری تک کے لیے ایک مشترک لائحہِ عمل کا اعلان کیا گیا ۔
بورژوا اپوزیشن اس حکومت کے خاتمے اور نئے الیکشنز کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مگر موٹے موٹے انداز میں دیکھا جائے تو دنیا بھر میںمزدوروں کسانوں اورسرمایہ داروں کی سیٹیں آبادی کے تناسب سے الگ الگ نہیں ہیں۔ بلکہ ایسا طریقہ رکھا گیا ہے کہ عام آدمی اِن الیکشن میں جا ہی نہیں سکتا۔ یہ لکھ پتی اور کروڑ پتی لوگوں کے بیچ الیکشن ہوتے ہیں۔ صرف پاکستان میں نہیں، بلکہ دنیا بھر میں بورژوا جمہوریت بورژوازی ہی کو حکمرانی کرنے کی ضمانت دیتی ہے ۔
بڑی توقعات اِن پارٹیوں سے نہیں ہیں۔ لوگوں کو اِن کی طبقاتی ساخت کا پتہ ہے ۔ ساری بڑی پارٹیاں بے اصول اور بوٹ چاٹنے والے فیوڈل لارڈز کی پارٹیاںہیں۔اپوزیشن کی پارٹیاں تقریباً سب کی سب بورژوا پارٹیاں ہیں ۔ یہ دیہات میں فیوڈلزم برقرار رکھنے کا ذریعہ ہیں۔ ملا اور پیر انہی کے پالے ہوئے ہیں۔ یہ پارٹیاں اور،اُن کے لیڈر فوج کی آشیر باد لینے کے لیے ہر حد ، ہر سرحد پار کرتی چلی آئی ہیں۔ اِن سب کی جینز میں یہ بات موجود ہے کہ پاور مرکز عوام نہیں،چھاﺅنیاں ہیں۔ اور یہ کہ اصل قوت پارلیمنٹ سے باہر واقع ہے ۔ یہ پارٹیاں عوام کے خلاف تو ہیں ہی مگر اپنی پیدائشی نقص کے سبب ایک دوسرے سے بھی دست و گریباں رہتی ہیں۔غیر بنیادی معاملات پہ اس دست و گریبانی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ملک میں جمہوریت ضعیف ہے، آئین کو کوئی شرف حاصل نہیں ہے۔ اور بورژوا آزادیاں تک میسر نہیں ہیں۔
پادری ڈیموکریٹ نہیں ہوسکتا اور سود خور مساوات پہ یقین نہیں رکھ سکتا۔ نہ ہی کلف لگا طرہ والا فیوڈل لینڈ ریفارمز کرنے کی طرف جائے گا۔بلاشبہ پی ڈی ایم بھی پاور شیئرنگ معاہدہ میں اپنے حصہ میں اضافہ کے لیے بنی ہے۔اور یہ لوگ جانتے ہیں کہ اُن کے بیچ کوئی بہت بڑا ٹکراﺅ اِن سب کو کمزور کر دے گا۔ اور نتیجے میں عوام ابھریں گے۔اور یہ بات انہیں قطعاً گوارا نہیں ۔ اس لیے اس بظاہر بڑی جنگ کا نتیجہ ایک اور جوائنٹ و نچر ہوگا ،عوام کے استحصال کا ایک اور معاہدہ۔
مگر، اِس سب کے باوجود ہمیں ایک بات جرات سے کہنی ہے ۔ وہ یہ کہ ہم خود اپنی قوت و تنظیم بڑھاتے رہنے کی شرط پہ ،پی ڈی ایم بننے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ہم ایک سماج کو غیر سیاسی بنانے کے خلاف ہر مزاحمت ،ہر کوشش کو اچھا سمجھتے ہیں۔
اس اتحاد کے کچھ مطالبات خود ہمارے ہی مطالبات کا ایک حصہ ہیں۔ اس لیے بھی ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ لیکن ہم ان مطالبات کے ساتھ ساتھ اپنے بنیادی مطالبات کبھی نہیں بھولتے۔ یعنی لینڈ ریفارمز، عورتوں کے حقوق ، قوموں کا حق ِخود حکمرانی اور سامراجی قرضوں سے انکار ۔
ہم جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور پنجاب کی دوسری سیاسی پارٹیوں ،اور ریاستی اداروں کی فیصلہ کن لیڈر شپ میں جماعت اسلامی کے ہی آدمی ڈالے ہوئے ہیں۔ اس لیے آخر میں سب کے عمومی سیاسی موقف میں کوئی بڑا فرق نہیں۔ پھر چونکہ بورژوا پارٹیاںمعمولی سی مصلحتوں کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے مل جانے کا گھناﺅنا ریکارڈ رکھتی ہیں۔اس لیے عوام کو اپوزیشن کے کسی جمہوری مطالبے کے ساتھ ساتھ اپنے مطالبات پرزور دیتے رہنا چاہیے۔ اور اپنے میںسے ہی سیاسی پارٹی اور قیادت ابھارنے کی جدوجہد برقرار رکھنی چاہیے ۔
اس سلسلے میں ٹریڈ یونین ،کسان کمیٹی اور دانشوروں کی تنظیم پہ خصوصی توجہ دینی ہوگی۔اگر روشن فکر لوگوںنے ہمت کی تو کووِڈ کی عالمی وبا ،اور کپٹلزم کا بحران ہمارے ہاں کی جمہوری تحریک کے مددگار ہوں گے۔ مگر اگر ہم ایسا نہیں کرپائیں گے تو یہی کووِڈ اور کپٹلزم کا بحران ہم پہ فاشزم بھی نافذ کرسکتا ہے ۔ بورژوا جمہوری تحریک صرف اُس وقت عوام الناس کی مدد گار ہوگی جب عوام الناس کی اپنی طبقاتی پارٹی منظم و مقبول اور لیڈر والی ہوگی۔ بصورت دیگر یہی بورژوا جمہوری تحریک عوام الناس کے جمہوری حقوق کو مزید پیچھے دھکیلے گی۔
سیاسی دورا ہے کی موجودہ گھڑی میں بورژوا اپوزیشن کے اس اتحاد کے قیام کو عوامی ”اصلی “تحریک کے لیے ایک مثبت اقدام سمجھنا چاہیے ۔ اس لیے کہ عوام بھی چاہتے ہیں کہ اقتدار پہ فوج ، عدلیہ ، پیر ،بندوق بردار مافیاز، اور مولوی کی مداخلت ختم ہو۔بورژوا آزادیاں بحال ہوں۔ ووٹ کو تکریم میسر ہو، لکھے ہوئے آئین کی حکمرانی ہو، اورپارلیمنٹ بالادست ہو۔ مگر ہم بورژوا پارٹیوں کے برعکس یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہر شہری کو باوقار طور پر زندہ رہنے کا حق میسر ہو۔روٹی ،تعلیم ،صحت ،امن اورانصاف ہر شہری کو میسر ہوں۔ہمیں اپنے نظریے اور محنت کش عوام کی پارٹی سے جڑے رہنے کی شرط پر بورژوا انقلاب سے لاتعلق رکھنے کا کوئی حق نہیں ۔ کسی بھی عوامی تحریک کی قیادت کو بورژوا طبقے کے حوالے نہیں کرنے دینا چاہیے ۔”عوام کی پارٹی“ کو سرگرمی کے ساتھ ہائبرڈ سیاسی نظام کے خلاف سٹرگل میںشریک ہونا چاہیے۔
یاد رکھیے کہ اِس دور میں مکمل سیاسی آزادیوں کی موجودگی اور ملک کے جمہوری ہونے سے ہی آپ عوام کو اُن کی حتمی منزل تک پہنچا سکیں گے۔
ظاہر ہے اس منزل تک پہنچنے کے لیے ابھی بہت کام اور بہت سیڑھیاں طے کرنی ہیں۔ دوکاموں کی تو بالخصوص ضرورت ہے : محنت کش عوام کی اپنی ایک انقلابی سیاسی پارٹی ہو جو بورژوا پارٹیوں سے بالکل ہی جدا ، منظم اور باشعور ہو۔ اور پھر یہی پارٹی اپنے پرچم اور ڈسپلن تلے گلی میں دیگر اپوزیشن پارٹیوں اور اُن کے اتحادکے ساتھ ،اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے، ورکنگ تعلق بناکر چلے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*