ایک انقلابی کی کتھا

وہ پہاڑوں کے پیچھے پڑا تھا کہیں

جیسے سورج شفق میں نہایا ہوا
سون میانی میں ڈبکی لگاتا ہوا
وہ لہو رنگ تھا
اور لڑا تھا وہیں
وہ پہاڑوں کے پیچھے پڑا تھا کہیں

وہ اونٹوں کے ٹلیوں میں بجتا ہوا
ساربانوں کے ہونٹوں پہ سجتا ہوا
وہ کئی گیت تھا

مائوں کی لوریوں میں کوئی نیند تھا
صحرائوں میں رکتے ہوئے قافلے
وہ پڑائو میں جلتی ہوئی آگ تھا
اسکی دھرتی تھی سونااگلتی ہوئی
اسکے لوگوں میں غربت ابلتی مگر
پر ہر طرف چور تھے
شور ہی شور تھے
رہزنوں سے بھرے راستے پرخطر
رہبروں سے لٹے قافلے بھی بہت

رات تو رات تھی
دن بھی تاریک تر
وہ لوگوں کی آنکھوں میں تھا رت جگے
لوگو سونا نہیں جاگنا ہے ابھی
یہ تو کہتا تھا وہ
ہر دل میں رہتا تھا وہ

چراگاہوں میں چرواہوں کے چنگ میں
بوڑہے گدڑیے کی بنسری میں تھا وہ
قافلہ اس سرائے میں جو تھا رکا

لڑکیو ! ڈھول کی تھاپ پر
لوک گیتوں غنانوں *کی اس چاپ پر
مہندی کے کھیتوں کی خوشبو میں وہ

ہر اس کاریز میں
بہتے جھرنوں کے ان پانیوں میں بھی وہ
تیرے گھگھوں کے ان آئینوں میں بھی وہ
وہ لہو رنگ تھا وہ لڑا تھا وہ
وہ پہاڑوں کے پیچھے پڑا تھا کہیں۔

٭غنان یا گنان قدیم دعاعیہ و عارفانہ شاعری جو اسماعیلی چاہےذکری مسلمانوں کی عبادات میں ملتی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*