ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : ستمبر 2020

بھوک کے راستے حملہ کرتی محبت

کیا تم پہچانتے ہو رات کے آخری پہر عورت کے چہرے کی تھکن کو شطرنج کے آخری پیادے کی خوشی کو جب وہ دشمن کے پہلے خانے پہ قابض ہو جاتا ہے کیا تم نے کبھی سنی ہے حوصلے کی ٹوٹتی کڑیوں کی کراہ جس کے بعد دھڑکنیں زنجیر میں ...

مزید پڑھیں »

سائیں کمال خان شیرانی

باوجود اس کے کہ سائیں کمال خان شیرانی پختونخوا ملی پارٹی کا بنیاد گزار تھا اور میں ایک ٹھیٹ پنجابی۔ مجھے پختونستان سے کوئی ہمدردی ہے نہ دلچسپی۔۔۔ باوجود اس کے کہ وہ ایک سوشلسٹ تھا اور میں پکی عقیدے والی۔مجھے کارل مارکس کی بہت سی باتیں پسند ہیں لیکن ...

مزید پڑھیں »

حیات بلوچ

پیری میں لُٹ گئی عمر بھر کی کمائی خاک میں مل گئیں اُمیدیں لہو ہو کر وہ علم کا سودا ئی تھا خواب تھے آ نکھوں میں بھروسہ تھا قوت بازو پر آ خری لمحوں تک درانتی ہاتھوں میں تھی اپنی محنت پر ناز تھا جس کو وہ شہر یار ...

مزید پڑھیں »

فیصل آباد کی تاریخ اور ادبی پس منظر

"ساندل بار "پنجاب کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی سی حیثیت رکھتا ہے اس کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی پنجاب کی ،قیام پاکستان سے پہلے دوسرے شہروں کی نسبت فیصل آباد کا خطہ کچھ زیادہ ہی بنجر اور ویران کہلاتا تھا ۔۔یہ علاقہ ” ساندل بار ...

مزید پڑھیں »

ریکھاؤں سے باہر

"اچھا تو کیا دنیا سچ مچ بالکل خالی ہوجائے گی؟ کیا یہ ہنستے چہروں والے لوگ بھی باقی نہیں رہیں گے؟ اور کیا میں بھی!! ۔۔۔ دھول اڑاتے دن کی راکھ میں کھو جائوں گا؟” بوڑھی آنکھوں سے اس نے تب دور خلا میں گھورتے گھورتے خشک گھاس کا تنکا ...

مزید پڑھیں »

ڈی کلاس کلب کا ممبر’’ جانان‘‘

سائیں کمال خان شیرانی نے جب سیاست میں شخصیت پرستی اور زربردستی جیسی برائیوں کو بڑھتے دیکھاتو ڈی کلاس کلب کے نام سے کچھ نظریاتی لوگوں کی ایک غیر رسمی انجمن قائم کرلی۔اس انجمن کے افراد کے قومی افکار کی سچائی اور اخلاص سائیں مرحوم کے ذہنی کرب کو کچھ ...

مزید پڑھیں »

ذرا سی حرارت ملے تو۔۔۔۔

ذرا سی حرارت ملے تو چمکتا ہوا دھوپ کا ایک ٹکڑا بنائوں ٹھٹھرتی فضائوں کی یخ بستہ آنکھوں میں کرنیں کھلائوں بہت منجمد آسمانوں کو چھوتی ہوئی چوٹیوں پر کھنکتے ، سبک ، مست جھرنے دھروں اور تخیل کے بیکار،ساکت پرندوں کو اڑنا سکھائوں ذرا سی محبت ملے تو سیہ ...

مزید پڑھیں »

نوشین قمبرانی کی شاعری کا مختصر انتخاب

نخلِ دل کے برگ و باراں کو مُیسّر، تُو نہ تھا بج رہے تھے ساز تیرے چارسُو پر، تُو نہ تھا جنگلوں کی نیند پہلو میں مِرے جاگی رہی نیم بیداری کی شِریانوں میں شب بھر، تُو نہ تھا چاپ سے تیری تَھرک جاتیں زماں کی وُسعتیں آگہی کا رقصِ ...

مزید پڑھیں »

پہاڑوں کے نام ایک نظم

(شاہ محمد مری کی ایک کتاب پڑھ کر) روایت ہے پہاڑوں نے کبھی ہجرت نہیں کی یہ بارش برف طوفاں سے نہیں ڈرتے یہ خیمے چھوڑ کر اپنے نہیں جاتے کبھی نامہرباں افلاک پانی بند کردیں تو نہ بارش کے خدا کا بت بناکر پوجتے ہیں اور نہ سبزہ زار ...

مزید پڑھیں »

قطبی ستارہ

(نوٹ: موسٰی عصمتی نابینا ہیں اور نابینا بچوں کے اسکول میں بطور استاد فرائض انجام دے رہے ہیں)۔ اگر کسی دن آگ لائی جائے اور میری ٹوٹی ہوئی لالٹینیں دوبارہ روشن کردی جائیں میں تب تک دیکھوں گا جب تک آسمان بے رنگ نہیں ہوجاتا جب تک پہاڑوں کی برف ...

مزید پڑھیں »