امید

تم ٹھہرو ذرا

میں آتی ہوں

سورج سے نُور کی کرنیں لے کر

کسی معصوم طفل کے لبوں سے

ہنسی لے کر

کسی خوشبو بھرے جنگل سے

تتلیاں پکڑ کر لاتی ہوں

تم ٹھہرو

میں آتی ہوں

شام کے ڈھلتے منظر نامے میں

چند جگنو پکڑ نے

میں ہمیشہ تنہا ہی جاتی ہوں

رات آئے تو مت ڈرنا!

ستاروں سے رستے پوچھ کر

تم کو بتاتی ہوں

تمہاری خواب بھری اِن آنکھوں

کے واسطے

نیند بھی لاتی ہوں

تم ٹھہرو میں آتی ہوں!۔

تم ٹھہرو میں آتی ہوں!۔

ماہنامہ سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*