آئیڈینٹیکل ٹونز ( Identical Twins )

لفظوں کے بھی جسم ہوتے ہیں
حرف کی ہڈیوں سے بنے ہوۓ
میں بوسے کا جسم محسوس کر سکتا ہوں
نرم اور ملائم
بوسے کی ساری ہڈیاں کُرکُری ہوتی ہیں
خواہش کے گُودے سے بھری ہوئی
کچھ لفظ اپنے جسم میں
گھُٹ گھُٹ کے مر جاتے ہیں
ہر لفظ کے جسم کا الگ ذائقہ ہوتا ہے
لفظ کی آنکھیں اُس کے ذائقے سے بنتی ہیں
خوشی کی آنکھیں چمک دار اور
غم کی انکھیں گیلی ہوتی ہیں
میں نے دیکھا ہے لفظوں کو
جذبوں کی جاروب کشی کرتے ہوئے
تمہارے لفظ تھکے ہوئے
اور اپنی آنکھوں سے بیمار لگتے ہیں۔
میں ایک ایسے لفظ کو جانتا ہوں
جو میرے دل کی مچان پہ بیٹھا
اونگھتا رہتا ہے
اس کو میں نے یاد کا نام دیا ہے
اور ایک کل ہے
لمحے کے دریا کے اوپر سے گزرتے ہوئے
جس نے مجھے ادراک کے پُل پہ
روک رکھا ہے اس مخمصے میں
کہ یہ کونسا والا کل ہے
کل والا یا۔۔۔۔ کل والا؟
شاید یہ جینیاتی مسلۂ ہے
مجھ سے کمزور نظروں کو
جڑواں شکلیں اکثر دھوکا دے جاتی ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*