خاموش رہو

کون مسافربرسوں سے
سنسان پڑی خاموش گلی سے گزرا
آنکھیں ملتی رات کی اوک میں
شام گلابی گاگر خالی کرتے کرتے چونک اٹھی
کب ریشم سے ریشم الجھا
اور بجتی ہوئی سرگم سے ٹوٹ کے سانس گری
کس آہٹ نے دل میں پھیلی اک ویرانی پر پاؤں دھرا
کب دیر سے جلتی دھرتی پر بادل برسا۔۔۔۔
بادل برسا
اور سوندھی خوشبو نے مخمور ہواؤں کی
سرگوشی سے اک گیت بْنا
کب گرہ کھلی شاخوں سے بندھے شگوفوں کی
چپکے چپکے کب دل دھڑکا
یہ بھید بھلا کس پر ہے کھلا
بس رنگ اڑاتی ہوا میں لمبی سانس بھرو
خاموش رہو۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*