غزل

اب ایک دوسرے کی ضرورت نہیں رہی

جب فاصلے نہیں تو محبت نہیں رہی

اس گھرسیاب یہ نقل مکانی کاوقت ہے

دل میں اگر کسی کی سکونت نہیں رہی

آغازِ عشق میں بڑے ثابت قدم تھے ہم

اب وہ شکست و ریخت سلامت نہیں رہی

جتنے بھی جاں نثار تھے جاں سے گذر گئے

اس کو گماں ہے رسمِ بغاوت نہیں رہی

یہ دکھ نہیں کہ قتل کو روکا نہ جاسکا

یہ رنج ھے کہ خْوئے شہادت نہیں رہی

کافر تھے اہلِ دیروحرم کی نظر میں ہم

جب ہمنہیں رھے تو عبادت نہیں رہی

اب سامنا کریں گے رضی زندگی کا ہم

مشکل نہیں کوئی کہ سہولت نہیں رہی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*