گینگ ریپ

وہ فیمنسٹ جو قصاص اور دیت کے مخالف ہیں تجویز دے رہے ہیں کہ ریپ کے خاتمے کے لیے جسم فروشی قانونی بنائی جائے!

یہ لوگ قصاص اور دیت کے قانون کے مخالف ہیں کیونکہ کسی شہری، اور خصوصا عورت کے قتل کا خون بہا ادا کرنا، یعنی اس کے عوض پیسے دے کر قتل کی سزا سے بچ جانا، ناجائز ہے۔ مگر انہیں لگتا ہے کہ جسم فروشی میں ریپ نہیں ہوتا کیونکہ سیکس کے عوض پیسے کا لین دین اس بات کا ثبوت ہے کہ اس قسم کے سیکس (ریپ) میں "رضامندی” شامل ہے!

یہ لوگ موجودہ دور میں منظم ریپ کے سب سے بڑے مظہر یعنی جسم فروشی کی صنعت کو، ریپ اور سیکس کے کلچر کو پورن ویپ، اینٹرٹینمنٹ، اور مارکیٹنگ کے زریعے گھر گھر، بچے بچے تک پہنچادینے والے نظام کو، یعنی سرمایہ دارانہ نظام کو، جس میں انسان، عورت اور ریپ مارکیٹ میں بکنے والی پروڈکٹ بن چکے ہے، مجرم ٹہرانے کے بجائے اسے "پدرشاہی” کے مفروضہ بھوت کی آڑ میں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ آج سماج میں موجود جنسی اور جسمانی تشدد سرمایہ دارانہ پیداواری اور سماجی رشتوں کی پیدا کردہ شدید نابرابری، سماجی بیگانگی اور قانون کو صرف غریبوں پر لاڑھی چارج کے لیے استعمال کرنے کا نتیجہ نہیں بالکل ریپ کرنے والے فرد کی "ذہنیت” کی پیداوار ہے! ان میں ایسے "مارکسی” بھی ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ مارکس کے بقول انسانی شعور انفرادی نہیں سماجی ہوتا ہے اور سماجی حالات (پیداواری رشتوں) کی ہی عکاسی کرتا ہے!

اور آخر میں: سزا کے زریعے جرم ختم کرنے کی تھیوری اور پریکٹس قدیم طبقاتی سماج سے لے کر آج تک صرف مسلسل ناکام ہی ثابت ہوئی ہے۔ جرائم صرف وہیں ختم ہوئے جہاں پیداواری اور لہذا سماجی رشتوں میں نابرابری کو ختم کر دیا گیا۔ اگر مارکس ازم کی سائنس اور اس کے عملی اطلاق کے تاریخی تجربے سے اپ یہ ابجدی باتیں بھی نہیں سیکھ پائے ہیں تو آپ صرف فیشن ایبل مارکسی ہیں۔

نوٹ: صرف وہی فیمنسٹ ناراض ہوں جو ایسا سوچتے ہیں۔ انہیں اس لیے فیمنسٹ شمار کیا گیا ہے کیونکہ فیمنزم کی مشہور عام اور بیہودہ ترین تعریف کے مطابق خواتین کے حقوق کی طرفداری کرنے والا ہر شخص فیمنسٹ ہوتا ہے (حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے).

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*