*

چاندنی میں سایہ ھائے کاخ و کُو میں گُھومیے
پھر کسی کو چاھنے کی آرزو میں گھومیے

شاید اِک بُھولی تمنا ، مٹتے مٹتے جی اُٹھے
اور بھی اُس جلوہ زارِ رنگ و بو میں گُھومیے

رُوح کے دربستہ سناٹوں کو لے کر اپنے ساتھ
ھَمہماتی محفلوں کی ھاؤ ھُو میں گُھومیے

کیا خبر کس موڑ پر مہجُور یادیں آ ملیں
گُھومتی راھوں پہ گردِ آرزو میں گُھومیے

زندگی کی راحتیں ملتی نہیں ، ملتی نہیں
زندگی کا زھر پی کر ، جستجو میں گُھومیے

کنجِ دوراں کو نئے اِک زاویے سے دیکھیے
جن خلاؤں میں نرالے چاند گُھومیں ، گُھومیے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*