۔

عظمت رفتہ کے ویران مناروں میں بسے
عہد گم گشتہ کی خاک سنبھالے ہوئے لوگو
آئینے! جن میں نظر آتا ہے تمہیں ماضی اپنا
ماضی! جو امروز سے آگاہ ہے نہ فردا سے جڑا
ماضی! جو ایام گذشتہ کی مئے سے ہے معمور
ماضی ! جو سالہا سال سے ماضی ہی چلا آتا ہے
کہ تمہاری ہر نسل کو ورثے میں یہ ماضی ہی ملا
جس کے دامن میں ہیں جنگوں میں اتارے ہوئے سر
اور تیروں سے بھرے تھیلے جو اٹھاتے تھے خدام
یا وہ قصے ہیں جو مورخ بے نام نے دربار میں بیٹھ کے لکھے
آئینوں کے سجن میں نسلوں کے اسیرو جاگو!
عظمت رفتہ کے ویران مناروں سے تو جھانکو
ماضی کے آسیب سے نکلو تو تبھی دیکھو گے!!
دور خوش حالی ہمیشہ سے فقط دربار کا ہے
بادشاہوں نے مگر اب کے ذرا بدلا ہے قرینہ
!!

😑

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*