سندھ کے الف لیلوی وڈیرے، سیاست اورجھیل کے پرندے

کسی نے سندھ کے ایک بہت بڑے جاگیردار اور سردار سے پوچھا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ پارٹیاں تبدیل کرتے رہتے ہیں تو انہوں نے برجستہ جواب دیا تھا کہ ”نہیں ہم تو ایک ہی پارٹی میں ہوتے ہیں ہم کیا کریں کہ حکومت ہی بدل جاتی ہے۔“
یہی چلن کچا سندھ کی سیاست میں برسہا برس اور نسلوں سے کئی خانوادوں کا ہے جن میں سندھ کے انتہائی طاقتور جاگیردار اور مہر قبیلے کے سردار بھی شامل ہیں جنہوں نے نہ جانے 1970 لے کر اب تک کتنی بار پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔شمالی یا اپر سندھ کے گھوٹکی ضلع کے صحرائی علاقے میں سکھر سے لے کر پنجاب میں رحیم یار خان تک جاگیریں اور شکار گاہیں رکھنے والے یہ مہر سردار بھی اپنے اثرو رسوخ سیاست، تعلقات اور سماجی علم الانسان کے حوالے سے الف لیلوی کہانیوں اور سولہویں صدی کے یورپ میں فیوڈلز کی نصابی تعریف کے درمیان کوئی بیچ والا مظہر ہیں۔شمالی سندھ کے صحرا میں شکار گاہیں جن میں دوڑتے ہرنوں اور اڑتے نایاب پردیسی پرندوں کے شکار کے لئے پاکستان کے ہر فوجی و سول حکمرانوں سے لے کر عرب شیوخ و شہزادوں کی خیمہ گاہوں میں مہمانداریاں اور سیر وشکار۔ اور اب صحرا میں ایستادہ محل اور ایئر کنڈیشنڈ خیمہ بستیاں جن میں شکار کے تمام سیزن میں عرب شیوخ اور شہزادے ہمیشہ خیمہ زن۔
ایسے ٹھاٹ دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ یہ وہ سندھ ہے جسے مشاق انگریز مستشرق و متجسس کھوجی (ایکسپلورر) سر رچرڈ ایف برٹن نے”ان ہیپی ویلی“ یا ” ناخوش وادی“ لکھا تھا ، اور شاید نادار، ناراض اور غریب سندھ صدیاں گزرجانے کے باوجود آج بھی اسی طرح ہے۔ رنگ برنگی سندھی ٹوپیوں اور ترا شیدہ بڑی مونچھوں والے سردار بھوتار اپنے علاقے میں دور دور تک ہر سفید و سیاہ سیاق و سباق پر قدرت رکھتے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو نے ڈیتھ سیل یا کال کوٹھڑی سے اپنی لکھی جانے والی کتاب”اگر مجھے قتل کیا گیا “ میں بھی مہر سرداروں کے جد امجد سردار علی گوہر خان مہر سینئر کی ذہانت اور سیاسی بصیرت کا ذکر کیا ہے، ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان کے اس ذاتی دوست مہر سردار کے متعلق بات کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگرچہ سردار علی گوہر مہراَن پڑھ تھا لیکن اس میں سیاسی سوجھ بوجھ ایوب خان سے زیادہ تھی اور ایوب خان کی بنیادی جمہوریتوں کے بارے میں ایوب خان سے زیادہ علی گوہر مہر کو عبور حاصل تھا۔سکندر مرزا اور صدر ایوب کے ساتھ سردار مہر کی دوستی اور ان کی خان گڑھ کی جاگیر اور شکار گاہوں پر دعوتیں مشہور ہیں جن میں ذوالفقار علی بھٹو بھی شریک ہوتے۔
علی گوہر مہر کی وفات کے بعد ان کے بھتیجے غلام محمد خان مہر کو سرداری کی پگ پہنائی گئی۔ اپنی روایات و رکھ رکھاؤ میں آرتھوڈاکس سردار غلام محمد نے ہمیشہ اپنی سر پرپہنی ہوئی ترکی ٹوپی تو نہیں بدلی لیکن پارٹیاں متواتر بدلیں۔
جب ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی پی پی پی نے 1970 میں انتخابات میں حصہ لیا تو سردار غلام محمد خان عبد القیوم خان کی مسلم لیگ میں تھے اور علاقے میں ایک او رسردار اور پی پی پی کے ٹکٹ یافتہ نور محمد لونڈ کے ہاتھوں شکست کھا گئے تھے۔ لیکن انتخابات میں جاگیرداروں کے خلاف بات کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو جب وزیر اعظم بنے تو 1973میں انہوں نے مہر سردار کی دعوت پر گھوٹکی کی کا دورہ کیا اور ایک جلسے میں سردار غلام محمد مہر نے پی پی پی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ سردار غلام محمد کو پھر سینٹ میں پی پی پی کا ٹکٹ دیا گیا۔ لیکن جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ ضیاء الحق نے الٹا تو مہر سردار ضیاء الحق کی حکومت میں شامل ہوگئے۔ پھر وہ محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر بھی بنے تو1985کے غیر جماعتی انتخابات میں رکن قومی اسمبلی بھی۔ ضیاء الحق اور ان کی ساڑھے گیارہ سالہ آمریت کے بعد جماعتی بنیاد عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کے میاں مٹھو کے ہاتھوں سردار غلام محمد مہر شکست کھا گئے۔ جب بینظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی تو مہر سردار کی حمایت کے لئے ان کے مہمان اور خان گڑھ کے صحرا میں شکار کے لئے خیمہ زن عرب شہزادوں کی مدد حاصل کی گئی تھی۔1993 کے انتخابات میں مہر سردار پی پی پی میں شامل ہوکر انتخابات جیت کر آئے۔سردار غلا م محمد مہر کے انتقال کے بعد ان کے بھتیجے علی گوہر مہر سردار بنے۔
1998میں جب بینظیر بھٹو نے کالا باغ ڈیم کے خلاف سندھ پنجاب بارڈر پر دھرنا مارا تھا تو اس کی میزبانی مہر سرداروں نے کی تھی۔ لیکن ظاہر ہے کہ سندھ اور سرائیکی بیلٹ کے حلقوں سے لاکھوں لوگ تو بے نظیر او رکالا باغ ڈیم کی مخالفت کی وجہ سے آئے تھے۔
2002 میں فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ہونے والے انتخابات میں مہر نوجوان سردار علی محمد مہر پی پی پی کی حمایت سے سندھ اسمبلی میں منتخب ہوکرآئے لیکن بعد میں انہوں نے اپنے بھائی سردار علی گوہر مہر ایم این اے کے ہمراہ مشرف کی حمایت کا اعلان کیا اور سندھ کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے لیکن ان کا دور کم از کم وزیر اعلیٰ ہاؤس کی شبوں تک واجد علی شاہ کا عہد لگتا تھا۔ بعد میں علی محمد مہر سے استعفیٰ لیا گیا اور ان کی جگہ تھر کے ایک اور جاگیردار ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کو وزیر اعلیٰ منتخب کروایا گیا۔ پی پی پی کارکنوں کے خلا ف یہ کڑے دن تھے۔اب ایک بار پھر مہر سرداروں نے حال ہی میں صدر آصف علی زرداری کے ساتھ بلاول ہاؤس میں ملاقات کر کے اور خان گڑھ میں پریس کانفرنس کے ذریعے پی پی پی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے مہر سرداروں کے پی پی پی کے اعلان والے دن کو ان کی پارٹی کے لئے بڑا دن قرار دیا۔ سندھ کی سیاست کی جھیل میں وڈیرے وہ پرندے ہیں جو کبھی ایک کنارے تو کبھی دوسرے کنارے ہوتے ہیں۔جیسے جیسے پاکستان میں انتخابات قریب ہوتے جائیں گئے تو ایسے کئی خانوادے بقول ان کے، ”بغیر کسی عہدے کی لالچ کے“ اپنے”ہزاروں ساتھیوں کے ہمراہ“ رضاکارانہ طور نہ جانے کتنی بار حکمران پارٹی میں شمولیت کے اعلان کر رہے ہوں گے۔
پھر سندھ کے صحرا میں کوئی پھول کھلے
اس دشت میں ایسا کوئی امکان نہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*