ریکھاؤں سے باہر

"اچھا تو کیا دنیا سچ مچ بالکل خالی ہوجائے گی؟
کیا یہ ہنستے چہروں والے لوگ بھی باقی نہیں رہیں گے؟
اور کیا میں بھی!! ۔۔۔
دھول اڑاتے دن کی راکھ میں کھو جائوں گا؟”

بوڑھی آنکھوں سے اس نے تب دور خلا میں گھورتے گھورتے خشک گھاس کا تنکا توڑا اور پھر بولا

"لیکن بابو میری پور پہ جانے کیسے
نئے پرانے سارے دن ہی سانسیں بھرتے چکراتے ہیں
تم جس بنچ پہ بیٹھے ہو
میں اسی جگہ پر دیکھ رہا ہوں
ایک گلاب کی جھاڑی،
دو شرمیلی آنکھیں
میں تو یہاں پر اک ٹیلہ بھی دیکھ رہا ہوں
گرد بھری دوپہر میں سرخی مائل چہرہ پھولی پھولی سانسیں ۔۔۔۔ رنگ برنگے بنٹے میری جیب کے اندر جیسے تڑپ رہے ہیں
یہیں کہیں پہ مجھے بلاتی ماں کی صدا بھی گونج رہی ہے”

اسّی برس کے چہرے کی ہر سلوٹ میں اک حیرت بھر کے اُس نے پوچھا!!

"بھلا بتائو گر یہ سب موجود نہیں تو
مجھے دکھائی کیوں دیتا ہے
میری رگوں میں شور مچاتا پانچ صدی پہلے کا پل بھی مجھے سنائی کیوں دیتا ہے”

اُس کے دھیمے لہجے میں سو بھید چھپے تھے
بوڑھا شاید سچ کہتا تھا
سامنے پیڑ کی شاخوں پر
کچھ دھندلے بادل رکے ہوئے ہیں
کسے پتہ ہے اک منظر میں لاکھوں منظر چھپے ہوئے ہیں
کیا جانیں اب وقت کی ریکھائوں کے باہر کیسے زمانے بیتے ہیں
ہم بھی اک جیون کے اندر
کتنے جیون جیتے ہیں۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*