سنگت ماہ ستمبر کا ادارتی نوٹ: قہر ٹوٹا حیات بلوچ کی ماں پہ

کراچی یورنیورسٹی کا سٹوڈنٹ حیات بلوچ ،فریاد کرتی گڑگڑاتی ماں کے سامنے مین روڈ پر گھسیٹا گیا۔ اور اُس کے بھرپور جواں بدن پہ آٹھ گولیاں ماری گئیں۔ بغیر وکیل وعدالت کے ، بغیر گناہ کے ، بغیر ثبوت کے ۔ اور یہ قیامت عام گلی کے غنڈوں کے ہاتھوں برپانہیں ہوئی بلکہ ترقی یافتہ اور بنیادی انسانی حقوق کا خیال رکھنے والی صدی یعنی اکیسویں صدی کی ریاست کی فوج کے ہاتھوں ہوئی۔ اس قدر سفاکیت ، اس قدر فسطائیت! ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*