ہنگول سے ہنگلاج

"ہنگلاج پری کا Shrine دنیا میں ہندو مت کے قدیم ترین اور سب سے مقدسShrinesمیں سے ایک ہے۔ دنیا بھر کے بالخصوص سندھ کے ہندوؤں کی اہم ترین زیارت گاہ۔ یہ shrine ہنگول پارک میں ہی ہے۔ بھئی، یہ شہروں کا عام پارک نہیں ہے۔ یہ تو 1650 کلومیٹر کاوسیع علاقہ ہے، جسے پارک قرار دیا گیا ہے۔

مین ہائی وے کے دائیں طرف ایک بڑا گیٹ نظر آیا۔ یہاں ایف سی، لیویز وغیرہ کے چیک پوسٹ ہیں، ایک آدھ کھوکھا نما دکان ہے۔ اور چائے کا دھابا تو ہے ہی۔ یہاں بے شمار بورڈز بھی لگے ہوئے ہیں …………ہندو انہ بورڈ۔ اسی طرف تھا: ہنگلاج مندر۔
یک دم سارا منظر بدل گیا اور ہم بلوچستان کے بالکل ہی ایک نئے رنگ سے آشنا ہورہے تھے۔ مین کوسٹل ہائی وے سے ہم اُس بہت اچھی سڑک پہ شمال کی جانب مڑگئے۔…… دائیں طرف! (ہمیں خدا نے سیاسی ”دائیں“ مڑنے سے ہمیشہ بچائے رکھا)۔
اب ہم پہاڑوں، تنگ درّوں، اور چھو ٹی چھو ٹی وادیوں میں سے گزررہے تھے۔ ہم نے یہ تو دیکھ رکھا تھا کہ سبی کے پہاڑ سورج کی حدت سے جلے ہوئے ہیں۔ یہاں ہنگلاج میں اتنی گرمی تو نہیں پڑتی مگر اُس کے باوجود پتھر یہاں کے بھی جلے ہوئے ہیں۔ اندازہ ہوا کہ یہ پتھر بعد میں نہیں جلے، یہ تو پیدائشی سوختہ ہیں۔ ان کی ماں (سمندر) کی نرم و آرام دِہ کوکھ ہی کیمیائی اور طبعی پراسیسوں سے آگ بگولہ ہوجاتی ہے۔ چنانچہ ہنگول کا رحمِ مادر سیکڑوں سینٹی گریڈ تک کے درجہ حرارت والا تھا۔ اس پورے علاقے کی حمل سمندر میں آگ کے اند ر ٹھہری تھی۔ دائی بھی آگ تھی۔ اور ہنگول کا ناف بھی آگ نے کاٹا تھا۔ یعنی اس علاقے کا خمیر آگ، اس کی مٹی، پانی آگ، اور میتھین گیس آگ تھی۔ آگ جس نے ان سب مظاہر کو کونیم مائع نیم گیس بنا کر شعلہ میں بدل کرسمندر کی گہرائیوں سے سیکڑوں میٹر باہر زمین کی کھال پر پٹخ دیا تھا۔ اس مواد کو ٹھنڈا ہوکر ٹھوس شکل اختیار کرنے میں برسوں لگے۔ اور آج جو کچھ ہم دیکھتے ہیں وہ زمین پر عجیب شکلیں بناتی چٹانیں ہیں۔ کہیں بھوری، کہیں سیاسی مائل اور کہیں مٹیالی چٹانیں۔ جیسے بہت سے بچوں نے ڈھیریاں بنانے کا کلیڑو نامی ٹورنامنٹ منعقد کیا ہو۔ بیسیوں مہیب ڈھیریاں، ایک کے بعد ایک، بے ترتیبی سے بنی پڑی ہوئی ہیں۔ ان کا حجم و رنگ، اور شکل و صورت مختلف عظیم الجثہ جانوروں کی سی لگتی ہے۔

یوں، یہ سڑک مٹی اور پتھر سے بنے جو راسک پارک کے بیچ میں سے بھاگ رہی ہوتی ہے۔ یہ پہاڑیاں بھول بھلیاں ہیں اور ہماری سڑک پھنسے ہوئے چوہے کی طرح کبھی اِدھر بھاگ نکلتی ہے، کبھی اُدھر سے فرار کا راستہ تلاش کرتی جاتی ہے۔ پہاڑوں، ٹیلوں اور کھردراہٹوں کا یہ چڑیا گھر بے انت اور بے متناہی ہے۔ حد نظر تک چاروں طرف یہ پہاڑیاں نظر آئیں گی، ایک بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری۔ (کبھی غور کیا کہ بلوچ سیاست، ثقافت، محنت، نفرت، آرٹ، شاعری سب اس کی اِس
جغرافیا ئی ساخت ہی سے پھوٹتی ہے!!)

ہم عجب رنگ اور ہیئت اور شکل والے پہاڑوں پتھروں چٹانوں میں سے گزررہے تھے۔ دریا کنارے گز، بیر، کہیر اور چغڑد کے درختوں جھاڑیوں کے ساتھ آنکھ مچولی کرتے ہوئے۔ میلوں تک یہی منظر نامہ تھا۔ کہیں ہم ہنگول دریا کا کنارہ تھامے بڑھ رہے تھے اور کہیں اس کی رَو سے دو چار میل کا فاصلہ رکھے جا رہے تھے۔

ہمیں سڑک کے قریب دو چار پہوال بچے بیر کے درخت کو سنگسار کرتے نظر آئے۔ وہ اپنے ریوڑ سے بے خبر تھے، اور اُن کا ریوڑ اُن سے بے نیاز۔ ان کی بھیڑیں دریا کنارے مکمل آزادی میں تھیں۔ حتمی، قطعی اور بے حدو حساب آزادی۔ بے شعور حتمی آزادی میں آدھا ریوڑ بیٹھا قیلولہ کررہا تھا، اور دوسرا نصف، دریا کنارے گھاس اور جھاڑیوں کو ٹٹول رہا تھا۔ اور دو بھیڑیں یا تو فاقہ مستی میں یا پھر شکم سیری میں باہم دست و گریباں تھیں۔ مگر انہیں تو دست اور گریبان دونوں کی سہولتیں میسر نہ تھیں۔ یہ دونوں نعمتیں تو صرف انسان کے پاس تھیں۔ اور سچی بات یہ ہے کہ جس قدر بھونڈا اور سفاک استعمال انہی دو نعمتوں کا انسان نے کیا ہے، اس سے کبھی کبھی اپنے انسان بننے سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ چنانچہ یہ بھیڑیں دست و گریباں نہ تھیں بلکہ سینگ و سر تھیں۔ اور وہ بھی اس حال میں کہ اُس ارینا میں نہ تماش بین موجود تھے، نہ باتیاتس کا کوئی اوور سیئر موجود تھا اور نہ کوئی تھرڈ امپائر۔ نہ سیٹی، نہ تالیاں اور نہ پریس کوریج۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*