پریم مندر!

کتاب کا نام : پولٹ بیورو

مصنف : ڈاکٹر شاہ محمد مری

صفحا ت : 233

قیمت : 300 روپے

میں سر نیچے کیے چلتی رہی اور اس دروازے تک پہنچی۔ اوپر دیکھا تو دروازے کی پیشانی پر ’پریم مندر‘ لکھا ہواتھا۔ میں نے محبت سے ان الفاظ پر ہاتھ رکھا۔ اور پھر آہستہ سے دروازہ دھکیلا جو ایک کرچ کی سی آواز کے ساتھ کھل گیا۔ میں نے اندر قدم رکھا۔ دائیں طرف نیم کے بڑے سے درخت پر انگور کی بیل اپنے مکیں کی یاد میں خشک ہو کر لٹک رہی تھی۔کیاریوں میں پودوں کی باقیات ببانگِ دہل یہ کہہ رہی تھیں کہ یہ گلشن کبھی آباد تھا۔ سچ ہے کہ مکان مکیں ہی سے سجتے ہیں۔ میرے ذہن میں مختلف خیالا ت گڈ مڈ ہوتے رہے اور میں نے سامنے ایک اکلوتے کمرے کا دروازہ کھول دیا۔

ہر چیز مٹی سے اٹی ہوئی تھی۔ ”جاؤ تمھارا شرافت بھی دیکھ لیا، تم اب آئی ہو …… اتنی دیر ہو گئی“ میں نے جلدی سے مڑ کر چارپائی کی طرف دیکھا جہاں سے آواز آئی تھی لیکن مجھے کوئی دکھائی نہیں دیا۔

”کیا کروں کہ آپ کا پتہ اب پایا ہے“ کھڑکی کے پاس کونے میں ایک ٹیپ ریکارڈر رکھا ہوا تھا اور اس کے قریب بے شمار کیسیٹیں۔میں نے ایک کیسٹ اٹھا کر ٹیپ ریکارڈر میں ڈالا۔ بٹن دباتے ہی محمد رفیع اور لتا منگیشکر کی آواز میں بھجن کی آواز آنے لگی۔ ”بیٹھو عابدہ تم بھی سنو۔ میرا ناشتہ روز اسی بھجن کے ساتھ ہوتا ہے۔“ میں چونک گئی اس آواز سے۔

کمرے میں گرد کی وجہ سے بے شمار جالے بن گئے تھے۔ میں کچے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی کہ مجھے کچھ آوازیں آنے لگیں۔ زمین پر بچھی ہوئی دری پر کچھ بزرگ بیٹھے تھے جو کبھی اردو، کبھی براہوئی اور کبھی پشتو میں بات کر رہے تھے۔”1940ء میں میٹرک کرنے کے بعد فوج میں چلا گیا اور پھر 1946سے 1949تک محکمہ ٹیلی گراف میں رہا“ مجھے بازگشت سنائی دی۔

میں سوچوں میں گم تھی کہ اچانک ایک شڑاپ کی آواز آئی۔ میں نے جلدی سے مڑ کر دیکھا؛وہاں ایک مکھی مار پر مکھی بری طرح تڑپ رہی تھی۔ میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ تیر گئی۔ دوسری دیوار کے پاس ایک پرانی میز رکھی تھی جس پر مٹی سے اٹے ہوئے بے شمار کاغذات اور کتابیں پڑی تھیں۔ میں نے ان کی طرف ایک کشش محسوس کی اور میں تقریباً بھاگتے ہوئے وہاں گئی۔ کتابیں الٹنا پلٹنا شروع کر دیں۔ کارل مارکس، لینن اور بے شمار دوسری سوشلزم پر کتابیں پڑی تھیں۔ میں خوشی سے وہ کتابیں دیکھتی رہی۔

”یار وہ ہندوؤں اور سکھوں کی چھوڑی ہوئی دوکانوں میں دو الاٹ ہوگئیں،اس کا نام سوچو“۔ اور پھر سب ہی بزرگ کہتے رہے فی الحال یہ نام بہتر ہے، نہیں فی الحال یہ نام ٹھیک رہے گا اور پھر ان میں سے ایک نے اعلان کر دیا ”بس ہو گیا ہو گیا یارو، اس کا نام ہوگا ’فی الحال سٹیشنری مارٹ‘ تم بس اس میں اسٹیشنری کا سامان لا کر رکھ دو“۔”نہیں صرف سٹیشنری کا سامان نہیں رکھوں گا بلکہ نظریاتی کتابیں بھی چپکے سے لا کر رکھ دوں گا“۔ یوں اٹھتے ہوئے سرخ کپڑا اور سلور پینٹ اٹھا کر بینر بنانے لگا۔“

اچانک مجھے چارپائی کی پائنتی کی طرف ایک پرانا ٹی وی دکھائی دیا۔ میں نے اس پر ڈالا ہوا کپڑا ہٹایا۔ کچی دیوار پر سوئچ بورڈ میں اس کا سوئچ ڈالا۔ ٹی وی آن ہوا۔ اس پر کوئی خاموش پروگرام چل رہا تھا۔ میں اسے چھوڑ کر ریڈیو آن کر نے لگی۔ کوئی زرعی پروگرام چل رہا تھا جس میں سبزیوں کی کاشت، سبزیوں کے کیڑے، کھاد وغیرہ کے بارے میں بتایا جا رہا تھا۔ ”ہاں میں پچھلے تیس سال سے ریڈیو کے لیے لکھ رہا ہوں۔“ بینر بنا کر وہ چوہے والے گتے پر صفحے چڑھاکر سکرپٹ لکھتے لکھتے مجھ سے کہنے لگے۔لیکن ایک لمحے کے بعد وہاں کوئی نہیں تھا۔

میں واپس کتابوں کی طرف آئی۔ وہاں پڑے کاغذات ایک ایک کر دیکھتی رہی کہ اچانک مجھے الگ سے ایک پلندہ نظر آیا جس کی پیشانی پر لکھا تھا ”کبریٰ مظہری کی نظمیں“۔ میں صفحے پلٹنے لگی۔ یہ افغانستان کی پشتون شاعرہ، افسانہ نگار کی پشتو نظموں کا انگریزی میں ترجمہ تھا۔ صفحے پلٹتے میری نظر ایک نظم پر رک گئی؛ Message of the Meek۔اس نے مجھے مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھینچا اور میں زمین پر بیٹھ کر میز سے ٹیک لگاتے ہوئے پڑھتی چلی گئی۔ Saaki, Stranger, Silence …… ایک خوبصورت انقلابی شاعری جو انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ ایک بہت اچھی شاعرہ کی 23 نظموں کا انگریزی میں بہت ہی حسین ترجمہ تھا۔یہ ایک بہت خوبصورت کام تھا۔ میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے ساری نظمیں پڑھ ڈالیں۔ ”مرچ مصالہ سب برابر ہے نا ان نظموں میں؟“ میں نے آواز کی اَور دیکھا اور مسکراتے ہوئے کہا،”ایک دم برابر“۔

”سلیازئی کے انگوری بیٹھک والے، ایسے نہیں چلے گا“ وہ تینوں بزرگ ایک دفعہ پھر سے بذلہ سنجی کا مقابلہ کرنے لگے۔ ”تو پھر کیسے چلے گا گنڈا پوری؟“ دوسرے بزرگ نے پوچھا۔ ”بات یہ ہے نوشکی کے عبدَ کو جان کہ یہاں شال میں ترقی پسند مصنفین کی شاخ دوبارہ قائم ہو گئی ہے اور ہم نے اس میں شرکت بھی کر لی،اس لیے فرض بنتا ہے کہ اس فکر اور نظریے کو بلوچستان کے ادیبوں میں خوب پھیلائیں اور بلوچی اور پشتو زبانوں کی ادیبوں کی تنظیمیں قائم کی جائیں“۔ پہلے بزرگ نے جواب دیا۔

میں دیوار پر لگی کارل مارکس کی بڑی سی تصویر کو کھڑے ہو کر دیکھتی رہی۔ آوازیں بازگشت بن کر میرے کانوں میں اترتی رہیں۔ کچے کمرے میں یادوں کی ایک بہت اداس سی خوشبو تھی۔ ”پشتو ٹولی“ کے نام سے ہماری تنظیم بن گئی۔ ”بلوچی زبان و ادب ئے دیوان“ بن گئی۔ ہمارا بلوچی رسالہ’’سوب“ کی درخواست تو رد ہو گئی لیکن پشتو رسالہ ’پشتو‘ منظور ہو گیا۔“ انگوری بیٹھک کے مکین نے پہلے رسالے کا پہلا اداریہ لکھتے ہوئے کہا۔ میں ان کی بات سنتے ہوئے آگے بڑھ کر اینٹوں پر رکھے ہوئے ایک گھڑے سے گلاس میں پانی لے کر گھونٹ گھونٹ پینے لگی۔

پانی پی کر میں باقی کاغذوں کو دیکھنے لگی۔ مجھے اس میں پشتو میں تحریریں نظر آئیں۔ اتل خان او دامانو کے نام سے ڈرامہ، سپینی سپوگمئی ولاڑہ ہوسہ، میں نے اٹھائی اور پڑھنا شروع کی۔ ”ہاں ہاں پڑھو یہ بھی مجھ سے بس ہو گیا تھا“ انھوں نے ٹی وی کی آواز تیز کرتے ہوئے کہا۔ میں بس ان کو دیکھ کر رہ گئی، کچھ کہا نہیں۔ میں ان تحریروں کے سرور میں کھوئی ہوئی تھی۔

پھر چوہے والے گتے پر کاغذوں کا ایک تھدہ لگا تھا۔یوں جیسے کام کرتے کرتے چھوڑ دیا ہو۔ لکھا تھا؛ ”سوچہ پشتو“۔ میں نے اس سے گرد صاف کی اور پڑھنے لگی۔ لیکن نہیں وہ تو ایک مکمل تحریر تھی۔ پشتون،پشتو گریمر، پشتو زبان، پشتو رسم الخط کے بارے میں جامع تحریر تھی۔ میں پڑھتی رہی کہ ساتھ والی مسجد سے خطبے کی آواز آنے لگی۔مولوی بلوچی اردو بول رہا تھا اور قہقہہ نکل گیا کہ پریم مندر میں نئے آنے والے ساتھی نے برجستہ کہا،”یہ اردو کی جو درگت بنا رہا ہے، لگتا ہے کہ اردو کے لواحقین اگلے جمعے تک پورے آٹھ دن اپنی اردو کے علاج معالجے اور عیادت میں لگا دیتے ہوں گے۔ کوئی اس کے مذکر مؤنث کی دوبارہ مرمت کر یں گے، کوئی اس کی ٹانگوں اور کمرکو بحال کرنے میں لگ جاتا ہوگا اور کوئی اس کو اگلے جمعے کو پھر زخمی زخمی ہو جانے کی ہمت دلا رہا ہوگا“۔یہ نیا سنگت بڑی مشکل سے ملک بھر میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگنے کے بعد ان بزرگ کو سوشلسٹ پارٹی میں شمولیت پر راضی کر پایا تھا۔اور یہی سنگت ان بزرگ کے ساتھ آخر تک رہا۔ انھیں بیماری کے مزے لوٹنے کے لیے چھوڑا اور خود ان کی تیمارداری میں لگا رہا۔

”لو یہ بھی پڑھو“ میں دروازے سے باہر نظر آنے والے نیم کے گھنے درخت کو دیکھ رہی تھی کہ مجھے آواز آئی۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو چارپائی پر کاغذ بکھرے پڑے تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر اٹھائے اور وہیں چارپائی پر بیٹھ کر پڑھنے لگی۔یہ کچھ مضامین تھے،جن میں ”سائیں اور آج کا نوجوان،آس نراس، پشتو ادب اور زندگی“ شامل تھے۔ کچھ ترجمے بھی کیے گئے تھے، جن میں پروین ملال کے مضامین؛تصویر، نوحہ اور قبرستان تھے اور کبریٰ مظہری کی نظموں کے اردو ترجمے تھے۔جو دماغ کو کھول دینے والے تھے۔جو مصنف اور مترجم دونوں کی ترقی پسندی، روشن خیالی کا ثبوت تھے۔

کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ لیکن اس خاموشی میں بھی کچھ آوازوں کی بازگشت دور سے سنائی دے رہی تھی۔ سائے پریم مندر کی دیواروں پر اٹھ چلے تھے۔ میں نے دیکھا کہ کارل مارکس کی تصویر کی دائیں جانب کوئی تصویر گرد میں اَٹی ہوئی آویزاں تھی۔ میں قریب گئی۔اس پر لکھا تھا؛ ”تاریخِ وفات، 21 نومبر 2003ء“۔میں نے جلدی سے تصویر سیدھی کی،اسے اپنے دوپٹے کے پلو سے صاف کر کے سیدھا دیوار پر لگایا، جو ڈاکٹر خدائیداد کی تھی اور اس پر لکھا تھا؛ ”پولٹ بیورو“۔

اداسی نے میرے دل کو پکڑ لیا۔ میں نے محبت سے تصویر پر ہاتھ رکھا اور باہر کی طرف نکل آئی۔ انگور کی بیلوں پر نئی کونپلیں نکل آئی تھیں۔ میں انھیں پانی دے کر پریم مندر سے نکل آئی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*