شاہ عبدالطیف بھٹائی

خواتین وحضرات۔

سب سے پہلے تو میں آج کی تقریب کے منتظمین کا تہہِ دل سے مشکو رہوں جنہوں نے اس باوقار محفل میں مجھے شاہ لطیف کے حوالے سے اپنی معروضات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس اظہارِ خیال کو کلیدی خطبے سے موسوم کیا گیا ہے، لیکن میری گزارش ہے کہ آپ اس کو ایک طالبعلمانہ مشق ہی تصور کریں۔
آج کی تقریب دو عنوانات سے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ دوروزہ کانفرنس کا افتتاحی اجلاس ہے جس میں ہمارے ملک کی بہت سی علمی اور ادبی شخصیات اور خاص طور سے شاہ عبدالطیف بھٹائی کے موضوع پر اختصاص رکھنے والے اصحابِ نقدونظر رونق افروز ہیں۔ آج اور کل ہم ان سب کے رشحاتِ فکر سے مستفید ہوں گے۔ اس کانفرنس کا ایک دوسرا اور خصوصی پہلو یہ ہے کہ اس موقع پر شاہ لطیف کی شخصیت اور فکر، ان کے ذکر سے مربوط اشخاص وکردار، مقامات واسفار، اصنافِ سخن اور شعری تجربات، غرض ان سے متعلق ہر قابلِ ذکر چیز پر مشتمل ایک مایۂ ناز انسائیکلوپیڈیا کا اجرا بھی ہورہا ہے۔ یہ بجائے خود لطیف شناسی کے بہت سے نئے دروا کرے گا اور محققین کے لیے معلومات کا ایک بحرِ زخّار ثابت ہوگا۔
اب سے چند روز قبل جب پروفیسر سلیم میمن صاحب نے مجھے آج کی تقریب میں اظہارِ خیال کا حکم دیا اور ساتھ ہی انسائیکلوپیڈیا کی اشاعت کی اطلاع بھی دی، تو لامحالہ میرا ذہن شاہ لطیف کی قاموسی (Encyclopedic)شخصیت اور کلام کی طرف گیا۔ تب ان کی سحر انگیز شخصیت کے علاوہ ان کے کلام کے بہت سے موضوعات، ہر موضوع کے مختلف پہلو اور ہر پہلو کی ان گنت پرتیں خود بخود ذہن کے افق پر نمایاں ہوتی چلی گئیں۔ اس پر مستزاد شاہ کی شاعری کے متنوع اسلوب، ان کا شعری کرافٹ، ماضی وحال کے کوائف اور لوک داستانوں کو اپنے رنگ میں پیش کرنے اور ہر داستان کے ساتھ ایک وائی کو پرودینے کی ان کی میتھوڈولوجی، ان کا بے کنار تخلیقی ہنر، ان کا باطنی وفور، اور عمیق مشاہدے کی قوت، یہ سب چیزیں ایک ایک کر کے ذہن کے پردے پر نمایاں ہونے لگیں۔
آگے بڑھنے سے قبل میں یہ اعتراف ضروری سمجھتا ہوں کہ شاہ کی شاعری کو سمجھنے کی راہ میں مجھ جیسے لوگوں کو دوبڑی مجبوریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بد قسمتی سے ایک تو میں براہِ راست سندھی زبان اور خاص طور سے کلاسیکی سندھی زبان سے نابلد ہوں۔ اور سچی بات یہ ہے کہ شیخ ایاز اور آغا سلیم جیسے مہربانوں نے شاہ کے کلام کا انتہائی خوبصورت ترجمہ نہ کیا ہوتا تو ہم جیسے لوگ اس سے محروم ہی رہتے۔ سو شاہ لطیف کے حوالے سے ہر اُس محفل میں جہاں مجھے اظہارِ خیال کا موقع ملتا ہے میں ان بزرگوں کو سلامِ شوق پیش کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں جنہوں نے شاہ کی دنیا ہمارے لیے کھول کے رکھ دی۔ ایک دوسری مجبوری جو میرے دامنگیر ہوتی ہے،وہ میرا موسیقی سے تقریباً مکمل نابلد ہونا ہے، جبکہ شاہ کی ساری شاعری موسیقی کے سُروں میں گُندھی ہوئی ہے۔ اس کا ازالہ بھی ہمارے انہی بزرگوں نے کیا ہے اور خاص طور سے شیخ ایاز صاحب نے جس تفصیل سے ان سُروں کی زمانی ومکانی خصوصیات شرح وبسط کے ساتھ بیان کی ہیں وہ بھی ہمارے لیے لطیف فہمی کا ایک اہم وسیلہ ثابت ہوئی ہے۔
شاہ لطیف اور ان کا کلام بجائے خود ایک فینا مینا کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک دنیا ہے جو اُن کے فکرکے ابعاد کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہے۔ اس دنیا میں داخل ہونے کے بھی کئی دروازے ہیں۔ تصوف اس کا ایک دروازہ ہے۔ ان کا تصورِ عشق ایک اور دروازے کی حیثیت رکھتا ہے۔ حُبِّ وطن اور آزادی خواہی ایک اور راستے سے ان کی دنیا کی طرف پہنچاتی ہے۔ انسانیت کے درد کے پُھریرے ایک اور دروازے پر لہرا رہے ہیں اور عورت کی عظمت کے نشان ایک اور باب پر کندہ ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ آپ کسی دروازے سے بھی شاہ لطیف کی دنیا میں داخل ہوجائیں، اندر یہ سب حوالے ایک دوسرے کے ساتھ آمیز ہوتے ہوئے ملیں گے۔ ایک اِمرت ہے جو شاہ لطیف نے ان سب کی آمیزش سے بنایا ہے۔ یہ آبِ حیات افتادگانِ خاک کو بہترین اخلاقی قدروں سے ہمکنار کرتا ہے، ان کو اپنی عزت نفس کا پاسدار بناتا ہے، ان میں احتجاج کی جوت جگاتا ہے، انسانیت نوازی اور حُرّیت فکر کی شمعیں روشن کرتا ہے، کثرت میں وحدت کی نمو تلاش کرنے کی قدرت پیدا کرتا ہے اور عورت کے انسانی تشخص کے اقرار کا حوصلہ ودیعت کرتا ہے۔
قصر ہے ایک اور دَر لاکھوں
ہر طرف بے شمار ہیں روزن
مجھکو ہر سمت سے نظر آیا
جلوہ گر ایک ہی رخِ روشن
شاہ لطیف نے سندھ کی مردم خیز سر زمین میں سترہویں صدی کے اواخر میں آنکھ کھولی۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ اٹھارہویں صدی کی آغوش میں بسر ہوا۔ وہ اٹھارہویں صدی کی سندھ کی سب سے نمایاں اور سب سے توانا آواز تھے، ایک ایسی آواز جو اس صدی تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے آگے کی صدیوں کو بھی اپنے محیط میں لے لیا۔ یہی نہیں بلکہ ان کے کلام کی مقامیت پہلی نظر ہی میں آفاقیت سے ہمکنار ہوتی نظر آجاتی ہے۔ اٹھارہویں صدی ہماری تاریخ نویسی میں بڑی نظرانداز کر دی جانے والی صدی ہے۔ بُرا ہو ہماری مرکزیت زدگی کا کہ ہماری نظریں مرکز سے آگے بڑھ کر کچھ دیکھنے سے معذور رہتی ہیں۔ اگر مرکز خاموش ہو یا بے عملی کا شکار ہو تو ہم سمجھتے ہیں کہ تاریخ کا عمل رک گیا۔ مختلف خطوں اور علاقوں کی طرف ہم دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔ ہمارے تاریخ نویس بھی مرکز کی کمزوری کو ماضی میں ہماری شکست وریخت اور ہمارے زوال کا واحد سبب باور کراتے آئے ہیں۔ ہمارے تاریخ نویس ہمیں نہیں بتاتے کہ مرکز جن وجوہ سے بھی مضمحل رہا ہو، ضروری نہیں کہ ان ادوار میں مختلف خطے بھی زندگی کی توانائی سے محروم ہو گئے ہوں __ یہ خوش آئند بات ہے کہ پچھلے چند برسوں میں جنوبی ایشیا کی تاریخ نویسی نے کروٹ لینی شروع کی ہے اور اب مختلف خطوں میں ہونے والے تاریخی، سماجی وسیاسی عمل کو بھی تحقیق کا موضوع بنایا جارہا ہے۔ مرکزہی سے حسنِ ظن رکھنے کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ جب مرکز کمزور ہوا تو ہماری تاریخ کے صفحات سے غائب بھی ہوگیا۔ اورنگ زیب عالمگیر کا انتقال 1707 میں ہوا۔ ڈیڑھ سو سال بعد 1857 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوجیں دہلی کے لال قلعے میں داخل ہوئیں، لیکن ہماری نصابی کتابوں میں یہ ڈیڑھ سو سال ڈھونڈے سے نہیں ملتے، مگر اب جو علاقائی تاریخوں(Reginoal Histories) کا چلن ہوا ہے تو نظر آیا ہے کہ اٹھارہویں اور اس کے بعد کی صدیاں تاریخ کا عہدِ زیاں بہر حال نہیں تھیں۔ ان صدیوں میں بغاوت کا ایسا غیر معمولی تحرّک مختلف خطوں میں ہمیں نظرآتا ہے جس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ احتجاج کی آوازیں بھی کہیں آہستہ اور کہیں تیز آہنگ میں سنی جاسکتی ہیں۔ گم شدہ صدیاں اب اوراقِ تاریخ پر دریافت ہورہی ہیں۔ اس تناظر میں شاہ لطیف پر از سر نو نظرڈالنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم ان کو بھٹ شاہ کے ٹیلے پر بیٹھے ہوئے ایک فقیر اور عرفانِ ذات کے حصول میں مگن ایک کردار سے آگے بڑھ کر دیکھیں۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ ہم اپنے صوفیائے کرام کے بارے میں اپنے روایتی سٹیر یوٹائپس کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کے سماجی اور سیاسی پس منظر میں دیکھنے کی کوشش کریں۔ ایسا نہیں ہے کہ اس طرح کی گفتگو پہلے نہیں کی گئی لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ گفتگو ہمیشہ پس منظر میں چلی جاتی رہی ہے اور ہمارے پیری مریدی کے اپنے زمانے کے کلچر کی سیاسی وسماجی ضروریات نے ہمارے صوفیائے کرام کو بھی اُن کے زمانے کا بس پیر ہی بنا کر رکھ چھوڑا ہے۔
شاہ لطیف نے جس عہد میں زندگی بسر کی وہ سندھ کے لیے بڑے طلاطم کا عہد تھا لیکن یہ تلاطم ہندوستان کے دیگر علاقوں میں بھی موجود تھا اور شاہ لطیف اس سے ناواقف نہیں تھے۔ ان کے کلام میں خصوصیت کے ساتھ جو چیزیں اجاگر ہو کر سامنے آتی ہیں وہ کثرت میں وحدت کا تصور، انسان کی آزادی اور نجات، انسانوں کی برابری، مذہب ومسلک سے بلند وسیع تر انسانیت کا دائرہ کار اور جبرواستحصال کی تمام صورتوں کی بیخ کنی کے احساسات اور پیغام ہیں۔ واضح رہے کہ سندھ کے ایک پسماندہ خطے میں بیٹھے ہوئے شاہ لطیف کا ذہنی افق جن فکری موضوعات کو سمیٹے ہوئے تھا ان کی ہمعصر مغربی دنیا میں بھی کم وبیش یہی موضوعات دوسرے عنوان سے روبہ کار تھے۔ کیا یہ دلچسپ اتفاق نہیں کہ انقلابِ فرانس کے دونوں بڑے فکری محرّک والیٹئر اور رُوسو شاہ لطیف کے کسی نہ کسی طور ہمعصر تھے۔ شاہ لطیف کی ولادت1690 میں ہوئی۔ والٹیئر چار سال بعد1694 میں پیدا ہوا۔ شاہ لطیف کی وفات1752 میں ہوئی۔ والٹیئر نے طویل عمر پائی اور 1778 میں اس کا انتقال ہوا۔ روسو 1712 میں یعنی شاہ لطیف کی ولادت کے 22سال بعد پیدا ہوا اور شاہ لطیف کی وفات کے 26سال بعد تک جیا۔ خواتین وحضرات، میں تاریخ کے کسی ایک دور کے دو مختلف خطوں کے اہلِ فکر کے درمیان نظری تعلق کی کوئی ڈرامائی تشکیل نہیں کر رہا۔ میں صرف یہ نشاندہی کرنا چاہتا ہوں کہ شاہ لطیف کا سماجی شعور کتنا ترقی یافتہ تھا کہ آزادئ وحریت کے، انسانیت نوازی اور انسانی برابری کے اور رواداری کے جو تصورات مغربی تاریخ میں ایک عہد کا سرنامہ ثابت ہوئے یہ سب افکار جن کو Liberty, Fraternity, Equality, Humanismاور Secularismکے نام دیے گیے، انہی کے مماثل افکارو خیالات جب ہماری سرزمین پر پیدا ہوئے تو ہم ان کے اقرار میں بخل سے کیوں کام لیتے ہیں۔
خواتین و حضرات، یہاں میں شاہ لطیف کی مختلف جہات اور اُن کے نو بہ نو پہلوؤں میں سے صرف تین کے حوالے سے مختصراً کچھ گفتگو کروں گا۔ میرا مقصد شاہ کے سماجی شعور کی نشاندہی ہے۔ شاہ کے محققین نے بہت وضاحت سے لکھا ہے کہ انہوں نے فکری سطح پر کس کس سے اکتساب کیا۔ وہ مولا ناروم کی مثنوی کے بھی عقید ت مند تھے۔ انہوں نے اپنے ہمعصروں سے بھی اثرات قبول کیے۔ لیکن ان کے کلام میں جو اصلیت اورOriginalityہے وہ ان کی اپنی فکرِ رسا اور ان کے مشاہدے کی دنیا ہے۔ یہ حقیقت کہ انہوں نے عوامی داستانوں کو ہی اپنے کلام کی اساس بنایا اس امر کا واشگاف اظہار ہے کہ ان کو عوامی زندگی کے احوال ہی میں غوروفکر کا بنیادی سامان بہم ہوا۔ اُن کے کلام کا بڑا حصہ حکمرانی کے جبر کے مختلف پہلوؤں کو بے نقاب کرنے کی نذر ہوا۔ وہ دہقانوں، خانہ بدوشوں اور مچھیروں کی ابتلا سے پُر زندگی کے ایک ایک پہلو کو سامنے لاتے اور اُن کو اس جبر کا مقابلہ کرنے کا درس دیتے ہیں۔ وہ جب آتے ہوئے طوفانوں، اٹھتی ہوئی موجوں اور طغیانیوں سے ہوشیار کرتے ہیں تو یہ صرف سندھ کے ساحلوں کا احوال نہیں ہوتا بلکہ یہ طوفان، یہ تندوتیز دھارے، یہ طغیانیاں علامتیں بن جاتی ہیں اُس سیاسی یورش کی جو پورے ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لیتی نظرآرہی تھی ؂
بحر ہیبت فَزا کی طغیانی
شور انگیز و فتنہ ساماں ہے
اُن جنریروں سے بھی بچا ہم کو
جن کے گرد اک مہیب طوفاں ہے
زد میں اب کَشتیوں کے تختے ہیں
اے خدا تو ہی بس نگہباں ہے
شاہ کی داستان ’سُرسُریراگ‘ تو تمام تر ایک چشم کشا اور ذہنوں کو جھجھوڑ دینے والے کلام پر مشتمل ہے۔ یہ اپنے زمانے کے شہر آشوب کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ اس میں آنے والے خطرات کی طرف اشارے بھی ہیں اور بقا کے راستوں کی نشاندہی بھی۔ مگر جو کچھ اس میں شاہ لطیف نے کہا ہے، وہ مچھیروں، ملاحوں اور ماہی گیروں کے استعاروں میں کہا ہے ؂
اِدھر دلدل اُدھر موجوں کی شورش
میں اپنی ناؤ کو کیسے بچاؤں
اگر تیرا کرم شامل ہو یا رب!
بخیروعافیت اُس پار جاؤں

یہی ایک فکر دل کو رات دن ہے
بہت مجبور ہیں طوفاں کے مارے
تلاطم خیز ہے یہ بحرِ ہستی
لگے گی کس طرح کشتی کنارے
اپنے دور کے حکمرانوں کی عاقبت نااندیشی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں ؂
ناخداؤں نے ہم کو دکھلائے
جانے کتنے ہی ساحلوں کے خواب
اور وہاں کی خبر نہ دی کوئی
ہے جہاں صبر آزما گرداب
شاہ لطیف کو اندازہ ہے کہ گلتا اور سٹرتا نظامِ کہنہ اب مرنے کو ہے، لیکن نئی زندگی کی بشارت دینے والے آثار بھی ابھی نمایاں نہیں ہوئے
تری کَشتی میں ہیں سوراخ کتنے
چلا آتا ہے جن سے تہہ میں پانی
بہت کمزور ہے مستول اس کا
ہیں اس کی رسیاں کتنی پرانی
وہ ابنائے وطن سے شکوہ کرتے ہیں کہ وہ آنے والے خطرات سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں ؂
سب پہ طاری تھی نیند کی غفلت
اور مجھے بھی نہ اپنا ہوش رہا
وقفِ گرداب تھا سفینہ ترا
پھر بھی تو محوِ ناؤ نوش رہا
اس بحران سے نکلنے کا اُن کے نزدیک واحد طریقہ یہ تھا کہ لوگ ذاتی اور گروہی اختلافات کو تج دیں اور یکجا ہو کر آنے والے طوفان کا مقابلہ کریں ؂
مری کَشتی ! بڑھے جا سوئے ساحل
ہزاروں کَشتیوں کے ساتھ مل کر
ابھر کر دے رہی ہے موج اک آواز
بپھر کر کہہ رہا ہے کچھ سمندر
اگر اُس پار ہے تم کو اُترنا
تو ہو رختِ سفر بہتر سے بہتر
ذرا غور کریں، ابھی 1857 نہیں ہوا۔ ابھی 1843 بھی نہیں آیا جب سندھ پر انگریز کا تسلط قائم ہوا تھا۔ ابھی یہ حادثات کوئی سو سال دور ہیں۔ لیکن شاہ لطیف کہہ رہے ہیں
ہمارے ناخداؤں کو ہوا کیا
بدل کر بھیس آئے ہیں فرنگی
بتاؤ ہے کوئی ملاح ایسا
کہ روکے یورشِ دُزدانہ اُن کی
پھر وہ اپنے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں ؂
تجھے کچھ فکرِ سامانِ سفر ہے
کہ تیری ناؤ کے ہر سُو بھنور ہے
تجھے لازم ہے ترکِ خواب غفلت
تمنّا پار اترنے کی اگر ہے
وہ باشندگانِ وطن کو یہ بھی باور کراتے ہیں کہ وہ اپنے جوہر کو پہچانیں اور ہر بیرونی چیز کی چکا چوند سے اپنے ذوق کو آلودہ نہ کریں
خبر بھی ہے تمہیں کَشتی نشینو!
کہ ہر سُو یورشِ موجِ بلا ہے
بَھرا ناحق پَرایا مال اس میں
وہی آخر مصیبت بن گیا ہے
یہ کَشتی کا کنارے سے بھٹکنا
تمہارے خوابِ غفلت کی سزا ہے
شاہ لطیف کا حبِّ وطن کا تصور، اُن کے حبِّ بشر کے تصور ہی کی توسیع ہے۔ اُن کا عشق کا تصور بنیادی طور پر اُن کے صوفیانہ مسلک ہی کا حاصل ہے، چنانچہ انہوں نے اس مضمون کو بار بار مختلف انداز میں زبان دی ہے ؂
ہیں ازل ہی سے بے نیازِ الم
راز دارانِ جلوۂ معبود
گمرہی دُور ہی رہی اُن سے
مل گئی ان کو منزلِ مقصود
واقفِ وحدتِ احد ہو کر
ہوگئے ایک شاہد و مشہود
وہ خالق ومخلوق کی وحدت کا اعلان کرتے ہوئے اپنی داستان ’سُرکَلیان‘ میں اعلان کرتے ہیں ؂
ہوگئے ایک مل کے ذات و صفات
مٹ گیا فرقِ عاشق ومعشوق
ہم ہی کوتاہ بیں رہے ورنہ
وہی خالق ہے اور وہی مخلوق
خالق ومخلوق، رہبر وراہی اور ذات وصفات کی یہی یکجائی کثرت اور وحدت کے تضاد کو بھی حل کر دیتی ہے۔ ’سُرکلیان‘ میں شاہ کہتے ہیں ؂
کبھی وحدت کی تنہائی میں کثرت
کبھی کثرت کے ہنگاموں میں وحدت
مگر ان سارے ہنگاموں کی تہہ میں
بس اک محبوب ہے اور اس کی صورت

عشق کا یہی تصور پھیلاؤ حاصل کرتا اور انسانی صفوں میں داخل ہوتا ہے تو شاہ مذہب ومسلک اور رنگ ونسل کے امتیازات کے مقابل وسیع تر انسانی ہم آہنگی کے پیام بر بن کو سامنے آتے ہیں۔ شاہ لطیف اپنی ذاتی زندگی میں بھی سوزِ عشق سے ہمکنار ہوچکے تھے۔ صدماتِ ہجر نے بھی اُن کو گھائل کیا تھا۔ مگر اس تجربے نے اُن کے دل میں گداز اور اُن کی طبیعت میں ٹھہراؤ پیدا کر دیا تھا۔ اسی سے انہیں باور ہوا کہ عشق کی محرومیاں جذبۂ محبت کو مزید جلا بخشنے کا سبب بن جاتی ہیں ۔
جستجو، اضطراب، سوزِ دروں
جُز محبت یہ زندگی کیا ہے
بحرہستی سے سَیر ہو نہ سکی
کون جانے یہ تشنگی کیا ہے
جذبِ باہمی کا یہ تصورِ عشق صوفیائے کرام کا کم وبیش مشترک مسلک رہا ہے۔ مگر شاہ لطیف کے یہاں یہ تصور اُس وقت ایک اور معنویت سے ہمکنار ہوجاتا ہے جب وہ عشق کو حرص وہوس ہی سے جدا تصور نہیں کرتے بلکہ عشق کو محبوب کی تسخیر کے ہم معنی بھی تسلیم نہیں کرتے۔ اُن کا تصورِ عشق تسخیری نہیں بلکہ ارتفاعی اور تخلیقی ہے۔ اُن کے نزدیک محبت، محبوب کے حصول سے پہلے، محبت کے حصول کا نام ہے۔ عمر ماروی کی داستان میں شاہ لطیف نے عمر اور ماروی کے کرداروں کو اتنی گہرائی میں جاکر بیان کیا ہے کہ یہ داستان تحلیل نفسی کی بہترین مثال بن گئی ہے۔ اس داستان میں عمر ماروی کی محبت میں گرفتار ہے۔ وہ ماروی کو اٹھا کر اپنے محل میں لے آتا ہے۔ ماروی، عمر کی قید سے اپنی ناموس سمیت واپس آتی ہے۔ گویا عمر کی محبت میں ہوس کا کوئی شائبہ نہیں مگر وہ ماروی کی محبت حاصل نہیں کرپایا۔ اُس کی محبت اُس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ماروی کو اپنی قید میں رکھے۔ وہ ماروی کے لیے ہر آسائش فراہم کرنا چاہتا ہے، وہ اُس کو اطلس وکمخواب سے آراستہ کرنا چاہتا ہے مگر ماروی کو تھر کی اپنی کھولیاں اور ہم جولیاں اور اپنے مارو زیادہ عزیز ہیں۔ اُس کی خواہش عمر کی قید سے نکلنے کی ہے۔ ایک کی محبت دوسرے کو قید کرتی ہے اور ایک کی محبت آزادی چاہتی ہے۔شاہ لطیف محبت کے ایک اعلیٰ تصور اور ایک ارفع نصب العین کے علم بردار ہیں۔ اُن کا تصورِ عشق انسان کو propertyبنانے کا تصور نہیں بلکہ اُس کو liberateکرنے کا تصور ہے۔
اور آخر میں ایک اور بات !شاہ لطیف کا تصورِ عشق اپنے اظہار وبیان کے لیے جس کردار کو سب سے مؤثر پاتا ہے، وہ عورت کا کردار ہے۔ ان کے سُروں اور ان سُروں میں جگہ پانے والی کم وبیش سب داستانوں میں عورت ایک مرکزی کردار کے طور پر موجود ہے۔ اُن سُروں اور داستانوں میں بھی جہاں عورت کا بظاہر کردار نہیں ہے، ان میں بھی انہوں نے جو وائیاں شامل کی ہیں، اُن کے ذریعے عورت شامل ہوگئی ہے۔ مثلاً ’سُر سارنگ‘ میں برسات کے موسم اور اس میں کسانوں کی حالت بیان ہوئی ہے۔’ سُر سامونڈی‘ میں سمندر سے متعلق موضوعات نے جگہ پائی ہے۔ لیکن ان سُروں کی وائیاں عورت کی زبان اور اس کے احساسات کو سموئے ہوئے ہیں۔ شاہ لطیف نے جن عوامی داستانوں کو اپنے سروں کی اساس بنایا ہے کم وبیش ان سب میں عورت ایک فعال کردار کی حامل ہے۔ وہ لیلا چنیسر کی داستان ہو یا مومل رانو کی۔ وہ ماروی کی کہانی ہو یا سوہنی کی، ان سب کہانیوں میں عورت ہی بنیادی محرک نظرآتی ہے۔ محققین نے اس پہلو پر بہت توجہ دی ہے اور شاہ کے کلام میں عورت کے مقام کو بڑی توجہ سے دیکھا ہے۔انہوں نے دکھایا ہے کہ شاہ کے نزدیک عورت کس ارفع مقام کی حامل ہے، یا یہ کہ شاہ عورت کو کس نظر سے دیکھتے تھے۔ میری گزارش ہے کہ شاہ عورت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، یہ اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس سے زیادہ بڑی حقیقت یہ ہے کہ شاہ لطیف دنیا کو عورت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ دنیا کو دیکھنے کی ایک مرد کی نظر ہے اور اسی دنیا کو دیکھنے کی ایک عورت کی نظر ہے۔ اس بات کی وضاحت دو حوالوں سے ہوسکتی ہے۔ ایک تو یہ بات جو ہمارے ایک صاحبِ طرز کالم نگار اور پنجابی زبان کے خوبصورت شاعر مُنو بھائی نے کی۔ ان کے بقول، مرد اور عورت کے سوچنے کے انداز میں بڑا فرق ہوسکتا ہے۔ مرد کے لیے مہینہ ہوتا ہے، عورت کے لیے وہ تیس دن ہوتے ہیں، مرد کے لیے جو ہفتہ ہوتا ہے، وہ عورت کے لیے سات دن ہوتے ہیں۔ مرد ایک دن کو دیکھتا ہے، عورت چار پہر دیکھتی ہے۔ عورت زندگی کو لمحہ بہ لمحہ گزارتی ہے، مرد کی سوچ مجموعے کا احاطہ کرتی ہے۔ عورت جُزئیات کو سمیٹ کر چلتی ہے۔ مرد تجرید کا اسیر ہے، عورت تفصیل کی جَویا ہے۔ شاہ لطیف کی کہانیوں کو پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے جس بھی موضوع پر اظہارِ خیال کیا، اس کو اس کی جزئیات کے ساتھ دیکھنے کی کوشش کی۔ وہ انسانی رشتوں کی نزاکتوں، رویوں کے نفسیاتی عوامل، احساسات کی تبدیلیوں، جذبات کے اتار چڑھاؤ، موسموں سے انسانی طبیعت پر مرتسم ہونے والے مختلف النوع اثرات، غرض ہر چیز کی باریکیوں کے رازداں ہیں۔ اور یہ کمال ان کو حاصل ہوا ہی یوں کہ انہوں نے عورت کی نظر سے ان سب چیزوں کو دیکھا۔
عورت کی نظر کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں مرد اور عورت کی تخصیص سماجی ومعاشی اختیار یا بے اختیاری کی بھی ہمرکاب ہو، ایسے معاشرے میں عورت کی نظر سے دنیا کو دیکھنا، دراصل مظلوم کی نظر سے دینا کو دیکھنا ہے۔ شاہ لطیف کے سُروں میں جن عورتوں نے جگہ پائی ہے، وہ اپنی مظلومیت کے باوصف ہمت اور جستجو کی تصویر بھی پیش کرتی ہیں۔
شاہ لطیف کا کلام اور ان کا پیغام خواہ وہ انسان دوستی کے موضوع سے متعلق ہو، اس میں حُبِ وطن کی وکالت کی گئی ہو، یا کثرت میں وحدت کی اہمیت اجاگر ہوتی ہو، یا پھر دنیا پر مظلوم کے نقطۂ نظر سے غور کرنے کا سندیسہ ہو، یہ سب حقائق جتنے اٹھارہویں صدی میںrelevantتھے، اتنے ہی آج بھی ہیں۔ آج بظاہر ہم ایک بدلی ہوئی دنیا میں خود کو پاتے ہیں۔ یہ ایک شور انگیز گلوبلائزیشن کی دنیا ہے، لیکن حقائقِ ہستی میں پچھلی تین چار صدیوں میں کوئی بڑا فرق نہیں آیا۔ مذہب ومسلک کے نام پر انسانوں کی تقسیم، سرمایہ ومحنت کی کشمکش، بڑی طاقتوں کی ملک گیری کی خواہشات، اور مردانہ معاشروں میں عورت کی ثانوی حیثیت، کچھ بھی تو ان صدیوں میں نہیں بدلا۔ سو، شاہ لطیف آج بھی ہمارے لیے بہت متعلق ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم ان کے مزار کی مجاوری سے بلند ہو کر ان کے پیغام کی شمع دنیا کے سامنے لے کر آئیں اور یہ باور کرائیں کہ یہ وہ پیغام ہے جو ہماری توجہ چاہتا ہے اور جو آشوبِ وقت سے عہدہ برا ہونے میں ہم سب کا معاون ہوسکتا ہے۔

ماہتاک سنگت کوئٹہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*