کتنے یگ بیت گئے

پچھلے یگ کے ایک خالی آنگن میں

کئی ایک یادیں ہیں

جو کھوجتے کھوجتے

ربط مٹھیوں میں سے پھسلتاچلا جا رہا ہے

کتابوں کے بیچ صفحوں

تمہاری اور اپنی پہلی خط و کتابت

ایک تصویر میں

ہونٹ کاٹتی ہوئی پہلی پہلی جھجک

خواب کے تام چینی مرتبان میں سے

کائی کی طرح جھانکتی ہوئی ازلی پیاس

یادگاری مہروں کے سینے پر کھدی ہوئی

کائناتی سچ اور اسکی گنگ آوازیں

زنگ آلود آئینے میں

منعکس زاویوں کے

خونم خون عروسی رنگ

شیلف کی دوہری ہوتی ہوئی کمروں کو

سہارتی ہماری ٹوٹی پھوٹی عمریں

تصویری فریم کے پیچھے سے جھانکتی ہوئی

زنگ آلود تنہائی

چولہے کی کگاروں سے چپکی ہوئی

یاد کی سیاہ جیکٹ میل

امید کے روشن دانوں سے جھانکتی ہوئی

سورج کی آخری تیزابی کرن

ہتھیلی پر مدفون تمھارا پہلا بوسہ

اور توے پر پڑا ہوا ایک اوندھابدن

ماہنامہ سنگت اگست

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*