ہڑپہ

ہڑپہ موٹی چوڑی لال اینٹوں کا بنا ہوا شہر تھا۔ کچھ کچھ فصیل بردار۔اس فصیل کے کچھ حصے ابھی بھی باقی ہیں۔ مرکزی حمام، شاندار سیوریج سسٹم،منظم مارکیٹ، منصوبہ بند گلیاں۔۔۔ہڑپہ کوایک جدید اور مہذب شہر کی حیثیت دیتی ہیں۔

گیٹ سے اندر داخل ہوجائیں تو عین سامنے آپ کو ایک پیر کا سبز رنگ کامقبرہ ”نو گزا بابا“ کا نظر آئے گا۔ سبز وسرخ وسیاہ و سفید جھنڈے جھنڈیاں تھیں۔چڑھی چادروں کے تھان در تھان تھے۔ ملنگ اور مجاورتھے۔۔ اگر بتیاں، تیل کے چراغ اور دھواں زدہ دیواریں تھیں۔ چرس، سرسوں کے تیل کے چراغوں اور اگربتیوں نے مل کر نتھنوں کو سونگھنے کا چڑیا گھر عطا کر رکھا تھا۔

ہم حیران ہوئے کہ ہڑپہ کا قدیم انسان تو بہت مہذب ومتمدن وباشعور ہوتا تھا، اس نے اگر کوئی معبود بنائے بھی ہوں گے تو نیچر یا نیچر کی مدد گار قوتوں کی چھوٹی سی مورتی مٹی گارے سے بنا کر گھر میں رکھی ہوگی۔ یہ پیر اور دربار کہاں ہوتے ہوں گے۔پیر، مجاور اور سجادہ نشین تو نعرے بازوں کی ”ترقی یافتگی“کا vomitusہوتے ہیں۔

مایوسی اور جھنجلاہٹ ملی ہوئی میری حیرانگی دیکھ کرہڑپہ آثار کے کیوریٹر نے بتایا کہ ”نہیں نہیں۔ یہ آثار قدیمہ کا حصہ نہیں بلکہ موجودہ صدی کی پیر پرستی کی توسیع پسندی ہے، حال ہی کے انسان کے ضعفِ ایمان کی کارستانی ہے۔

کتنی سٹوریاں اِس ”نوگزے“ کے ساتھ نتھی کی گئی تھیں۔ ایک مجاور نما آدمی سے ایک دوکہانیاں سن کر ہم نے آگے سننے سے انکار کردیا۔ وہی گھسی پٹی سٹوریاں جو ہماری نصابی کتب سے اور ناولوں سے اورٹی وی چینلوں سے اور بڑے بڑے مشاعروں سے 70سال سے ہم پہ انڈیلی جاتی رہی ہیں۔

یہکسی بابا کی قبرہے جو پاکستان میں بہت پائی جاتی ہیں۔ اس طرح کا نوگزا بابا مزار ہم پہلے اپنے بلوچستان کے لورلائی شہر میں دیکھ چکے تھے۔ اور اس کے بعد کوئٹہ میں بھی۔

نوگزا بابا کا مطلب ہے 27فٹ قد کا۔ جبکہ انسانوں کا نارمل قد محض ساڑھے پانچ فٹ ہے۔یقین ہے کہ نوگزا بابا جب زندہ تھا تو وہ مکان میں بہر حال نہیں رہتا تھا۔اس لیے کہ 9گز اونچا کمرہ کون بنا سکتا تھا، کون بنا سکتا ہے؟۔

آپ مزار اور اس سے جڑے ہوئے پورے ویلیو سسٹم اور معاشیات کے بارے میں مزید تصور خود کریں ہم ہڑپہ کی بات کرتے ہیں۔

ہڑپہ کی بنیا د 5000 سال پہلے رکھی جا چکی تھی (1)۔

بلا شبہ مہرگڑھ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔اور وہ یہاں تو کیا، پوری دنیا کی اولین تہذیب ہے۔ مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وسیع و عریض بلوچستان کے دیگر دور دراز گوشوں میں بھی انسانی رہائش گاہوں کے آثار ملے ہیں۔گو کہ وہ آثار مہر گڑھ جتنے قدیم نہیں ہیں مگر اُن کی اہمیت کبھی بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے۔4000سال قبل مسیح مرکزی مکران میں باقاعدہ ایک تہذیب موجود تھی۔ زاہدان کے قریب شہر سوختہ3000سال قبل مسیح کا ہے۔ یہ تہذیبیں اگر اپنی نشانیاں چھوڑ گئیں ہیں تو بلا شبہ اپنے اثرات بھی دے گئی ہیں، کبھی محسوس اور کبھی غیر محسوس طریقے سے۔(2)۔

حیرت ہوتی ہے کہ ہر زمانے کی انسانی آبادیاں نہ صرف اپنے باپ دادا کا تسلسل ہوتی ہیں بلکہ اپنے ہم عمر آبادیوں کی نعمت سے بھی مالا مال رہی ہیں۔۔ مہر گڑھ کا پوتا اور موین جو دھڑو کا بیٹا ہڑپہ بھی اپنے ہم عمر رکھتا ہے۔اس کی ایک ہم عصر آبادی ”مثلاًآمری ہے۔(موجمدار کی دریافت) یہ 6000سال قبل مسیح سے لے کر 4000سال قبل مسیح کی شہری آبادی تھی۔ (3)۔آمری کے ساتھ ہی مغرب میں بلوچستان میں واقع نال اس کی ایک اور ہم عمر ہے۔

سُتکغیں ڈور ساحل سمندر سے تین میل کی دوری پر واقع ہے۔ خیال ہے کہ ہزاروں سال پلے سمندر کی شاخ نے اس شہر تک رسائی حاصل کر کے اسے قدرتی بندرگاہ بنایا تھا۔

سُتکہ کوہ پسنی کے شمال میں آٹھ میل کا فاصلہ رکھتے ہوئے سمندر کے کنارے آباد تھا۔

ماہرین نے سُتکغیں ڈور، سُتکہ کوہ کے مقامات کو بندرگاہوں کا درجہ دیا۔ ہڑپہ اور موہنجو دڑو تو دریائی بندگاہیں تھیں۔ (4)۔

یہ تہذیب کہیں باہر سے نہیں آئی۔ یہیں کی ہے۔ (5)۔

مہر گڑھ سے لے کر ہڑپہ تک کے شہر نہ بہ یک وقت بنے اور نہ یہ یکدم زوال پذیر ہوئے۔

بھئی اِس خطے میں تو آرکیالوجی کے لیے گیت اور ترانے ہونے چاہییں۔ اس کی الگ یونیورسٹی ہونی چاہیے یہاں۔اس لیے کہ سائنس کا یہ شعبہ انسان کا راہنما رہا ہے۔ آرکیالوجی نے ہمارے تصورات، عقائد اور آؤٹ لک میں زبردست کردار ادا کرتے رہنا ہے۔ اس نے ہمارے خطے کے اندر پتھر کے زمانے سے لے کر لوہے کے زمانے تک کے ثقافتی ارتقا اور ورثہ سے دنیا کو روشناس کرادیا۔ کہتے ہیں کہ پتھر کا زمانہ اولین ”انقلابی“ زمانہ تھا جو انسان کے ہاتھوں برپا ہوا۔ اور جس نے انسانی زندگی کا رخ متعین کیا۔

ایک اور بات بھی دیکھیے۔بلاشبہ انگریز لٹیرا تھا، بے رحم تھا،ڈاکو تھا، بدترین سامراجی تھا، نوآبادیات گرتھا، سفاک ووحشی تھا۔ اور اُس کی سامراجیت کے خلاف میرے آپ کے آباو اجداد جنگیں لڑتے رہے، شہید ہوتے رہے۔ مگر اسی درندگستان کا ایک بیٹا الیگزنڈر کننگھم تھا جس نے ہڑپہ کے آثار 1853میں دریافت کیے۔ساری انسانیت اُس شخص کی احسان مند ہے۔

شہر ہڑپہ کوایک”ثقافتی و تہذیبی“ مرکزکی حیثیت حاصل تھی۔ اس کی تصدیق یہاں سے کھدائی کے دوران ملنے والے باقیا ت و نوادرات کرتے ہیں۔اگر وہاں دریافت شدہ آرکیالوجیکل خزانوں کابغور جائزہ لیاجائے تو ایسے لگتا ہے جیسے فنون اور دستکاریوں کو اُ س وقت ایک صنعت کا درجہ حاصل ہو چکا تھا۔یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اُس زمانے کاانسان فنِ کوزہ گری،فن مجسمہ سازی،اورسنگ تراشی میں کمال مہارت رکھتا تھا۔

گوکہ یہ کام موہن جو دھڑو، اور اِس سے قبل مہر گڑھ میں بھی ہوتا تھا۔ مگر ہڑپہ سے ملنے والے مٹی گارے کے برتن بہت کثر ت سے دریافت ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہڑپہ والوں کو ان کے بنانے اور توڑنے کے علاوہ کو ئی دوسرا کا م ہی نہ ہو۔آپ پورا علاقہ گھومیں آپ کو جگہ جگہ یہ برتن سالم، ذبح شدہ یا پھر ریزہ ریزہ انداز میں ملیں گے۔

ہڑپہ اور موین جو دھڑو اور اُن دونوں کے بزرگ مہر گڑھ کی برتن سازی میں زبر دست مماثلت پائی جاتی ہے۔اگر ان تینوں مقامات سے ملنے والے برتنوں کو ایک جگہ جمع کر دیا جائے تو عام آدمی کے لیے یہ امتیا ز کرنا تقریباََ نا ممکن ہو گا کہ کون سا ٹکڑا ہڑپہ کا ہے،کون سامو ین جو دھڑو کا ہے،اور کونسا مہر گڑھ کا۔

ایسا نہیں ہے کہ موین جو دھڑو کی ساری آبادی یک دم ہڑپہ شفٹ ہوئی تھی۔ یا مہر گڑھ سارے کا سارا اپنا علاقہ خالی کر کے موہن جو دھڑو آیا تھا۔ ایسا نہ تھا۔ یہ ساری مہاجرت بتدریج ہوتی رہی تھی۔یہ سارا سفر اپنے ثقافتی اور پیداواری ورثے کے ساتھ ہڑپہ منتقل ہونے والا رہا۔سٹون ایج کے بعد2600سے لے کر 1900قبل مسیح تک ہڑپہ میں برونز (کانسی) تک آچکا تھا۔یہاں بھٹے تعمیر کیے گئے تھے،اناج ذخیرہ کرنے کی جگہیں ڈویلپ کی گئیں، مزدوروں کے لیے کالونیاں تعمیر کی گئیں اور ڈرینیج کا نظام متعارف کیا گیا جو بہت زیادہ منظم اورمنصوبہ بند تھا۔

انسان کے پاس بہت وقت تھا اور زندگی اتنی مصروف اور تیز نہیں تھی، تو محنت اور لگن سے کام کرنے والے فنکار نے ایسے ایسے شاہکار تخلیق کیے جن کے حسن کو صدیاں بھی نہیں دھندلا سکیں۔ یہ آرٹ کے ایسے حیران کن شاہکار ہیں کہ معجزے لگتے ہیں۔ہڑپہ تہذب کے اِن نمونوں میں پیپل کے پتے ہیں،گول دائرے ہیں، کنگھی نمانقوش اور مثلث نما نقاشی ہے، ٹی کا نشان،خانے، جال، تکون، اور شطرنج ہیں۔

سورج کا،ہڑپہ سولائزیشن میں بھی اہم مقام تھا۔ ہڑپہ کے مورثِ اعلیٰ مہر گڑھ میں تو سورج بالکل برگزیدگی کا درجہ رکھتا تھا۔ یہ اِن دونوں دادا پوتا میں فصلیں پکاتا تھا، زیرِ تعمیر دیوار کو، اینٹوں برتنوں کو، اور آرٹ کے نمونوں کوسُکھاتا تھا؟۔ مگر غور تو کریں کہ اِس تکلیف دِہ اور بیزار کن گرمی پر حشرات سے لے کرچرند پرنداور فصلات و نباتات کی ایک پوری دنیا آباد رہتی ہے۔یہ آگ برساتی گرمی نہ ہوتو کتنی فصلیں، کتنے بیل بوٹے اور کنتے جانداروں کا وجود ہی نہ رہے۔ اسی لیے تو سورج دیوتا کا درجہ رکھتا تھا۔ ہڑپہ کے بے شمار برتنوں پہ سورج کی کرنیں بنائی گئی تھیں۔

اسی طرح آبادی، چونکہ دریا کے قریب بنی اس لیے اہل ہڑپہ کی جسمانی پیاس، پاکیزگی، اور تعمیرات سے لے کر گھریلو اور زرعی استعمال کا اہم ترین ذریعہ پانی تھا۔ چنانچہ پانی اور دریا اُن کا سب کچھ تھا۔اسی لیے ہڑپہ کے آثار میں بے شمار برتن ملیں گے جن پر دریائی موجوں جیسی لہر دار لکیریں موجود ہیں۔ برتنوں پہ مچھلی کی تصاویر ہیں۔بالکل بعید نہیں کہ دریا اُن لوگوں کے ہاں پیر فقیر اور دیوتاکا درجہ رکھتا ہو۔راوی کادریا اگر ہڑپہ والوں کا پیر مرشد نہیں تھا تو پھر ہڑپہ کے موین جو دڑو اور مہر گڑھ کی اولاد ہونے پر شک ہوگا۔

اُن کے کمالِ فن کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انہو ں نے برتنوں پر جانوروں اور پرندوں کو ان کے فطری ماحول میں دکھا یا ہے۔ہرن اور پہاڑی بکرے جیسے جانوروں کو باقاعدہ گھاس پر اور چڑیوں کو جھاڑیوں یا درختو ں پر دکھا یا گیا ہے۔

ہڑپہ میں وہ تمام برتن ملے ہیں جو کسی ایسی آبادی کیلئے سوچے جا سکتے ہیں جس کے با شندے سادگی کے ساتھ ساتھ آرٹ کا اعلیٰ ذائقہ رکھتے تھے۔مٹی کے یہ برتن تھے تو انسان کی ضرورت کے، مگر انہیں جمالیات میں گوندھ کر بنانا، انہیں کشش اور خوبصورتی عطا کرنا اشرف المخلوقاتی خصوصیت تھی۔

وہ مٹی کے طرح طرح کے گلدان بناتے تھے، کٹورے، صراحیا ں، دیگچے، توہیں ہی۔ مگر ایک بہت دلچسپ چیز وہاں ہوتی تھی۔سامان رکھنے کے مٹی کے بڑے مٹکے، اناج بھرنے کے کنگ سائز بڑے مٹکے وغیرہ بناتے تھے، جنہیں ہم بلوچی میں ”کُوھلی“ کہتے ہیں۔

یہاں سے ایک ایسی مورتی بھی دریافت ہوئی ہے جس میں ایک عورت غالباََ آٹا گوندھتی ہو ئی دکھا ئی گئی ہے۔ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہڑپہ کی تہذیب یہ کمال اور مہارت اپنے باپ سے لے کر اسے ترقی دیتی رہی۔ ہڑپہ،موین جو دھڑو، اور مہر گڑھ کے اس فن کو کروڈ (Crude)سے فائن بناتا رہا۔ ہڑپہ فائن آرٹ کا لیبر روم ہے!!۔

ہڑپہ سے پتھر کے ثابت برتن بہت کم ملے ہیں مگر کچھ مجسمے ملے ہیں جن میں تین جانوروں کے اور باقی انسانوں کے ہیں۔اُس کی انسانی مجسموں میں سب سے اہم دریافت وہ مجسمہ ہے جو ایک شال (اجرک) اوڑھے ہو ئے ہے۔داڑھی خشخسی اور با لائی لب تر ا شیدہ اور آنکھیں اَدھ کھلی ہیں۔بیچ سر سے سیدھی مانگ نکا لی گئی ہے۔پیشا نی کے وسط میں ایک گول چھلا (تعویز) ہے اور اسی طر ح کا ایک گول چھلا (تعویز) داھنے ہا تھ پر بھی بندھا ہوا ہے۔

،موہنجودڑو اور بلوچستان میں میہی اور ستکغیں ڈور کے لوگوں کی طرح ہڑپہ والے بھی وزن کرنے کے لئے پتھر کے باٹ بھی تیار کر چکے تھے جو اُن کے روز مرّہ کے باہمی لین دین میں استعمال ہوتے تھے۔یہ اوزان مختلف قسم کے پتھروں سے تراشے جاتے تھے۔ چھوٹے باٹوں سے لے کر 25،25پونڈ کے اوزان بھی ملے جن میں سوراخ نکالے گئے تھے تاکہ رسی وغیرہ کی مدد سے اٹھائے جاتے۔ سائنس دانوں کو تانبے اور پیتل کے ترازو بھی ملے ہیں۔

ہڑپہ آثار سے میں سب سے زیادہ اہمیت کی حا مل ان کی مہریں ہیں۔ ان مہروں پر عام طور پر بیل، ہاتھی،گھوڑے، Unicorn، گینڈا، شیر، خرگوش،عقاب، مگر مچھ، سواستیکا، اور بعض مہروں پر انسانی تصاویر بھی نظر آتی ہیں۔ان مہروں پر جانوروں کی اشکال اتنی خوبصورتی سے تراشی گئی ہیں کہ انسان حیرت میں پڑجاتا ہے۔یہ مہریں عمدہ فن کاروں اور صناعوں کی ہنرمندی اور چا بکدستی کا نمونہ ہیں۔

آثار سے سیپ، گھونگھے، ہاتھی دانت اور کئی قسم کے قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کے بنے ہوئے زیورات دستیاب ہوئے ہیں۔ ہڑپہ سے سامان آرائش میں ہاتھی دانت کی نفیس کنگھیاں، کنگن اور کڑے، سرمے دانیاں بھی ملی ہیں۔ اس کے علاوہ انگوٹھیاں اور نیم قیمتی پتھر سے بنے بھی۔

موہنجو دھڑو اور ہڑپا سے برآمد شدہ تصاویر ثابت کرتی ہیں کہ رقص ان کی روز مرہ زندگی کا حصہ تھا۔ ایک تصویر میں ایک شخص ڈھول بجا رہا ہے اور اس کے گرد بہت سے افراد ناچ رہے ہیں۔ ایک دوسری مورتی میں ایک عورت جھمکے ڈالتی ہوئی دکھائی گئی ہے۔ایک اور مورتی ملی ہے جو ڈھول بجا رہی ہے۔ ایک تصویر میں ایک شخص شیرکے سامنے ڈھول بجارہا ہے۔ بیل کے سامنے ناچتی عورت کی تصویر بھی برآمد ہوچکی ہے۔ (6)۔ایک رقاص کا مجسمہ ملاہے جو اپنے دائیں پاؤں پر کھڑا ہے اور بایا ں پاؤں اٹھا ہوا ہے۔واضح رہے کہ کانسی کا بنازیورات سے آراستہ ایک کمسن رقاصہ کا مجسمہ موہنجو دارو سے ملا تھا۔اُس نے دایاں ہاتھ کولہے پر رکھاہوا ہے اور ہاتھ میں جام لے کر برہنہ رقص کر رہی ہے۔ مجسمہ کے پاؤں اور ٹخنے غائب ہیں۔ اسی طرح ہڑپہ سے پتھر کا ایک اور مجسمہ بھی دریافت ہوا جو عا لم رقص میں ہے۔ظاہر ہے کہ رقص قدیم انسان کی مذہبی رسوم میں ایک اہم مقام رکھتا تھا اور پوجاپاٹ کا ایک خاص جزو ہوتا تھا۔ اسی طرح یہ تفر یح اور دل بہلانے کا اہم ذریعہ تھا۔ ناچ کے ساتھ گانے بجانے کا انتظا م ایک فطری امر ہے۔ ایک مہر پر ڈھولک کی تصویر کندہ ملی ہے۔ اسی طرح ایک اور مہر پر ایک مردانی شبیہ کی گردن میں ڈھولک لٹکا ہوا دکھایا گیا ہے۔

مٹی، اور ہاتھی دانت سے بنے کھلونوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی دریافت ہوئی۔یہ جو ہم لڈو کھیلنے میں چھکاّ والی چیز استعمال کرتے ہیں یہ اُن آثار میں موجود ہے۔

دریا منہ(رخ) پھیرے تو بستی ویران تو ہوجاتی ہے۔ اور ہڑپہ بستی اب ویران ہوئی تو پھر کسی دوسری جگہ بڑے پیمانے پہ آباد نہ ہوسکی۔ دل کے ٹکڑے ہزار ہوئے، کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا۔

**

آخری، اور اور خوش کن بات یہ ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد اب یہ آثارصوبہ پنجاب کی ملکیت ہیں۔

ریفرنسز

۔ محمد حسن۔ کیو ریٹر ہڑپہ میوزیم۔ بروشیئر

۔L.Costantini-Palaeoethnobotany at Pirak, South Asian Archesorsy-1979-Dietrich Reimer verlag Berlim, p.272

۔اشرف۔ ایم اے۔ تاریخ ساہیوال۔ 2014۔ پنجاب لوک سجاگ۔ صفحہ 61۔

۔یحی امجد۔ تاریخ پاکستان۔ قدیم دور۔ صفحہ 280

۔گنگونسکی، پوری۔ دی پیپلز آف پاکستان۔ صفحہ 30

۔ندوی، رشید اختر۔مغربی پاکستان کی تاریخ،حصہ اول۔صفحہ 173

ماہنامہ سنگت اگست

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*