حبشی

ہمیشہ
ایک ایسے آدمی کا قتل ضروری ہے
جو ہمیں عزادار رکھے

میں کالے کپڑے پہنوں
اور تمہارے سائے جمع کروں
یہاں تک کہ صبح کے آٹھ بجے
رات ہوجائے

رنگوں بھری بالٹی اٹھا کر
خود پر انڈیل دوں
میں ایک حبشی ہوں
میری جلد سے پسینہ نہیں نکلتا
بلکہ وہ روتی ہے
فوجی کیمپ میں میری جبری مشقت پر
میری جلد
میری جلد میری عزادار ہے!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*