مذہبی اصلاح پسندی کی مختصر تاریخ

اب اس بات کو پانچ سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے جب مارٹن لوتھر نے اپنے پچانوے تھیسس 1517 میں لکھے اور مذہبی اصلاحات کا ایسا دور شروع ہوا جس نے مغرب میں روشن خیال اور روادار معاشروں کی بنیاد رکھی۔
اس کے مقابلے میں اگر ہم اپنے برصغیر پر نظر ڈالیں تو پندرہویں اور سولہویں صدی عیسوی میں یہاں بھی کچھ مذہبی تحریکیں شروع ہوئیں جن میں بھگتی تحریک، مہدوی تحریک جس کی قیادت سید محمد جون پوری کررہے تھے، بابا گرونانک کی تحریک جو آگے چل کر سکھ مت کی شکل میں ایک نیا مذہب بن کر ابھری، شہنشاہ اکبر کا آئین راہ نمونی جسے بعد میں کچھ لوگوں نے دین الٰہی کا نام دیا اور شیخ احمد سرہندی یا مجدد الف ثانی کی تحریک جو اکبر کی مذہبی تبدیلیوں کے خلاف تھیں۔
ہندوستان میں ان تحریکوں کے اسباب ونتائج یورپ کی مذہبی اصلاحات سے بالکل مختلف تھے۔ اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ پانچ صدی قبل یورپ میں کیا مذہبی تبدیلیاں ہوئیں اور مغربی تہذیب و تمدن نے ان سے کیا فائدے اٹھائے۔ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ یورپ میں ان اصلاحات کے ساتھ بڑی خوں ریزی بھی ہوئی جب کہ ہمارے خطے میں ان مذہبی تحریکوں سے کچھ زیادہ سبق حاصل نہیں کیے گئے اور اگر کیے بھی تو ان کی وسعت یورپ کے مقابلے میں بڑی محدود رہی۔
غالباً سب سے بڑا فرق رینے ساں یا نشاة ثانیہ کا تھا جس میں ثقافتی اور دانش ورانہ معرکے سر کئے گئے جس نے یورپ کا نقشہ بدل دیا اور اصلاحات کا راستہ کھلا جب کہ ہندوستان میں ہمیں ایسی کوئی نشاة ثانیہ یا نئی زندگی نظر نہیں آئی جس نے یہاں کے مذہبی نقشے کو بنیادی طورپر بدل دیا ہو۔ یورپ میں مذہبی اصلاحاتی تحریکوں سے قبل کا دانش ورانہ ماحول ایسا تھا جس میں لاطینی اور یونانی ادب اور فلسفے کو دوبارہ پڑھا اور سمجھا گیا۔
اس سے انسان دوستی کے رجحانات بڑھے اور مذہبیت کے گہرے رنگ سے بتدریج یورپ نکلتا گیا۔ اس نئی انسان دوستی نے فطرت کے حسن و جمال کو سراہا اور ترک دنیا سے پرہیز کیا۔
قرون وسطیٰ کا کیتھولک ذہن زمینی سرگرمیوں کو ناپسند کرتا تھا جب کہ خود پادری اور حکم ران اپنے لیے ہر طرح کی آسائشیں روا رکھتے تھے۔ اسی دور میں جب انسان دوستی کا آغاز ہوا تو یقین محکم کی جگہ تجسس اور تحقیق نے لینی شروع کردی، تنقیدی شعور بے دار ہوا جو ہمیں ہندوستان میں دور دور تک نظر نہیں آتا۔ گوکہ یہاں بھی کچھ اکادکا ایسی سرگرمیوں کے جزیرے تھے وہ کبھی بھی پوری کی طرح بالادستی حاصل نہ کرسکے۔
دانش ورانہ دل چسپیوں کے افق جس طرح یورپ میں روشن ہوئے اس کا پرتو ہمیں ہندوستان میں نہیں ملتا۔ مثلاً چھاپے خانے کی ایجاد اور نئے راستوں کی دریافت نے یورپی آبادی کو ہلاکر رکھ دیا اور یہ ہل چل صرف چند لوگوں تک محدود نہیں رہی۔ اسی طرح یورپ کی پھیلتی ہوئی تجارتی سرگرمیاں مزید دریافتوں کا باعث بنیں اور یورپی تہذیب و تمدن پھیلنا شروع ہوا۔ اس طرح دانش ورانہ تحریکوں نے ایک طرح سے یورپ کی نئی تجارتی زندگی کے ساتھ مل کر کام کیا جوکہ ہندوستان میں بالکل نہیں ہوا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ہندوستانی معاشرہ مجموعی طور پر ساکت و جامد اور غذائی طور پر خود کفیل تھا جب کہ یورپی معیشت اور تجارتی زندگی ایک دوسرے پر انحصار کرتے تھے۔
ہندوستان اور یورپ کی مذہبی تحریکیوں کے فرق کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ یورپ میں بتدریج فیوڈلزم یا جاگیردارانہ نظام ٹوٹتا گیا اور قومی وحدت پر مبنی ریاستیں وجود میں آتی گئیں۔ جاگیرداری ٹوٹنے سے یورپ کی مذہبی وحدت بھی انتشار کا شکار ہوتی گئی جس کا مرکز رومن کیتھولک کلیسا ہوا کرتا تھا۔
 گوکہ ہندوستان میں کوئی ایک متحد کلیسا نہیں تھا پھر بھی ہرشعبہ زندگی میں مذہب نمایاں حیثیت کا حامل تھا۔ کلیسائے یورپ اور ہندوستانی مذاہب دونوں نے اپنے حلقہ اثر میں روحانی اختیار قائم رکھنے کی جدوجہد کی۔
کلیسائے روم نے عام زندگی میں زیادہ منظم طریقے سے بالادستی حاصل کررکھی تھی جبکہ ہندوستان میں ایسا نسبتاً کم تھا۔ دونوں جگہ مذاہب نے اپنے اخلاقی اثر کے بل پر عوامی حمایت قائم رکھنے کی کوشش کی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کلیسائے یورپ کے پاس بڑی زمینیں اور مادی دولت بے حساب تھیں جس سے اس کے اثرو نفوذ میں استحکام تھا جب کہ ہندوستان میں صورت حال مختلف اس لیے تھی کہ یہاں زیادہ تر حکم رانوں کا مذہب اسلام تھا جب لوگوں کی اکثریت ہندو تھی۔
شاید اسی لیے یورپ میں سیاسی رہ نماﺅں نے تاریخی طور پر کلیسائے روم کی بالادستی قبول کررکھی تھی جب کہ ہندوستان میںزیادہ تر حکم رانوں نے مذہبی رہنماﺅں کو ایسی کوئی قبولیت نہیں بخشی تھی۔
قرون وسطیٰ کے کلیسا میں مکمل آمریت تھی جب کہ ہندوستان میں ایسی کسی مذہبی آمریت کا وجود نہیں تھا۔ ہندوستان میں مذہبی وحدت ناپید تھی جبکہ کلیسائے روم کا پورا انحصار ایسی مذہبی وحدت پر تھا جسے للکارنا بہت مشکل تھا ۔ گوکہ دونوں جگہ مذہب عام زندگی کو بڑی حد تک متاثر کرتا تھا ان کا رجحان اور نوعیت بہت مختلف تھے۔
یورپ میں ایک اور عنصر مقدس رومی شہنشاہیت یا ہولی رومن ایمپائر کا تھا جو یورپ کے بڑے حصے میں مسیحی شہزادوں اور بادشادہوں پر بالادست تھی گوکہ کبھی کبھی ان دعوﺅں سے انحراف بھی کیاجاتا تھا۔ یہ مقدس رومی شہنشاہیت دراصل جرمن مقامی حکم رانوں کا ایک ڈھیلا ڈھالا اتحاد تھا جس کی قیادت ایک منتخب شہنشاہ کرتا تھا۔
جرمنی کے علاقوں میں تقریباً تین سو جاگیردارانہ ریاستیں تھیں جو مل کر مقدس رومی شہنشاہیت یا ہولی رومن ایمپائر تشکیل دیتی تھیں جس وقت مذہبی نئی تحریکوں کا آغاز ہوا۔ نیشنل جیوگرافک کے ”ہسٹری “ میگزین نے اپنے ستمبر اکتوبر 2014 کے شمارے میں مارٹن لوتھر پر ایک تفصیلی مضمون شائع کیا ہے اس میں بھی یہ بات کہی گئی ہے کہ میسحیت میں اصلاحات کی بنیادیں چودہویں اور پندرہویں صدی میںڈ الی گئیں۔ اس وقت مذہی رہ نماﺅں مثلاً جان ویکلف اوکسفرڈ میں سن تیرہ سو بیس سے تیرہ سو پچاس کے درمیان اور جان ہنس سن تیرہ سو ستر سے چودہ سو پندرہ کے درمیان پراگ کی یونیورسٹی میں کلیسائے روم کو للکا رہے تھے۔
ویکلف نے کلیسا کی دولت کی مذمت کی اور انا جیل پڑھنے پر زیادہ زور دیا ۔ اس کا خیال تھا کہ انجیل مقدس کا انگریزی ترجمہ ہونا چاہیے۔ اس سے متاثر ہوکر جان ہس نے بھی روایات سے زیادہ بائبل کو مقامی زبانوں میں پڑھانے پر زیادہ زور دیا۔
 یہ اصلاحی تحریک جسے پروٹسٹنٹ انقلاب بھی کہا جاتا ہے روحانی اور دنیاوی طاقتوں کے درمیان ایک طرح کی جنگ بن گئی اس طرح کے تضادات ہندوستان میں بھی تھے مگر یہاں اس انتہا تک نہیں پہنچ سکے تھے۔ یورپ میں اس تحاد کو مزید بڑھاوا قوم پرستی نے دیا جس کی ایک جھلک ہمیں سیوا جی کی قوم پرستی میں بھی نظر آتی ہے۔
 یورپ میں کلیسائے روم کی عظیم دولت اور عام لوگوں پر بھاری محصول نے عوام کو کلیسا کے خلاف کردیا تھا۔ ویسے تو ہندوستان میں بھی کبھی کبھار مسلم حکم ران اپنی غیر مسلم رعایات پر جزیہ نامی محصول عائد کردیا کرتے تھے لیکن اس کے مذہبی رہ نماﺅں کا اس طرح فائدہ نہیں ہوتا تھا جیسا کہ یورپ میں ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ کلیسائے روم سے کچھ لوگوں کی علیحدگی کی ایک وجہ خود کلیسا میں غیر اخلاقی حرکتوں اور اقربا پروری کا چلن بھی تھا۔ پھر ایک نئی طرح کی مذہبی پارسائی نے بھی مذہبی اختلافات کو ہوا دی تھی۔
ویکلف اورھس کے بعد ایک ولندیزی اسکالر ایراس مس نے سن چودہ سو پینسٹھ سے پندرہ سو پینتس تک مذہبی اصلاحات کے لیے کام کیا۔ وہ خود بھی کیتھولک پادری تھا جو سماجی نقاد اور نشاة ثانیہ میں ایک انسان دوست تحریک کا داعی تھا۔ اس نے نئے عہد نامے کے لاطینی اور یونانی تراجم تیار کیے اور ایسے سوال اٹھائے جو پروٹسٹنٹ تحریک کے لیے کارآمد ثابت ہوئے۔ اور پھر کیتھولک کاﺅنٹر ریفارمیشن یا رد اصلاحات کے لیے بھی۔ گوکہ ایراس مس بھی کیتھولک کلیسا کا ناقد تھا مگر وہ مارٹن لوتھر کے جتنا نہیں تھا۔ اس نے پوپ کے اختیارات کو تسلیم کرتے ہوئے درمیانہ راستہ نکالنے کی کوشش کی اور روایتی عقیدے، پارسائی کا تحفظ کرتے ہوئے لوتھر کی اس بات کو مسترد کردیا کہ صرف عقیدہ ہی کافی ہے۔
ویکلف، ھس اور ایراس مس کی تعلیمات نے نئے خیالات کا بنیاد ڈالی۔ ان کی الٰہیات نے اس پر زور دیا کہ ذاتی روحانی تشکیل نو کی جائے اور کلیسا کے بہت سے دعوﺅں کو رد کردیا جائے۔ غالباً ویکلف اور ہس سے زیادہ یہ انسان دوستی کی تحریک تھی جس نے کلیسائے روم کی بدعنوانیوں پر حملہ کیا۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پروٹسٹنٹ تحریک کے رہ نما کسی بڑی رواداری اور آزاد دانش وری کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی تحقیق اور تجسس پر زیادہ زور دیتے تھے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ پروٹسٹنٹ ازم کے چار بڑے رہ نما جن میں لوتھر، کیل ون، نوکس اور زوینگلی شامل ہیں سب سے عدم رواداری کا مظاہرہ کیا اور آزاد خیالی کے دشمن ثابت ہوئے۔
وہ جس بات کا مطالبہ کلیسائے روم سے کررہے تھے خود اس پر عمل پیرا نہیں تھے۔ پروٹسٹنٹ انقلاب جرمنی سے شروع ہوا اور پھر اسکینڈے، نیویا، پولینڈ، نیدرلینڈ، سوئٹزرلینڈ، اسکاٹ لینڈ، انگلستان، بوھیمیا اور ہنگری تک پھیل گیا۔ اس پروٹیسٹ یا احتجاجی مسیحیت کی ایک شکل لوتھرن ازم تھی جو جرمن پادری مارٹن لوتھر نے چودہ سو پچاسی سے پندرہ سو پینتالیس تک پیش کی۔ اس کا بنیادی خیال ”عقیدے سے جواز“ حاصل کرنے کا تھا۔ جب کہ کلیسائے روم اپنا جواز روایات سے پیش کرتا تھا۔ پھر کلیسائے روم کے پادریوں نے جو ”جنت کے پروانے“ جاری کرنے شروع کیے تو لوتھر نے پندرہ سو سترہ میں اپنے پچانوی مقالوں میں ان کو رد کردیا۔
 لوتھر کے خیالات ھس سے ملتے جلتے تھے جسے تقریباً سو سال قبل ملحد قرار دیا گیا تھا۔ ان سو برس میں بہت کچھ بدل چکا تھا اور اب لوتھر اس قابل تھا کہ کھلی جنگ کا اعلان کردے اور پورے کلیسائی نظام کو للکارے۔ پندرہ سو بیس میں لوتھر نے تین نئے مقالے تحریر کرکے کلیسائے روم کی سیاسی اور مذہبی بنیادوں پر حملہ کیا۔ پوپ نے لوتھر کو مسیحیت سے نکالنے کا فرمان جاری کیا مگر عام لوگ مذہب کی نئی تشریح کو تسلیم کرنے لگے۔ اسے پارساﺅں نے بھی پسند کیا کیونکہ اس میں روحانیت اچھی خاصی تھی۔ مادیت پسندوں نے بھی اس میں کلیسا کی دولت پر قبضے کاموقع دیکھ لیا۔
پھرحب الوطنی کے دعوے دار بھی نکل آئے جنہوں نے جرمن قومی اتحاد کے راستے سے یورپ کو نکالنے کا سوچا اور عمل کیا۔ لیکن جب کسانوں نے زمینوں پر اپنا حق حاصل کرنا چاہا تو لوتھر نے امیروں کا ساتھ دیا اور کسانوں کو کچلنے میں مدد دی یہ واقعہ پندرہ سو پچیس کا ہے۔
اسی طرح زوینگلی نے سوئٹزرلینڈ میں کلیسائے روم کی مخالفت کی اور پرانے عقائد کو للکارا۔ پندرہ سو تئیس میں زوینگلی نے کلیسائے روم سے آزادی کا اعلان کیا۔ پندرہ سو تیس میں ایک کوشش کی گئی کہ لوتھر اور زوینگلی مل کر کام کریں۔ ان کی ملاقات بھی ہوئی مگر مذہب کی نئی تشریح کے کچھ نکات پر ان کے اختلافات برقرار رہے۔
زوینگلی پندرہ سو اکتیس میں فوت ہوگیا اور اس کی جگہ جان کیل ون نے لی جو پندرہ سو چونسٹھ میں صرف پچپن سال کی عمر میں فوت ہوگیا۔ یوں کیل ون زوینگلی کے بعد تیس برس سے زیادہ زندہ رہا اور اس نے کچھ لوتھر اور کچھ زوینگلی کے مذہبی نکات کو ملاکر کیل ون ازم کی بنیاد رکھی مگر پھر بھی لوتھر اور کیل ون کے اختلافات برقرار رہے۔ نئی مذہبی تحریکیں کبھی بھی متحد نہ ہوسکیں۔ کیل ون ازم سے بعد میں جدید پریس بی ٹیرین، کونگر سے گیشنل اور ریفارمرڈ چرچ نکلے۔ اسکاٹ لینڈ میں جان نوکس جو پندرہ سو پانچ سے پندرہ سو ستر تک زندہ رہا نے کیل ون از کی بنیاد ڈالی۔ جان نوکس کیل ون سے تقریباً پانچ سال بڑا تھا۔ لیکن اس نے کیل ون کی استادی قبول کی۔
جان نوکس نے سوئٹزرلینڈ میں کیل ون کے ساتھ خاصا وقت گزارا تھا۔ نوکس نے اسکاٹ لینڈ کا سیاسی و مذہبی نقشہ ہی بدل دیا اور وہاں کیل ون ازم مقبول ہوگیا۔ حتیٰ کہ انگلستان میں بھی کیل ون نے اینگلی کن کلیسا پر اثر ڈالا جو دراصل شاہ ہنری ہشتم نے شروع کیا تھا۔ سترہویں صدی کے وسط میں اولی ورکرام ویل کے ذریعے کیل ون ازم کو وقتی فتح نصیب ہوئی تھی۔
 اب لوتھرن ازم اور کیل ون ازم کے علاوہ پروٹسٹنٹ ازم کی ایک تیسری شاخ اینگلی کن ازم کی شکل میں موجود تھے۔ جس سے ایپس کوپل چرچ امریکا میں اور چرچ آف انگلینڈ یا کلیسائے انگلستان برطانیہ میں قائم ہیں۔ اینگلی کن ازم غالباً پروٹسٹنٹ ازم کی سب سے قدامت پسند شکل ہے جو دراصل پرانے کلیسائے روم کا ہی نیا ڈھانچہ ہے بس اس میں سے پاپائے روم اور اس کے حواریوں کو نکال دیا گیا ہے۔
اس مضمون کے اگلے حصے میں ہم دیکھیں گے کہ ہندوستان میں پندرہویں اور سولہویں صدی کے مذہبی رجحانات کیا تھے۔

پروٹیسٹنٹ ازم اور ہندوستان میں مذہبی تحریکیں
ڈاکٹر ناظر محمود

اس مضمون کے پہلے حصے میں ہم نے دیکھا تھا کہ کن حالات میں مذہبی اصلاح پسندوں نے کلیسائے روم کو للکارا اور پندرہویں اور سولہویں صدی کے یورپ میں مذہب کی نئی تشریحات کی جانے لگی تھیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ہندوستان اور یورپ کے مابین کیا فرق تھے جن کے باعث یہاں کی مذہبی تحاریک نے مختلف راستے اختیار کیے تھے۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں مذہبی دھاروں نے کیسے برصغیر کے روحانی نقشے کو بدلنے کی کوشش کی۔ پروٹیسٹنٹ ازم کی تعلیمات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اچھے اعمال سے کسی شخص کی نجات نہیں ہوسکتی اور نجات صرف خدا دے سکتا ہے اور یہ کہ کوئی فرد خدا کے نزدیک محبوب اسی وقت ہوگا جب وہ خدا کے ہر عمل پر پختہ عقیدہ رکھے۔
اسی سے ملتی جلتی بات پاکستان میں اس وقت کی گئی جب عبدالستار ایدھی کا انتقال ہوا اور عوام و خواص سب نے انہیں انتہائی عزت و احترام دیا لیکن کچھ مولوی اس پر ناراض ہوئے اور کہا کہ اعمال سے نجات نہیں ہوگی بل کہ صرف عقیدے کی بدولت ہی نجات ممکن ہے۔
اگر ہم ہندوستان میں بھگتی تحریک پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی خدا سے تعلق کا جذباتی بیان کیا گیا ہے پروٹیسٹنٹ ازم کی طرح بھگتی تحریک کے بھی کئی دھارے تھے اور اسے کوئی ایک مسلم اصول کے ماتحت نہیں سمجھا جاسکتا بھگتی مارگ یا بھگتی کا راستہ مذہب کے دو دیگر راستوں سے مختلف ہے۔ جن میں علم یا گیان اور کرما یا عمل کا راستہ شامل ہے۔ لوتھر کے ماننے والے اور اصلاحی یا ریفارمرڈ پروٹیسٹنٹ یقین رکھتے ہیں کہ اچھے اعمال نجات کی راہ میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔ اگر ہم اچھے اعمال کو کرما سے جوڑ کر دیکھیں تو ہمیں دونوں طریقوں میں خاصی مماثلت نظر آتی ہے۔
 ابتدائی بھگتی تحریک ساتویں سے دسویں صدی عیسویں میں جنوبی ہندوستان میں شروع ہوئی جب تامل زبان کی کویتا یا نظموں میں وشنو اور شیو جیسے خداﺅں کو سراہا گیا۔
غالباً بھگتی کی عبادات کے لیے اولین دانش ورانہ بنیاد رام انوجا نے فراہم کی تھی جو ایک ہزار قبل سن 1017 میں پیدا ہوا تھا۔ رام انوجا کا دور یورپ میں پروٹیسٹنٹ تحریک سے پانچ سو سال قبل کا ہے۔ یورپی اصلاح پسندوں کی طرح رام انوجا بھی ایک مذہبی رہ نما تھا۔ رام انوجا جنوبی ہند کے ایک برہمن خانوادے سے تعلق رکھتا تھا جس نے وشنو اور لکشمی دیوی کے لیے مکمل سپردگی کی تبلیغ کی۔
رام انوجا کی تعلیم یہ تھی کہ ایک ذاتی خدا کی عبادت اور اس سے روحانی ملاپ یعنی وصال اپ نیشد کی بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔ اپ نیشد کو ویدوں پر لکھی جانے والی تفسیر سمجھا جاسکتا ہے۔
بھگتی تحریک جلد ہی شمالی ہندوستان پہنچ گئی اور گیارہویں صدی کے بعد مسلم نظریات نے بھی اس پر اثر ڈالا ہوگا خاص طور پر خدا کے لیے مکمل سپردگی کے خیالات مسلم اور ہندو دونوں میں موجود تھے۔ جن کا واضح اظہار بھگت کبیر سے صوفی شعرا میں ہوا۔ کبیر کا زمانہ چودہ سو چالیس سے پندرہ سو بیس تک کا سمجھا جاتا ہے۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ کبیر کی وفات تقریباً اسی وقت ہوئی جن برسوں میں مارٹن لوتھر پندرہ سو سترہ میں اپنے پچانوے مقالات کی ترویج کررہا تھا۔ یورپ میں ویکلف اور نوکس کی طرح ہندوستان میں بھی بارہویں اور سولہویں صدی تک کوئی تین چار سو برس بڑی مذہبی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔
 اسی دور میں راما آنند، کبیر، تلسی داس اور سورداس ، شمالی ہند میں، چیتنیا بنگال میں، نانک پنجاب میں اور تکا رام جنوبی ہند میں سرگرم رہے تھے۔ گوکہ ہندومت کے بڑے دیوتا وشنو اور شیو اور دیویوں کی مختلف شکلیں اپنی عبادات کے لحاظ سے مخصوص روایات کی حامل تھیں۔ بھگتی تحریک کے درج بالا بڑے نام زیادہ تر وشنو بھگتی روایات کے حامل تھے جس میں وشنو کے اوتار خاص طور پر کرشن اور رام شامل تھے۔
 یورپ میں پروٹیسٹنٹ ازم کلیسائے روم کے خلاف تھا تو ہندوستان میں بھگتی تحریک برہموں کی اجارہ داری کے خلاف تھی۔ کلیسائے روم اور برہمن وادی دونوں دعوے دار تھے کہ ان کے مذہبی احکام کی خلاف ورزی دراصل خدا کی نافرمانی تھی۔ بھگتی تحریک نے بھی اس بیانیے کو للکارا اور عوام کو خدا سے براہ راست رابطے کا راستہ دکھایا جس میں مذہبی ٹھیکے داروں کی کسی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔
بھگتی تحریک کی زیادہ تر شاعری برہمنوں کے خلاف ہے اور ان پر طنز کرتی ہے اور ان کی پارسائی کے دکھاوے کا پردہ چاک کردی ہے۔ ایک طرح سے برہمنوں کی پارسائی اور کلیسائے روم کی پارسائی کے دکھاووں میں کوئی زیادہ فرق نہیں تھا۔ یہاں یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ بھگتی تحریک مکمل طور پر ایک ہندو مذہبی تحریک تھی۔ اس تحریک کی کچھ نمایاں شخصیات جیسے کبیر اور نانک نے تو ہندومت اور اسلام کے درمیان فرق تک مٹانے کی کوشش کی۔
 جب یورپ میں پروٹیسٹنٹ رہ نما بائبل کے مقامی زبانوں میں تراجم کو فروغ دے رہے تھے اور کلیسائے روم کی جانب سے لاطینی زبان کے استعمال کی مخالفت کررہے تھے تقریباً اسی دور میں بھگتی تحریک کے رہ نما سنسکرت سے ہٹ کر مقامی زبانوں کا استعمال کررہے تھے جیسے بنگالی، ہندی، مراٹھی اور پنجابی کا۔ اس دور کے سب سے بڑے شعرا میں کبیر کا نام سرفہرست ہے اور اردو کے قارئین کے لیے کم از کم تین اچھی کتابیں اردو میں موجود ہیں۔ ایک تو پنڈت منوہرلال زتشی کی کتاب ”کبیر صاحب“ منوہرلال اٹھارہ سو پچھتہر سے انیس سو پینتالیس تک کوئی ستر برس جیے اور ان کی کتاب مکتبہ جامعہ دہلی نے پہلی بار 1930 میں شائع کی تھی۔ یہ کتاب ریختہ کی ویب سائٹ پر مفت پڑھنے کے لیے موجود ہے۔
اسی کتاب کو لاہور میں بک ہوم نے 2007 میں شائع کیا اور منوہرلال زتشی کا نام مصنف کے طور پر درج کیا۔ جیسے کہ کبھی ہمارے ناشر نہیں بھی کرتے اور پرانی کتابیں کسی اور کے نام سے شائع کردیتے ہیں۔ یا مصنف کا نام ہی غائب کردیتے ہیں کبیر پر ایک اور کتاب فکشن ہاﺅس نے 2008 میں شائع کی اور شکیل الرحمان کا نام مصنف کے طور پر دیا ہے۔
کبیر پر اردو کی دو اور اچھی کتابیں راقم کے پاس موجود ہیں جن میں ایک تو ڈاکٹر عبدالحفیظ کی ”بھگت کبیر حیات و تعلیمات“ جس کی ترتیب وتدوین ارشد رازی نے کی اور نگارشات لاہور نے 2001 میں شائع کی۔ دوسری کتاب ریٹا شاہانی کی ”اکتھ کہانی کبیر“ ہے جو العصر پبلی کیشنز نے 2013 میں شائع کی۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ ایک سو پچھتہر صفحات کی اس کتاب میں شروع کے پچاس صفحات میں ڈاکٹر داموردر کھڑسے نے پونے سے، ڈاکٹر رشبھ شرما نے حیدرآباد دکن سے اور ڈاکٹر نذیر فتح پوری نے بھی پونے بھارت سے ریٹاشاہانی اور کبیر کے بارے میں لکھا ہے۔
 اس کے علاوہ ابراہیم جویو کا دیباچہ جو انہوں نے حیدرآباد سندھ سے 2008 میں لکھا شامل ہے۔ اس طرح یہ کتاب مختصر مگر جامع ہے جو ریٹا شاہانی جیسی اردو، انگریزی۔ سندھی، ہندی کی ادیبہ نے پونے بھارت میں تحریر کی۔ ریٹا شاہانی مختلف اصناف سخن میں تیس سے زیادہ کتابیں تحریر کرچکی ہیں خاص طور پر میرا بائی پر بھی ان کا خاصا تحقیقی کام موجودہے۔
یہ تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ریٹا شاہانی 1934 میں حیدرآباد سندھ میں پیدا ہوئیں اور سندھی کے مایہ ناز ادیب منگھا رام ملکانی کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ملکانی تقسیم سے قبل کراچی کے ڈی جے سائنس کالج میں انگریزی کے پروفیسر تھے۔ افسوس ہم نے کیسے کیسے ہیرے کھو دئیے۔ بقول حسن عابدی
اک عجب بوئے نفس آتی ہے دیواروں سے
ہائے زنداں میں بھی کیا لوگ تھے ہم سے پہلے
بھگتی پر اردو میں غالباً سب سے اچھا اور جامع تعارف ”پریم وانی“ نامی کتاب میں ہے۔ جسے سردار جعفری نے مرتب کیا اور آج بکس نے 2001 میں شائع کیا۔ پریم وانی زیادہ تر میرا بائی کے بارے میں ہے جو تقریباً پندرہ سو عیسوی سے پندرہ سو چونسٹھ تک زندہ رہیں۔ یاد رہے کہ 1564 ہی وہ سال ہے جس میں کیل ون ازم کا بانی جان کیل ون فوت ہوا تھا۔
پریم وانی کا تعارف ڈاکٹر صفدر آہ سیتاپوری نے 1971 میں تحریر کیا تھا۔ اردو میں دست یاب ایک اور کتاب تلسی داس کی سوانح حیات ہے۔ جو بھگوان داس نے تحریر کی ہے۔ اس کا ردو ترجمہ پریم داس بالاچ نے کیا جسے فکشن ہاﺅس نے 2013 میں شائع کیا ۔
 کبیر کے ساتھ پندرہویں صدی کے ہندوستان کی ایک اور عظیم شخصیت رامانند تھے جن کا دور سن چودہ سوسے چودہ سوستر کا ہے یعنی یہ کبر سے کوئی پچاس برس قبل فوت ہوئے۔ یہ بھی شمالی ہندوستان کے ایک برہمن پنڈت تھے۔ جو بعض روایات کے مطابق رام انوجا کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔
پھر بابا گرونانک کا دور آتا ہے جو رامانند کی وفات کے آس پاس چودہ سو ستر میں پیدا ہوئے اور پندرہ سوچالیس میں ستر برس کی عمر میں وفات پائی۔ گرونانک ایک عظیم مذہبی انقلابی تھے جنہوں نے کبیر اور رامانند کی طرح طویل سفر کیے اور عوام تک امن و آشتی کے پیغام پہنچائے۔
ان سب کی تعلیمات میں مشترکہ عنصر یہی تھا کہ خدا سب سے قریب ہے نہ کہ صرف چند منتخب لوگوں کے جیسا کہ برہمن پنڈت اور کلیسائے روم کے حواری بتاتے تھے۔
بابا گرونانک غالباً اس دور کے واحد رہ نما تھے جنہوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ بھگتی تحریک کے خیالات کو ایک مضبوط، جامع اور پائیدار شکل میں ترتیب دیا۔ ان کی منفرد روحانی، سماجی اور سیاسی سوچ نے بھگتی کے پیغام میں موجو مساوات، محبت، اچھائی کو عوام کے سامنے قابل قبول انداز میں پیش کیا۔
 جس وقت پروٹسٹنٹ لوگ اچھے اعمال کے مقابلے میں عقیدے پر زیادہ زور دے رہے تھے گرونانک اچھائی اور نیکی کے درس دے رہے تھے۔ تمام انسانیت میں اتحاد، عوام کی بے غرض خدمت، سماجی انصاف کے لیے جدوجہد، دیانت دار طرز زندگی اور جائز روزگار گرونانک کی تعلیمات کے لازمی عناصر ہیں جو انہیں اس دور کے پروٹسٹنٹ رہ نماﺅں سے برتر ثابت کرتے ہیں۔
جو قارئین اردو میں بابا گرونانک کے بارے میں مزید پڑھنا چاہئیں ان کے لیے گوپال سنگھ کی کتاب ”گروہ نانک دیو“ جس کا اردو ترجمہ مخمور جالندھری نے کیا اور جسے نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا نے شائع کیا خاصی کارآمد ہے۔ اس کے علاوہ ایک اچھی کتاب ”گروگرنتھ اور اردو“ ہے جسے عباداللہ گیانی نے تحریر کیا اور مرکزی اردو بورڈ لاہور نے شائع کیا ۔ اس کتاب میں بارہویں صدی سے سترہویں صدی تک تقریباً پانچ سو سال کا احوال درج ہے۔ یہ کتاب 1966 میں شائع ہوئی اور اس کے ناشتر احمد دین اظہر (اے ڈی اظہر) جن کے بیٹے اسلم اظہر پی ٹی وی کے بانی تھے۔ اس کتاب کے حصہ اول میں گروگرنتھ صاحب کے وہ شبد اور اشکوک ہیں جن میں فارسی اور عربی کے الفاظ ہیں۔
اسی حصے میں شیخ فرید کے کلام سے لے کر بھگت کبیر، گرونانک اور گرو ارجن اور رائے بلونڈ تک کا کلام شامل ہے۔ اس کتاب کے دوسرے حصے میں گرو گرنتھ صاحب میں استعمال شدہ عربی اور فارسی الفاظ کی فہرست دی گئی ہے۔ اسی طرح ایک اور کتاب جے ایس گریوال کی ”سکھ مذہب اور تاریخ“ ہے جس کا اردو ترجمہ امجد محمود نے کیا اوربک ہوم لاہور نے شائع کیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے اکثر ناشروں کی طرح یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ کتاب کب لکھی گئی اور پہلی بار کب شائع ہوئی۔ نہ ہی مترجم امجد محمود نے کوئی تعارف یا پیش لفظ لکھا ہے۔
 صرف یہ بتایا گیا ہے کہ جے ایس گریوال چندی گڑھ بھارت میں انسٹی ٹیوٹ آف پنجاب اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں اور پنجاب اور سکھوں پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ اس کتاب کے پہلے باب میں صرف چند صفحات پر بھگتی تحریک کا ذکر ہے ۔ پھر دوسرے باب میں ”سکھ پنتھ کی بنیاد“ کے زیر عنوان اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
 لیکن غالباً اردو میں ”جپ جی سکھ منی صاحب“ کا اردو ترجمہ جو خواجہ دل محمد نے کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ راقم کے پاس اس کا تیسرا انڈیشن جو 1946 میں شائع ہوا موجود ہے۔ اسی کتاب کو ”کلام وحدانیت“ کے نام سے احمد سلیم نے ترتیب دیا اور 2004 میں فکشن ہاﺅس نے شائع کیا۔ اس میں احمد سلیم کا چار صفحات پر پیش لفظ بھی ہے جو مختصر اور جامع ہے۔ تقسیم ہندر سے قبل پنجاب میں رواداری کا اندازہ خواجہ دل محمد کے ان الفاظ سے لگایا جاسکتا ہے۔
”جپ جی وہ مقدس عرفانی اور روحانی پاک کلام ہے جسے لاکھوں انسان صبح کے سہانے وقت میں اپنے خالق کے حضور توجہ اور شوق سے پڑھتے ہیں۔“
آگے لکھتے ہیں
”یہ مناجات پنجاب کے مسلح اعظم خدا رسیدہ بزرگ بابا گروہ نانک صاحب کی مبارک زبان سے نکلی ہے۔ ان کے عقیدت مند اس مقدس نظم کے ایک ایک لفظ کو حرز جان سمجھتے ہیں اور اس دعائے سحری کا ورد ہرد وجہان میں اپنے لیے موجب نجات سمجھتے ہیں“
بھگتی تحریک اور پروٹسٹنٹ رہ نماﺅں میں ایک فرق یہ تھا کہ چھاپے خانے کی ایجاد کی بدولت یورپ میں پروٹسٹنٹ تعلیمات کو بروقت محفوظ کیا جاسکتا تھا۔ جب ہندوستان میں ایسا زیادہ تر زبانی کلامی ہوا۔ جس کے نتیجے میں بھگتی تحریک کے رہ نماﺅں کبیر، رامانند اور نانک سے لے کر چیتنیا، سورداس اور ولبھ اچاریہ تک سب کے گرد دیومالائی حصار بنادیا گیاہے اور مبینہ معجزوں کی بھرمار ہے۔
پروٹسٹنٹ رہ نماﺅں کے اکثر حالات زندگی اور ان کی تحریریں اصل اور قابل اعتماد حالت میں موجود ہیں۔ جب کہ بھگتی رہ نماﺅں کے بارے میں ایسا وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ ان کے حالات زندگی میں بہت مبالغہ آمیزی ملتی ہے اور ہربھگت یا گروہ کے بارے میں بہت بڑھا چڑھا کر باتیں بیان کی گئی ہیں۔
 اب سوال یہ ہے کہ کیا کبیر، نانک اور رامانند وغیرہ کا موازنہ پروٹسٹنٹ رہ نماﺅں مثلا لوتھر، کیل ون اور نوکس وغیرہ سے کیا جاسکتا ہے؟ کیا ہمارے بھگتوں نے پروٹیسٹ یا احتجاج کیے؟ اس کا جواب مثبت میں ہے۔ پہلا احتجاج تو خود ذات پات کے خلاف تھا کیوں کہ کبیر، رامانند اور نانک ذات پات اور مذہبی افسر شاہی پر بالکل یقین نہیں رکھتے تھے۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے بھگت بھی مقامی زبانوں جیسے پنجابی اور ہندی وغیرہ کو مقدس زبانوں جیسے سنسکرت اور عربی پر ترجیح دیتے تھے۔ جیسا کہ ویکلف، ھس اور لوتھر وغیرہ نے کیا تھا اور بائبل کو لاطینی سے انگریزی ، جرمنی اور چیک زبانوں میں منتقل کیا۔
ایک اور مماثلت یہ تھی کہ بھگتوں نے بھی مذہب کو عوام کے قریب لانے میں کردار ادا کیا اور اس طرح انہوں نے پرانی تسلیم شدہ مذہبی مقتدرہ کو للکارا۔ اس مقصد کے لیے پروٹسٹنٹ تو چھاپے خانے استعمال کررہے تھے مگر یہاں کے بھگت ایسی شاعری کررہے تھے جو زبان زد عام ہوکر لوگوں کو متاثر کررہی تھی۔
بھگتی تحریک اور پروٹسٹنٹ ازم دونوں خود اذیتی کے قائل نہیں تھے اور عوام کو براہ راست خدا سے تعلق رکھنے پر زور دیتے تھے۔ جس میں پیچدہ رسوم و رواج کا دخل نہ تھا۔ دونوں تحریکوں کا کہنا تھا کہ مذہبی پیچیدگیاں غیر اہم ہیں اور بلاوجہ سرپٹخنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ انسان کو خود خدا سے اپنے تعلق کے بارے میں سوچنا اور فیصلہ کرنا چاہیے اور اس کے لیے کسی برہمن، پادری یا ملا کی ضرورت نہیں ہے۔
 دونوں تحریکوں نے مذہبی عبادت اور عبارتوں کو طوطے کی طرح رٹنے سے باز رکھا اور سمجھ کر پڑھنے کی ترویج کی۔ اگر کوئی مقدس تحریر سمجھ نہیں آرہی تو اسے رٹنے یا دہرانے کا کوئی فائدہ اور ضرورت نہیں۔
پندرہویں صدی کے آخری دو عشروں میں یعنی 1480 سے 1500 تک چار بڑی شخصتیں سامنے آئیں۔ بنگال میں چیتنیا، متھورا کے نزدیک برج کے مقام پر سورداس، چھتیس گڑھ میں ولبھ اچاریہ اور راجستھان میں میرا بائی۔ اس طرح مشرقی، شمالی، وسطی اور مغربی ہندوستان میں کم از کم ایک بڑی مذہبی شخصیت 1480 سے 1500 کے درمیان پیدا ہوئی۔
چیتنیا ایک ہندو سادھو تھا جو کرشن مہاراج کی پوجا میں ناچ گانا استعمال کرتا تھا۔ وہ انتہائی مذہبی تھا اور دنیاوی معاملات سے بے بہرہ اور لاتعلق ۔ اس نے اجتماعی عبادات کیرتن کی ترویج کی جس میں بھجن گاکر ایشور کے نام چبے جاتے ہیں۔
چیتنیا کی تحریک انتہائی جذباتی تھی جو بنگال اور اڑیسہ میں سولہویں صدی میں پروان چڑھی۔ کبیر اور نانک کی بھگتی تحریک کے مقابلے میں چیتنیا کی تحریک میں کرشن مہاراج کی پوجا پر بڑا زور دیا گیا تھا۔ رادھا اور کرشن کے قصے میں خدا اور انسان کی محبت پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔
چیتنیا کی بھگتی کبیر اور نانک کی بھگتی سے مختلف تھی۔ کیوں کہ کبیر اور نانک نے مسلمہ مذہبی نظام کو للکارا جب کہ چیتنیا مکمل طور پر دیوی دیوتاﺅں کے لیے سپردگی کا طالب تھا اورنام جپنے ہی کو معراج سمجھتا تھا۔ جس میں ڈھول تاشے بجائے جاتے اور رقص کیے جاتے۔
سورداس بھی ایک مہان کوی تھا جو برج بھاشا میں کرشن کے بھجن گاتا بجاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سور داس نے ولبھ اچاریہ سے اثر قبول کیا تھا۔ ولبھ اچاریہ خود بھی کرشن کا بھگت تھا۔ اسی طرح میرا بائی بھی کرشن کی ایک مورتی پر عاشق تھی اوراس نے سینکڑوں گیت اور بھجن کرشن مہاراج کی محبت اور عقیدت میں لکھے۔
میرا بائی کی زندگی کو کم از کم تین بھارتی فلموں میں پیش کیاگیا ہے۔ امریکی ہدایت کار ایلس ڈنکن نے 1945 اور 1947 میں بالترتیب تامل اور ہندی زبان میں میرا بائی پر فلمیں بنائیں جن میں میرا بائی کا کردار سجالکشمی نے ادا کیے پھر اس کے تقریباً تیس سال بعد گلزار نے ہیما مالنی اور ونود کھنہ کو لے کر فلم ”میرا“ بنائی۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ کبیر، نانک اور راما نند کی بھگتی سے خاصی مختلف بھگتی چیتنیا، سورداس، ولبھ اچاریہ اور میرا بائی کی تھی۔ کبیر، نانک اور رامانند کی بھگتی میں کچھ مماثلت پروٹسٹنٹ ازم سے ہے جبکہ چیتنیا اور میرا بائی کو بھگتی میں ایسا کچھ نہیں ہے۔
اس مضمون کے اگلے حصے میں ہم دیکھیں گے کہ پندرہویں اور سولہویں صدی میں مسلم مذہبی تحریکوں کا کیا حال تھا اور کیا اس میں بھگتی اور پروٹسٹنٹ تحریکوں کے کچھ موازنہ کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*