سمو دیس(پیربیہو)

کوہ سلیمان جہاں تاریخی لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل ہے وہیں خوبصورت مقامات اور اچھی ثقافت بھی اس کا حصہ ہیں۔ سیاسی لحاظ سے پسماندہ ہونے ، تعلیم اور بنیادی سہولیات جیسے سڑک و ذرائع ابلاغ نہ ہونے کی وجہ سے یہ علاقے دوسرے علاقوں سے نہ جڑ پائے ۔ حالانکہ یہ علاقے سندھ ، پنچاب ،خیبر پختون خواہ اور بلوچستان کے سرحدسے جڑے ہیں۔
کوہ سلیمان میں کئی راز مخفی ہیں لیکن مقام ِافسوس ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آج تک کسی نے ان رازوں سے پردہ نہ اٹھایا۔ لوگ آج بھی کوہ سلیمان کی خوبصورتی، اس کی پر اسرار کیفیت اور اس کے تاریخی مقامات سے ناواقف ہیں ۔ تخت سلیمان کا نام تو مشہور ہے لیکن یہیں مست سے جڑی ایک وادی "سمو دیس” سے لوگ نا واقف ہیں ۔ کوہ سلیمان کا یہ پہاڑی سلسلہ دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے۔ یہاں ذرائع نقل وحمل ، بنیادی سہولیات اور آبادی نہ ہونے کی وجہ سے سیاح کم ہی آ تے ہیں ۔ لیکن جو لوگ ان علاقوں میں آئے اور اس کی پر اسرار اور کٹھن راستوں کو عبور کرکے خوبصورت وادی کا نظارہ کر لیا وہ داد دئیے بغیرنہ رہ سکے۔ آج ہم سمو دیس کے بارے میں لکھنے جارہے ہیں سو کوہ سلیمان پر لکھی یہ تحریر پڑھتے جائیے اور لطف اٹھاتے جائیے۔
سمو دیس اور پیر بیہو جانے کے دو راستے ہیں جن میں سے پہلا راستہ کرکنہ (ضلع موسیٰ خیل) سے آگے درگ کے قریب گڑگوجی تک باراستہ سڑک آپ گاڑی یا موٹر سائیکل کے ذریعے جا سکتے ہیں لیکن اس سے آگے سڑک نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو اپنی گاڑی وہیں کھڑی کرکے پیدل پہاڑ کی طرف سفر کرنا ہے اور یہ سفر مسلسل چار سے پانچ گھنٹے کا ہوتا ہے جو دشوار گزار اور پرپیچ وخم دار کھٹن راستے سے ہوتا ہوا بیہو پیر کی طرف جاتا ہے ، جبکہ دوسرا راستہ درگ (ضلع موسیٰ خیل) سے آگے نتھ نامی جگہ تک تو آپ گاڑی لے جا سکتے ہیں لیکن اس سے آگے وہی پیدل سفر تین سے چار گھنٹے تک مسلسل اونچائی کی طرف سفر کر کےطے کرنا پڑتا ہے ۔ یہ علاقے خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے کئی جگہوں پر پہاڑ میں ایسے گوفائیں بھی موجود ہیں کہ جن سے بہت ہی ٹھنڈی ہوا آرہی ہوتی ہے تھکان سے نڈھال لوگ ایسی جگہوں پر ٹھہر کر اپنا پسینہ خشک کرنے کے بعد واپس اپنا سفر جاری رکھتے ہیں ۔چار سے پانچ گھنٹے طویل سفر کرنے کے بعد جیسے ہی آپ پیر بیہو پہنچ جاتے ہیں یہاں ہوا کے سرد جھونکے آپ کی استقبال کےلیے تیار کھڑے ہیں ۔ سرد اور تازہ ہوا کے جھونکے جیسے ہی لگتے ہیں دن بھر کا تھکن منٹوں میں غائب ہوجاتا ہے اور انسان تروتازہ ہوجاتاہے ۔
یہاں کی پر اسراریت کا یہ حال ہے کہ جیسے جیسے آپ ان وادیوں میں داخل ہو جاتے ہو تو دنیا جہاں کے خیالات کہیں کھو جاتے ہیں آپ نیچر سے جڑ جاتے ہیں اور یوں آپ کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ زندگی کتنی خوبصورت ہے ۔ بالکل سکون کے عالم میں چلے جاتے ہو، نہ ہی کوئی شور و غل نہ ہی دھواں اور نہ ہی کوئی اور پریشانی ۔ ہر طرف سبز وادی! جیسے جنت میں اتر آیا ہو۔ کئی ہزار فٹ اونچائی پر چڑھ کر قدرت کا نظارہ کرنے کا تو مزہ ہی کچھ اور ہے۔ ہلکی ہلکی بوندا بانداور چاروں طرف سے سرسبز وادی کے بیچوں بیچ تن تنہا نیچر میں کھو جانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے ، نیچر دوست لوگ باخوبی اس احساس سے واقف ہیں جس کی لمس انہیں نیچر سے جوڑے رکھتی ہے۔

مست جہاں گیا اپنے نشان چھوڑتا گیا ، سمو کے نام سے جڑی اس کی تحریک نے بلوچستان کے چپے چپے کو ایک پہچان دی۔ سمو دیس کوہ سلیمان کے ایک پہاڑ کی چوٹی پر واقع مست کی ایک ایسی ہی نشانی ہے کہ جہاں بلوچستان کا مفکر مست توکلی میڈیٹیشن کرتا اور خود کو سمو سے جوڑنے کی جتن کرتا تھا ۔ اس پہاڑ کی چوٹی پر ایک دیوار ہے جو مست سے منسوب ہے اور اس علاقے کو سمو دیس کہا جاتا ہے۔ اس دیوار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مست نے سمو کے مہمانوں کےلیے یہ جگہ بنائی، جہاں سمو کے مہمان آکر بیٹھتے اور وہ ان سے ساری رات محو گفتگو رہتا ۔ ساتھ میں پڑا ہوا ایک بڑا سیاہ پتھر جو کسی دیگ کی طرح ہے کومست سمو دیگ کہہ کر پکارتے تھے کہ جس میں وہ سمو کے مہمانوں کےلیے کھانے بناتے اور مہمانوں کو پیش کرتے۔ یہاں درجہ حرارت سردیوں میں نقطہ انجماد سے نیچے رہتی ہے اور جسم کو خشک کر دینے والی سردی ہوتی ہے۔ اس دیوار کے باہر درجہ حرارت جتنا بھی سرد کیوں نہ ہو لیکن دیوار کے اندر کی طرف درجہ حرارت ہمیشہ نارمل رہتا ہے اور یہ مست کی دعا تھی کہ سمو کے مہمانوں کو سردی نہ لگے ۔
دیکھیں نا !!مست نے ثابت کر دیا کہ بلوچ کےلیے اس کے مہمان کتنی اہمیت کے حامل ہیں۔ پریکٹیکل کر کے دکھایا خود تو سردی یعنی نقطہ انجماد سے بھی نیچے باہر تڑپ رہے تھے لیکن ان کو فکر تھی تو سمو کے مہمانوں کی ۔ فکر تھی تو بلوچی روایات کی ۔ لیکن افسوس آج ہم بحثیت بلوچ مست اور اس کے افکار کو بھلا چکے ہیں ۔۔۔
ہم نے اس کی ہر قربانی کو زائل کر دیا اور آج اگر ہم بحثیت قوم ناکامی کا شکار ہیں۔ ہم نے مست کے توار کو لبیک نہ کہا اس کے سمو راج، اس کے سمو دیس، اس کے انسان دوست افکار کو نہیں اٹھایا ۔ ہم نے لالچ ، فریباور دھوکہ دہی نیز ہر شیطانی فکر کو تو اپنایا لیکن پیغمبر صفت مست کے قول اوراس کے ہر فعل سے روگردانی کی
اپنے عہد کے سب سے بڑےمفکر مست نے جو عکاسی ہمارے معاشرے کاکیا اس جیسا نظریہ نہ کبھی کو ئی دے سکا ہے اور نہ دے سکے گا۔
مست نے جو مراقبہ کرکے حاصل کیا اور بیان کیا اس لیول پر جانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ سوچ کی گہرائی میں جاکر اپنے لینگوئج کے ڈائنامک میں رہتے ہوئے ان فیلنگز کو واپس الفاظ کےسانچے میں ڈھالنے کا کام کوئی مست ہی کر سکتا ہے۔ ویسے ہوتا تو یہ ہے کہ جو لوگ میڈیٹیشن کے اس نہج تک پہنچ جاتے ہیں اگرچہ وہ ایک سوچ و فکر کو پالیتے ہیں مگر وہ اظہار کے ڈائنامک کو نہیں سنھبال پاتے وہ خود تو ہر بات سمجھ لیتے ہیں لیکن اس کو آگے پہنچانے کا میڈیم وہ کھو دیتے ہیں ۔ لیکن مست ایسا بالکل نہ تھا۔ مست جہاں افکار کے عروج تک پہنچ گیا وہیں اس نے خود کو پریکٹکلی وقت کے تھپیڑوں کے آگے پیش کر دیا اورعلم بغاوت بلند کیے رکھا۔ مست نے ہر اس کالے قانون کو پریکٹکلی رد کر دیا تھا جو اس معاشرے کے سوچ اور افکار پر قابض ہے۔
یہ پہاڑ آبادی سے بہت دور ہے۔ نزدیک نہ تو کوئی شہر ہے اور نہ ہی کوئی سڑک۔ کہیں کہیں کچے گھر موجود ہیں اور یہ گھر ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر واقع ہیں ۔ پانی دور کہیں ندی سے لایا جاتاتھا خیر اب تو لوگوں نے نلکے اور کنوئیں کھود کر گھر کے اندر پانی نکالنے کا بندوبست کرلیا ہے لیکن آج سے چند سال پہلے ایسا بالکل نہ تھا۔ موسم معتدل ہے ، چاروں طرف سبزہ ہی سبزہ ہے ۔ اونچائی زیادہ ہونے کی وجہ سے بادل بہت قریب سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ کہیں کہیں آبشار اور ندیوں کا کرسٹل جیسا شفاف پانی بہہ رہا ہوتا ہے۔ یہاں سردیوں میں بلا کی سردی پڑتی ہے ۔ لوگ لکڑیوں سے آگ جلا کر اپنا گزارا کرتے ہیں زیادہ تر لوگوں کا معاش مال مویشی پالنا ہے۔ یہاں کے لوگ زیادہ تر جعفر اور بزدار قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں انتہا درجے کے مہمان نواز اور مخلص لوگ ہیں بالکل مست کے آئیڈیل ۔ مہمان نوازی کا یہ حال ہے کہ اگر دور سے کوئی اجنبی آجائے تو گھر کے مویشی ذبح کر کے ان کی مہمان نوازی کی جاتی ہے اپنے بچوں کو بھوکا سلا کر مہمانوں کو کھانا دیا جاتاہے ۔
یہ علاقے سیر و سیاحت کےلیے نہایت موزوں اور خوبصورت ہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ اور انسر جنسی نہیں یہ بالکل پر امن علاقے ہیں۔
عثمان بزدار کے وزیر اعلی بننے کے بعد عوام کو امید تھی کہ وہ ان علاقوں کی بہتری کےلیے منصوبے تشکیل دے گا اور ہنگامی طور پر یہاں چیزیں بہتر بنائی جائیں گی لیکن یہ باتیں صرف ایک دیوانے کے خواب ثابت ہوئے وزیر اعلی صاحب نے خود کو سرمایہ دار اسٹیٹ کا ملازم ثابت کیا اور ان علاقوں کی ترقی کےلیے کوئی موثر اقدام نہیں اٹھایا بھلا جہاں فیکٹری نہ ہو ، جہاں مارکیٹ نہ ہو وہاں روڈ لے جانے کی ضرورت کیا ہے بھلا سرمایہ دار کو قدرت اس کی خوبصورتی اور عام عوام سے تعلق ہی کیا ہے؟ اس کو تو صرف منافع چاہیے۔
خیر چھوڑئیے ! سیر و ساحت کے دلدادہ لوگ ضرور ان علاقوں کا چکر لگائیں اور ان کی خوبصورتی کو اپنے آنکھوں میں بسا کر پوری دنیا کو دکھا دیں کہ بلوچستان کا یہ سمو دیس کتنا خوبصورت اور صحت افزا مقام ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*