گیبرئیل گرشیا مارکیز کا آخری ای میل پیغام

"اگر خدا مجھے دوبارہ زندگی دے تو میں جو کچھ سوچتا ہوں اسے کہنے کی بجائے جو کچھ کہتا ہوں اس کے بارے میں سوچوں گا.میں چیزوں کی قدر ان کی قیمت سے نہیں بلکہ ان کے بامعنی ہونے کی وجہ سے کروں گا. میں کم سوؤں گا اور جاگتے میں خواب دیکھوں گا کیوں کہ مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ ہر اس منٹ جب ہم آنکھیں بند کرتے ہیں تو ہم پورے ساٹھ سیکنڈ کے لیے روشنی سے محروم ہو جاتے ہیں.
جب دوسرے رک جائیں گے تو میں چلتا رہوں گا.جب دوسرے سوئیں گے تو میں جاگوں گا.جب دوسرے بولیں گے تو میں سنوں گا.میں اچھی اچھی چاکلیٹ کھاؤں گا.اگر خدا مجھے دوبارہ زندگی دے تو میں اچھے اچھے کپڑے پہنوں گا.دھوپ تاپوں گا۔ ۔ ۔ ۔فقط اپنے جسم کے لیے نہیں بلکہ اپنی روح تک اس کی تپش پہنچاؤ گا.اے خدا! اگر میں دل گرفتہ ہوں گا تو اپنی نفرت کو برف پر لکھوں گا اور سورج نکلنے کا انتظار کروں گا تاکہ برف کے ساتھ میری نفرت بھی بگھل کر بہہ جائے.میں وین گاگ(Van Gogh)کی طرح ستاروں پر نظمیں لکھوں گا اور چاند کے لیے محبت کے گیت گاؤں گا.
میں اپنی آنکھوں کے آنسوؤں سے گلابوں کو سیراب کروں گا اور کانٹوں کا درد اور گلابی پنکھڑیوں کا لمس محسوس کروں گا.اے میرے خدا!اگر مجھے دوبارہ زندگی ملے تو میں کوئی دن ایسا نہیں گزاروں گا جب میں لوگوں یہ پیغام نہیں دوں گا کہ مجھے ان سے پیار ہے.میں ہر مرد اور عورت کو بتاؤں گا کہ وہ مجھے محبوب ہیں.
میں پیار سے پیار کروں گا.میں لوگوں کو بتاؤں گا کہ وہ وہ غلط سمجھتے ہیں کہ جب وہ بوڑھے ہو جاتےہیں تو وہ محبت نہیں کر سکتے.انہیں نہیں معلوم کہ جب وہ محبت کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ بوڑھے ہو جاتے ہیں.میں بچوں کو پر پرواز دوں گا اور انہیں خود اڑنے کی کوشش کرنے دوں گا.میں بوڑھوں کو بتاؤں گا کہ موت بڑھاپے سے نہیں آتی بلکہ یہ سب کچھ بھول جانے سے آتی ہے.اے انسان!میں نے تم سےبہت کچھ سیکھا ہے.میں نے یہ بھی سیکھا ہے کہ ہر کوئی پہاڑ کی چوٹی پر رہنا چاہتا ہےاور یہ نہیں جانتا کہ اصل خوشی اس بات میں ہے کہ اس چوٹی پر پہنچا کیسے گیا.میں نے یہ بھی جانا ہے کہ جب ایک نومولود بچہ اپنے باپ کی انگلی پکڑتا ہے تو وہ اپنے باپ کو ہمیشہ کے لیے اپنی محبت میں قید کر لیتا ہے.میں نے یہ بھی جانا ہےکہ انسان کو نیچے کی طرف صرف اس وقت دیکھنا چاہیے جب اسے کسی دوسرے انسان کو اوپر اٹھانا ہو.اے انسان!میں نےتم سے بہت کچھ سیکھا ہے.لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر میں اس سب کو اپنے سینے میں لے کر مرجاؤں تو یہ بدقسمتی کی موت ہوگی.”

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*