ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : جولائی 2020

کھڑکی

شہر میں بلکہ دنیا میں پھیلی وبا کی وجہ سے آج کل میں کمرے میں بند ہوں۔ میرے باہر کی دنیا بس ایک بڑی سی کھڑکی سے نظر آتی ہے جو گھر کے لان کی طرف کھلتی ہے۔ اس کھڑکی کو پتا نہیں کیوں فرینچ ونڈو کہا جاتا ہے۔ شاید ...

مزید پڑھیں »

شام ڈھلے

اب تو عادت سی بن گئی ہے۔ میں شام ڈھلتے ہی لارنس باغ کی سیر کو نکل جاتا ہوں۔ لارنس مجھے سحر زدہ کر دیتا ہے۔ تازہ ہوا، خوشگوار فضا، قدیم، سرسبز، خوبصورت، شاہانہ انداز میں ایستادہ وہ درخت مجھے ہر شام متوجہ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ اور پھر ...

مزید پڑھیں »

رسالہ عوامی جمہوریت

ہفت روزہ ’’عوامی جمہوریت ‘‘کا طرز اپنے سابقہ پیش رواخباروں کی طرح تھا۔ اِس کے سرورق کے اوپر کی پٹی پردائیں طرف درانتی پکڑے ایک کسان ، ہتھوڑا تھامے ایک مزدور، اورکتاب لیے ایک طالب علم نے کر مل کر پرچم اٹھایا ہوا ہے اورنوجوان طالب علم نے انگلی سے ...

مزید پڑھیں »

دَلّی

وہ رات دیر گئے گھر آیا تو اس کی تھکن دیکھ کر بیوی سب سمجھ گئی۔ فوراً بولی ”آپ ابھی نہائیں گے یا بعد میں؟ گیزر آن ہے ویسے تو، آپ کے لیے کھانا لاتی ہوں۔“ اس نے کھانے سے انکار کر دیا اور بستر پر جا پڑا۔ اور کچھ ...

مزید پڑھیں »

انتساب

انتساب آج کے نام اور آج کے غم کے نام آج کا غم کہ ہے زندگی کے بھرے گلستاں سے خفا زرد پتوں کا بن زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے درد کی انجمن جو مرا دیس ہے کلرکوں کی افسردہ جانوں کے نام کرم خوردہ دلوں اور ...

مزید پڑھیں »

غزل

شہر آباد کیوں نہیں کرتے تم ہمیں یاد کیوں نہیں کرتے درد محسوس کیوں نہیں ہوتا کوئی فریاد کیوں نہیں کرتے ٹوٹ کر آسمان سے تارے پوری میعاد کیوں نہیں کرتے عشق پھرسے زمین بوس ہوا گہری بنیاد کیوں نہیں کرتے ڈھونڈنامت سکون دل بیکار پنچھی آزاد کیوں نہیں کرتے ...

مزید پڑھیں »

علی زیدی کی کاوشوں سے ” لینے کے دینے” والا بنتاماحول

جون2020کے آخری روز جب تحریک انصاف کے کراچی سے منتخب ہوکر انتہائی تگڑے،متحرک اور بلند آہنگ وزیر ہوئے جناب علی زیدی صاحب نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر عزیر بلوچ کی بابت تیار ہوئی ایک JITرپورٹ کی داستان سنائی تو میں بہت حیران ہوا۔’’شرطیہ نئے پرنٹ‘‘ کے ساتھ بنائے ان ...

مزید پڑھیں »

امیج

میرا کوئی امیج نہیں۔ میں کسی وقت، کسی بھی لمحے کچھ بھی کر سکتی ہوں۔”، اس نے اپنی ہی کہی ہوئی بات کو دہرایا۔ رات تین بجے وہ بے چین ہو کر اٹھی اورکھڑکی کے قریب آ گئی۔ اس کھڑکی سے نظر آنے والے نظارے دن کی روشنی میں اس ...

مزید پڑھیں »

کونج

چیری کے شگوفوں جیسے لب ادھ کھلے، چمکیلی آنکھوں سے جن میں جیسے کانچ کوٹ کر بھر دیا گیا ہو۔ ستارہ اک ٹُک نوری کو دیکھتے ہوئے، روٹیاں اپنی چنگیرپر رکھتی جا رہی تھی۔ مہر رنگی بادامی آنکھوں، مشکی رنگت والی نوری پسینے سے شرابور روٹی تندور سے نکالتی اور ...

مزید پڑھیں »

یہ محلوں ، یہ تختوں ، یہ تاجوں کی دنیا یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ؟ ہر اک جسم گھائل ، ہر اک روح پیاسی نگاہوں میں الجھن ، دلوں میں اداسی ...

مزید پڑھیں »