ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : جولائی 2020

ہڑتال

نیپلزا ٹرام ئے کارندہاں ہڑتال کتگ ات ۔ ریویرادی کیایا آ چے سرا تا چا سرا ہشکیں کنڈیکٹر ، ڈرائیور و اوشتاتگیں ٹراما ابید دگہ ہچ گندگا نیاتک ۔ وشدل و گپّوئیں نیپلزی آنی یک مزنیں مچّی یے پیازادیلاویتوریا آ مچّ ات ۔ چہ ہمیشانی سر ئے برزی آ و ...

مزید پڑھیں »

The Free Eve

اس نے کہا یہ جام دیکھ مئے ارغوان سے بھرا ہوا یہ جام دیکھ یہ شام دیکھ! چمپئی کھلی کھلی موتیے کے ہار میں چاندنی گندھی ہوئی اور چاندنی بھی اس طرح گندھی ہوئی کہ بام پر ندی کوئی چڑھی ہوئی!۔ ندی بھی گویا حلب کی مٹھاس میں رچی ہوئی ...

مزید پڑھیں »

ن سیپیوں کو نہیں چْنناہاں

میں نے نہیں چاہا کے یہ ہاتھ مٹی کو چھونے سے ڈریں باہر جانے سے رکیں ہاتھ ملا نے سے رکیں گلے لگانے سے ڈریں میں نے نہیں چاہا کہ یہ ڈر کے جئیں یہ جان کے جئیں کہ باہر جانے سے ڈرنا ہے کہ باہر تو جان لیوا وائرس ...

مزید پڑھیں »

افضل احسن رندھاوا مرحوم کا ایک اہم انٹرویو

افضل احسن رندھاوا کا شمار پنجابی ناول اور افسانہ  کے بانیوں میں ہوتا ہے- لیکن بدقسمتی سے رندھاوا کو ملک پاکستان سے زیادہ ہندوستان میں اہمیت دی جاتی ہے-ملک کے اندر اردو بولنے والے ادبی قیادت اسے نہیں مانتی-مگر اس کی کتابیں مشرقی پنجاب میں دھڑا دھڑ بکتی ہیں- فیصل ...

مزید پڑھیں »

بھولنے تو نہیں دیں گے دنیا کو ہم

یاد ہے یا د ہے ایک اک مرحلہ یاد ہے بیس لوگوں کا وہ قافلہ ایک تاریک گھاٹی میں داخل ہوا اور پھر جیسے زنداں کا در کھُل گیا بھولنے تو نہیں دیں گے دنیا کو ہم ناتواں ہڈیاں کھاد بنتی رہیں اور کپاس کے کھیت میں دور تک بس ...

مزید پڑھیں »

بھولنے تو نہیں دیں گے دنیا کو ہم

یاد ہے یا د ہے ایک اک مرحلہ یاد ہے بیس لوگوں کا وہ قافلہ ایک تاریک گھاٹی میں داخل ہوا اور پھر جیسے زنداں کا در کھُل گیا بھولنے تو نہیں دیں گے دنیا کو ہم ناتواں ہڈیاں کھاد بنتی رہیں اور کپاس کے کھیت میں دور تک بس ...

مزید پڑھیں »

کلات سٹیٹ نیشنل پارٹی

ہماری ہسٹری کا ایک دلچسپ باب یہ رہا ہے کہ انجمن اِتحاد بلوچاں بظاہرتو ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ مگر اصل میں یہ ختم کبھی بھی نہیں ہوتی۔ یہ دوسری تنظیموں کو سب کچھ تج کر گم ہوجاتی رہی اور جب بھی وہ دوسری تنظیم فوت ہونے لگتی ہے تو اچانک ...

مزید پڑھیں »

بھولنے تو نہیں دیں گے دنیا کو ہم

یاد ہے یا د ہے ایک اک مرحلہ یاد ہے بیس لوگوں کا وہ قافلہ ایک تاریک گھاٹی میں داخل ہوا اور پھر جیسے زنداں کا در کھُل گیا بھولنے تو نہیں دیں گے دنیا کو ہم ناتواں ہڈیاں کھاد بنتی رہیں اور کپاس کے کھیت میں دور تک بس ...

مزید پڑھیں »

نظم

تاریکی میں اپنے ہاتھ مسلتے ہوئے بیٹھی تھی وہ “تم کیوں آج اتنی اداس ہو؟” — میں نے اپنے عاشق کو کھو دیا وہ میرے گہرے غم کے نشے میں ڈوب رہا تھا میں کیسے بھولوں؟ وہ جھولتا ہوا نکلا چہرے پر کرب اور ویرانی کا سایا میں بھاگی ، ...

مزید پڑھیں »