ماہانہ محفوظ شدہ تحاریر : جولائی 2020

ساتواں نمبر

لکڑیاں آگ میں دہک رہی تھیں ۔شعلے اوپر تک اٹھ رہے تھے۔گلدستہ کے گال، آگ کی تپش سے انگارہ ہو رہے تھے۔ جانے وہ وہ کب سے رو رہی تھی۔ اور اماں صغراں اسے گاہے بگاہے ٹھیک ہونے کی تسلی دے رہی تھی۔ کچھ تو وہ پورے دن سے تھی ...

مزید پڑھیں »

ادل بدل

”چوہدری جی! لٹیا گیا، کسے نوں منہ دکھانڑ جوگا نہیں رہیا…“۔واویلا سن کر گہری نیند سویا ہوا زمیندار ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ تیزی سے حویلی کے اندرونی حصے سے باہرکی طرف لپکا۔ نکلتے قد،گھنگریالے بالوں والا خوشرو چوہدری دلاور جسے ہر کوئی نکا چوہدری کہ کر پکارتا تھا، ابھی اپنی ...

مزید پڑھیں »

دوست تو مر گئی

حسن مجتبی دوست تو مر گئی اور ہم زندہ ہیں زندہ لاشیں ہم زندہ لاشیں جو اب بدبو کررہی ہیں شور کررہی ہیں لاشیں جو کاندھے پر لاشیں اٹھائے چلی جا رہی ہیں کسی لاش کے کاندھے پہ انقلاب کا تابوت تو کسی کے کاندھے پہ خوابوں کا ناکام محبتوں ...

مزید پڑھیں »

یہ تو پرانی ریت ہے ساتھی!

جتنے ہادی رہبر آئے انسانوں نے خوب ستائے کَس کے شکنجہ آرا کھینچا ہڈّی، پسلی، گودا بھینچا آگ میں ڈالا، دیس نکالا جس نے خدا کا نام اچھالا پتھر کھائے، سولی پائی جس نے سیدھی راہ بتائی شاعر و مجنوں ان کو بولے جن کی زباں نے موتی رولے روڑے ...

مزید پڑھیں »

دانہ جلا کر وقت دیکھتا ہوں

چہرہ کھڑکی سے باہر۔ سبز جھنڈی ہوا میں پھڑپھڑاتی نظر آرہی ہے۔’’کُو…. چھک چھک ….کُو…کُو…‘‘ ٹرین آہستہ آہستہ پلیٹ فارم چھوڑتی ہے۔میں چہرہ اندر کرکے کھڑکی بند کردیتا ہوں۔سردی کا احساس۔ مفلرکھینچ کرکانوں پرباندھ دیتاہوں۔سگریٹ جلاکر دانہ کی روشنی میں کلائی میں بندھی گھڑی میں وقت دیکھتا ہوں۔ڈیڑھ بجے ہیں۔سوچتا ...

مزید پڑھیں »

غزل

بدن کے زنگ کو پوروں کا مَس ضروری تھا حنا کی پیاس تھی ہاتھوں کو، پس ضروری تھا اب آ کے سوچتا ہوں میں نحیف ہونے پر یہاں تک آنے کو تگڑا نفس ضروری تھا زمیں کو پینٹ کیا اْس نے سات رنگوں سے خدا کو کتنا بڑا کینوس ضروری ...

مزید پڑھیں »

لاٹری

دن بڑے اداس تھے۔ راتیں بھی سنسان تھیں۔ میں روٹین کی زندگی سے عاجزآ چکی تھی۔ اچانک ایک دن فون کی گھنٹی بجی۔ایک صاحب نے کہا مبارک باد آپ کی لاٹری نکلی ہے۔میری لاٹری۔۔۔۔؟ میں پریشان پہلے حیران بعد میں ہوئی۔ جی جی! آپ نے ایک دفعہ ہماری پراڈکٹ خریدی ...

مزید پڑھیں »

ڈیہی

پھلانی کیاری باں گڑدیث پذا باری اَولی ہماں یاری باں لہڑاف وہغّا بی مرگانی دِہ ٹولی باں پیغامے دیئغا بی مرگے کہ توارے کاں چمّاں شہ گوارِش بی سیرآف ڈغارے کاں کوہانی نذارغ باں تئی یاد جُڑی بنداں گوں گوئشتنا گوارغ باں بورانی سواری باں ناں سمّل چَہٛوائی ناں مست ...

مزید پڑھیں »