قلعہ فراموشی "فہمیده ریاض”( تنقیدی جائزه)

فہمیدہ ریاض کا ناول ’’قلعہ فراموشی‘‘ ۲۰۱۷ء میں منظر عام پر آیا۔ جو کہ تاریخی ناولوں کی صف میں شمار ہوتا ہے مگر ان تاریخی ناولوں سے قدرے مختلف چیز ثابت ہوئی جو اردو ناول کی روایت میں عبدالحلیم شرر یا نسیم حجازی کی صورت میں موجود ہے۔ مصنفہ نے اس ناول کو رقم کرنے کے لیے اپنے تخیل کے علاوہ جن چیزوں کے سہارے کہانی کا تانا بننے کی کوشش کی اور اصلی حقائق پر براہِ راست نگاه ڈالنے كے بعد تخیلاتی آمیزش کے ساتھ ایک فضا تیار کی ۔ ان چیزوں کی فہرست بطور ماخذات دی۔ جن میں اکثر ماخذات مذہبی اور تاریخی کتابیں ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان تواریخ کا متن کسی سیاسی تسلط یا سیاسی جبر سے آزاد ہو کر تحریر کیا گیا۔ ان تاریخی متون پر تشکیک کی نگاہ سے کس حد تک دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں یہ ماخذات قاری پر ایک اچھا تاثر چھوڑتے ہیں۔ وہاں دوسری طرف اس طرح کے سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ مگر مصنفہ کی ایمانداری اور تحقیق اور مطالعہ کی داد دی جا سکتی ہے۔ جس بنا پر اس ناول کو تخلیق کیا گیا۔ مصنفہ نے اپنے تخیل اور ذہنی اپج کا بھی اظہار کرنے میں گریز نہیں کیا۔ ناول سے تعلق رکھنے والی کم و بیش هر مذہبی کتاب اور تاریخی کتاب کا بطور ماخذ تعارف اور اس سے اخذ کی جانے والی معلومات کا اندراج ناول نگار کی محنت شاقہ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایران، عرب اور روم سے متعلق تاریخی حقائق اکٹھے کرنے کے لیے ’’تاریخ طبری‘‘ ،’’عربوں کی تاریخ از فلپ ہٹی‘‘، ’’جغرافیہ خلافتِ مشرقی‘‘، ’’ایران بہعد سا سانیان‘‘ ،’’قدیم ہند کی تاریخ‘‘، اور ’’تاریخ یہود‘‘ سے استعفادہ کیا گیا۔ جس عہد کی کہانی مرتب کی گئی اس عہد کے حالات و واقعات پر فردوسی کی مثنوی ’’شاہنامہ‘‘ پارسی کمیونٹی کی مذہبی کتاب ’’اوستا‘‘ اور ’’بائبل‘‘ کے ذریعے نظر ڈالی یوں کہا جا سکتا ہے کہ تمام تر مطالعے اور تاریخی چھان بین کے بعد یہ ناول مشاہدے کے بغیر خالصتاً تخیلاتی پیداوار ہے۔ جہاں اس اشتراکی مزدک کی کہانی کا بیج بویا گیا جس کا وجود اور عہد سب تاریخ کی نذر ہو چکا ہے۔ اس بیج کو تخیل کا پانی فراہم کر کے ہی تیار کیا جا سکتا تھا یا تاریخ کے وہ ورق اس کے تیار ہونے میں اپنا حصہ ڈال سکتے تھے جن کو فہمیدہ ریاض نے ماخذات کہا ہے۔
ناول کی کہانی قبل اسلام تقریباً چوتھی اور پانچویں صدی سے شروع ہوتی ہے۔ جہاں مرکزی کردار ’’مزدک‘‘ ،’’برابری/مساوات/ Equality‘‘ کا پرچم لہرانے کا خواہشمند ہے۔ مارکسی طرزِ فکر کا یہ نمائندہ درباری حکومتوں کے عہد میں سانس لیتا ہے۔ سلطنتِ آریان کے شہنشاہ قباد کے محل میں پڑھے جانے والے فرمان سے ناول کا آغاز ہوتا ہے:۔
’’اے حاضرین دربار! اپنی چشم بصیرت کھولو! تم میں سے ہر شخص پر واجب ہے کہ اپنے سے کم تر لوگوں پر نظر رکھے اور اپنے سے بلند تر رتبے والوں کو نہ دیکھے۔‘‘(۱)
اس فرمان کی واضح بازگشت پورے ناول میں موجود ہے۔ ناول کی کہانی با مداد کے بیٹے مزدک (مزداد) کے گرد گھومتی ہے۔ جسے شہنشاہ قباد کی اعانت اپنے ایک گہرے دوست سیاوش کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ جو شہنشاہ قباد کا دوست اور فوج کا اعلیٰ سردار بھی ہے۔ قباد کے تین بیٹے، کاوس شہزادہ خسرو اور زم ہیں۔ یہی شہزادہ خسرو جو قباد کا منجھلا بیٹا ہے جو مزدک کو اس کے خیالات کی بنا پر پھانسی دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔ خسرو کے نزدیک ’’کسانوں کی بغاوتیں امراء کے محل کی لوٹ مار، چھوٹے طبقات کے جاگیروں پر قبضہ کرنے کے حوصلے‘‘ مزدک کی پھیلائی گئی تعلیمات کی بدولت هیں اور سلطنتِ ساسانیہ کی تباہی و بربادی میں مزدک کے خیالات و افکار کا بڑا ہاتھ ہے۔
ناول کا بنیادی موضوع اسی ایک دائرے میں گردش کرتا ہے۔ جس کی نشاندہی کارل مارکس نے کی۔ ’’ذرائع پیداوار‘‘ کی منصفانہ تقسیم طبقاتی کشمکش کا انحطاط معاشرے کی فلاح و ترقی کا بنیادی جزو ہے۔ وہ تفریق جو پرولتاریہ اور بورژوائی طبقات کے درمیان ازل سے جاری و ساری ہے۔ اسی تفریق کو مٹانے کا حوصلہ اور عزم لیے مزدک اس کہانی میں اپنی مذہبی کتاب اوستا اور زرتشت کے نظریات کو عملی جامہ پہنانے کی سعی کرتا ہوا ملتا ہے اور جہاں کہیں اس کو شہنشاہ وقت کی مدد حاصل ہونے کی امید نظر آتی ہے۔ وہاں اگلے ہی لمحے میں وہی سرمایہ داری کا جال پھر سے بازی لے جاتا ہے۔ ’’مساوات‘‘/’’برابری‘‘ کا درس دیتا ہوا مزدک کا کردار سیاسی جبر کی فضا سے روشناس کرواتا ہے۔ جہاں مزدک جیسے کئی لوگوں کو موت کی گھاٹ اُتار دیا گیا۔ مزدک سے پہلے مانی کو موہدوں نے انہی خیالات کی بنا پر قتل کیا تھا۔ جس کی موت نے تمام ایرانیوں کے لبوں پر ایک عرصے کے لیے چُپ کی مہر ثبت کر دی تھی۔ مگر بامداد کے ذریعے مانی کے تمام خیالات مزدک تک پہنچے تھے۔ مزدک جس کو اوستا حفظ تھی اور اوستا کی تعلیمات کے خلاف حالات و واقعات رونما ہوتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔ سلطنت میں موجود محلات اور اُناج کے ڈھیروں پر نظر کر کے مزدک کا دل کڑھتا تھا جب وہ غول در غول کسانوں کے خاندان کو بھوک اور افلاس سے مرتے ہوئے دیکھتا تھا۔ اس عہد میں موجود قحط کا شکار لوگوں کا نقشہ مزدک کے کردار کے ذریعے یوں ملتا ہے:۔
’’مزدک نے لمبی سانس لے کر چوبدار کے الفاظ یاد کیے۔۔۔۔ اس کا دو گھوڑوں والا رتھ ویرانوں سے گزر رہا تھا۔ چاروں طرف بھیانک قحط پھیلا تھا بارش تو ان علاقوں میں یوں بھی کم ہوتی تھی۔۔۔ کسانوں کے پاس کھانے کے لیے اناج کا دانہ تک نہ تھا عوام بھوک سے مر رہے تھے بلاشبہ اور شہزاد گان اور معبدوں کے گودام غلے سے اٹا اٹ بھرے تھے لیکن ان کی ایک کھیل بھی اڑ کر غریب کسانوں کے منہ میں نہیں جا سکتی تھی۔‘‘(۵)

طبقاتی تقسیم میں جکڑے ہوئے کردار، اس جبر کی فضا کی عکاسی کرتے ہیں جو اس عہد میں موجود تھی اور آج بھی اقتصادی معاملات اور طبقاتی جکڑ بندیوں کی وجہ سے جوں کی توں برقرار ہے۔ ’’بھوک‘‘، ’’استحصال‘‘،’’عدم مساوات‘‘، ’’طبقاتی نظام‘‘، ’’سماجی و سیاسی کشمکش‘‘ اس عہد کے استعارے معلوم ہوتے ہیں۔ درباری نظام کے تحت ایک خاص ماحول پرورش پاتا ہے جس کی عکاسی یوں کی گئی ہے:۔

’’یہاں تک کہ کرسیوں کے بعد قالینوں پر مودب بیٹھے ہوئے عامیوں کا ہجوم تھا۔ ان میں کسان، کاریگر، معمولی دوکاندار بلکہ اس خاص تقریب کے لیے حراست خانوں اور عقوبت خانوں سے بلوائے گئے مجرم بھی موجود تھے اس ساسانی دربار میں ایک تنکا بھی جگہ سے بے جگہ نہ تھا۔ یہ ایک مکمل منصبی اور طبقاتی تقسیم تھی۔‘‘(۲)

طبقاتی تقسیم کی اسی سلسلے کی ایک کڑی ناول نگار نے محلوں اور جھونپڑوں میں پرورش پانے والے بچوں کے ذریعے دکھانے کی کوشش کی۔ محلوں میں پیدا ہونے والے اچھے نام و نسب کے حامل شہزادوں اور جھونپڑوں میں بے لباس اور کبھی کبھار چیتھڑوں میں ملبوس ان بچوں کی پیدائش پر اور ان کے نام نہاد نسب اور قبیلہ پر سوالیہ نشان درج ذیل اقتباس لگاتا ہے:۔
’’ازروئے نسب! وہ سوچ رہا تھا۔ جس طرح عامیوں کی عورتوں کو دن رات یہ روسا اٹھالے جاتے ہیں۔ تو کتنے ہی نسبی شہزادگان اور وزگان تو کسانوں کی جھونپڑوں میں کھیل رہے ہیں اور ان کی عورتیں۔ جو کسانوں کے كسے کسائے جسموں پر فریفتہ رہتی ہیں۔ کیا کوئی سچ مچ بتا سکتا ہے کہ کتنے کسانوں کے بیجوں کا پھل ان محلات کے باغوں میں جوانی کا رس پکڑ رہا ہے۔‘‘(۳)

یہ ایسے تلخ حقائق ہیں جن کو بیان کرنے میں ناول نگار نے کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا۔ یہ جبر کی ایسی فضا ہے جہاں زندگی جنم لیتے ہوئے نہیں ڈرتی مگر کسی نچلے طبقے اور قبیلے کا لیبل چسپاں کرتے ہوئے ضرور ڈرتی ہے۔ جہاں بوقت ضرورت روح کی آسودگی یا ہوس کو پورا کرنے کے لیے نیچ ذات سے اختلاط تو روا رکھا جاتا ہے۔ مگر اس نیچ ذات کے پیٹ کی آگ ٹھنڈی کرنے کا کوئی ساماں مہیا نہیں کیا جاتا۔ ’’پیسه‘‘ کا حصول هر عہد کی بڑی ضرورت ہے مگر یہاں سسکتی دم توڑتی زندگیاں ناول میں جا بجا بکھری ہوئی ملتی ہیں ۔ اس لیے ناول کی کہانی هر عہد کا ایک نوحہ معلوم ہوتی ہے ایسا نوحہ جو پرولتاریہ کی طرف سے رقم کیا جا رہا ہے۔ جن کے چپتھڑوں میں ملبوس بچے، خوراک کی کمی کا شکار زندگی سے منہ موڑتے ہوئے ہر مقام پر قاری کو ملتے ہیں:۔
’’اچانک کشادہ راستے پر بھوکے کسان مردوں اور عورتوں کا غول نہ جانے کہاں سے نمودار ہو گیا ۔ ان کے بدن پر چیتھڑے لٹک رہے تھے۔ ہڈی سے چمڑا گھسا ہوا تھا آنکھوں نے نیچے بڑے بڑے سیاہ حلقے، خشک ہونٹ، وہ بھوت پریتوں کے غول کی طرح بانہیں پھیلائے، خوشامدانہ الفاظ دُہراتے مزداد کی رتھ کی طرف لپک رہے تھے۔‘‘(۶)
مزدک کے کردار کے ذریعے ناول نگار، فلیش بیک کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے قاری کو اس واقعہ کی طرف لے جاتی ہیں جس نے مزدک کے مزاج اور رویے میں تلخی پیدا کر دی تھی۔ قحط کے دنوں میں مزدک کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے یہ ایک اہم حادثہ تھا۔ جس نے اس کے کردار میں مارکسی خیالات کی مزید پختگی پیدا کر دی تھی:۔
’’اف! اتنی تلخی مجھ میں کہاں سے آگئی!۔۔۔۔ کچھ عرصہ پہلے ، قحط کے آغاز میں جب وہ آتش کدے سے باہر نکل رہا تھا تب دروازے پر اسے ایک پریشان حال کسان ملا تھا۔۔۔۔ میرا بچہ! اس نے کہا۔ اس کوکئی دن سے کھانے کو کچھ نہیں ملا تھا دیکھئے اسے کیا ہو گیا۔ مزداد نے بچے کے خوبصورت چہرے سے اُلجھے ہوئے بال ہٹا کر اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔ بچے کا جسم برف کی طرح سرد تھا اس کے سوکھے ہوئے گلابی ہونٹ اب بھی بسور رہے تھے۔ بند آنکھوں کی سیاہ پلکوں کی صف بچکانہ رخساروں پر ساکت تھی بچے کو مرے ہوئے بہت دیر ہو چکی تھی۔‘‘(۷)

مزدک کے کردار کی اندرونی کشمکش اور مذہبی کتاب اوستا کی دُہرائی جانے والی سطریں، اس کی شخصیت میں موجزن حساس شخص کا عکس کا پیش کرتی ہیں۔ معاشرے میں جنم لینے والے اس مفلوک الحال طبقے کا دُکھ درد اس کی ذات اپنے اندر محسوس کرتی ہے۔ خیر اور شر کی آویزش اور استحصال کی مختلف صورتیں ناول میں دکھائی دیتی ہیں۔ جہاں مزدک کو یزداں ہارتا ہوا اور اهرمن جیتتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جہاں زرمہر جیسے امراء کسانوں کی کھال کھینچواتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ آمرانہ نظام جو مذہب کی آڑ میں قائم کیا گیا اور جس کی مختلف شکلیں آج بھی موجود ہیں۔ مذہبی رسوم کے نام پر لوگوں کو احمق بنا کر جبری چڑھاوے وصول کرنے کی روایتیں ناول میں قائم و دایم ملتی ہیں۔ ناول میں جگہ جگہ ’’بھوک‘‘ موضوع بنتی ہے۔ اور ناول کا موضوع آفاقیت کا درجہ رکھتا ہے اور اسی بھوک سے وابستہ مسائل کم کرنے کے لیے کبھی مزدک مقدس چمٹا بیچ کر کسانوں کا پیٹ بھرنے کی سعی کرتا ہے تو کہیں خوراک یا پانی پر عائد کی گئی پابندیوں کی مزاحمت کرتا نظرآتا ہے۔ مزدک کی طرح کا خواب لیے ایک اور کردار یہودی جوشوا متعارف ہوتا ہے جس سے قاری کی بھی امید بندھتی ہے کہ ناول نگار انقلاب کے کسی کونے پر ناول کا اختتام کرے گا:۔
’’موبد! ہزار برس سے زیادہ ہوئے، میری قوم کو بھی ایک خواب ملا تھا اس نے مزدک کو بتایا۔ جو خداوند کا نام ہے اس کی مملکت کا خواب، جہاں سکون ہو گا چین ہو گا جہاں زور آور کمزوروں پر ستم نہ ڈھائیں گے جہاں بھیڑیا، برے کو نہ چیرے پھاڑے گا ہمیں بھی بتایا گیا تھا کہ ایسی مملکت ایک دن ضرور قائم ہو گی۔‘‘(۸)
ناول میں ایك طرف سماجی اور سیاسی سطح پر طبقاتی تقسیم کا بول بالا ملتا ہے۔ دوسری طرف مذہبی بنیادوں پر فرقہ واریت کا ایک جال بھی نظرآتا ہے۔ جس میں معاشرہ اُلجھا ہوا ہے۔ ایک ہی مذہب میں رہتے ہوئے مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے یہ لوگ تب بھی موجود تھے۔ جو عصرِ حاضر میں دکھائی دیتے ہیں:۔
’’یہ مسیحی۔۔۔۔ تم خود ذرا دیکھو، مملکت ساسان میں، نسطوری مسیحی اور یعقوبی مسیحی ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے میں اس مسئلے پر کہ یسوع کی فطرت ایک تھی۔‘‘(۳۱)

مذہب کا سہارا لے کر غریب طبقے کا استحصال کرنا جاگیرداروں اور مذہبی رہنماوؤں کا شیوہ رہا ہے۔ تاریخ میں غلاموں کی تعداد میں اضافے کا جواز بھی ناول پیش کرتا ہے۔ جب معاشی نظام کی ابتری کے عالم میں غریب یونانی دہقان قرض ادا نہ کر سکنے پر خود کو بیچ دیتے تھے یا اپنی اولاد کو فروخت کر دیتے تھے اور ایسی فروخت کے ذریعے غلاموں کی منڈیاں تیار ہوتی تھیں اور بکی ہوئی چیز کے ساتھ کسی بھی طرح کا سلوک روارکھا جا سکتا تھا۔ ان کی مار پیٹ کے لیے قوانین بنائے جاتے تھے۔ ناول نگارا جدلیاتی کشمکش کا سہارا لیتے ہوئے موضوع کو فنی پختگی کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ اور ہرجگہ مزدک کا کردار خدائے بزرگ برتر سے مدد مانگتا ہوا ملتا ہے۔
’’لیکن لوگوں میں زبردستی کے ذریعے نابرابری پیدا کی گئی اور یہ اهرمن کی کارستانی تھی اس کے شر کے بس میں آکر ہر شخص نے یہ کوشش کی کہ دوسرے کا حصہ چھین کر اپنی خواہشات پوری کرے۔‘‘(۵۱)

’’اے خدائے پاک! اے اہورا مزدا! خدائے بزرگ و برتر، پاک پرودگار کائنات مجھے ہمت دے، اے اہورامزاد۔ مجھے طاقت دے کہ میں ثابت قدمی سے وہ کچھ کہہ سکوں جو میرے دل و دماغ میں بالکل صاف صاف آرہا ہے کیا یہ تیرے ہی بھیجے ہوئے خیالات نہیں۔‘‘(۵۱)

اسی خدائے پاک بزرگ و برتر کے جاری کردہ فرمان کو لے کر مزدک شہنشاہ قباد کے پاس گوداموں میں موجود اناج کو بھوکے اور غریب لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس جگه پر قاری کو مزدک کی جیت نظرآتی ہے:۔

’’قباد اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے کہا۔۔۔۔ میں مملکت ایرانیاں کا شہنشاہ جو اس سرزمین کے ذرے ذرے پر مکمل اختیار اور قوت رکھتا ہے آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ آپ امراء کے گوداموں سے، ابھی اور اسی وقت اپنے اور اپنے معصوم بچوں کے لیے خوراک لے لیں۔‘‘(۵۳)

جدلیاتی کشمکش میں پسا ہوا طبقہ ظلم کی چکتی میں پستا چلا جاتا ہے۔ اس ظلم و جبر کے طور طریقے جب اس طبقے کی عورتوں پر بھی اپنائے جاتے ہیں۔ تب سیاسی جبر کی کر یہہ صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے۔ ناول نگار مملکت ساسان میں موجود جبر کی ان حالتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وہاں کی ایک خاص طرزِ معاشرت کی عکاسی بھی کرتی ہیں اور صنفی امتیاز کا ایک رویہ جو فروغ پا چکا تھا۔ اس کا بیان بھی بغیر کسی لگی لپٹی کے تاریخ کے سہارے قلم بند کرنے کی اپنی سی بھرپور کاوش کی گئی ہے:۔
’’روز مہر۔۔۔۔ خدمت گار بیویوں سے پیدا ہونے والی تمہاری بیٹیاں تو غریبوں کے گھروں میں ہیں کیونکہ تمہارا قاعدہ ہے کہ ایسی اولادوں میں صرف بیٹوں کو تمہارے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت ہے ۔‘‘(۵۸)

عورت کے وجود کو صرف جنسی آسودگی کا مرکز بنایا جاتا رہا ہے۔ تاریخ اس بات کے شواہد پیش کرتی ہے اور ناول نگار بھی تانیثیتی نقطہ نظر کو بروئے کار لاتے ہوئے اس دور کی طرزِ معاشرت میں عورتوں کے کردار پر بڑی گہری نظر ڈالتی ہیں۔ جہاں عورتوں کے بیویوں کے طور پر باہمی تبادلے جیسے مناظر بکھرے ہوئے ملتے ہیں اور صدیوں سے غلامی کا شکار یہ معاشرہ انہیں روایات پر قائم و دائم ہے:۔
’’مملکت ساسان میں صدیوں سے اپنی زوجاؤں کو مشترک بناتے، دوستوں کو رعایتاً دیتے، رضا مندی سے یا زبردستی اپنی عورتوں کو امراء کی زنِ چگاریاں بناتے انسانوں کے غول کے لیے یہ کوئی انوکھی، دنیا سے نرالی بات نہ تھی۔‘‘(۶۰)
آگ کو پوجنے والے یہ غلام مذہب کے ساتھ جڑت کا پورا عکس پیش کرتے ہیں۔ مگر مزدک کے بنائے گئے قوانین میں یہ پرولتاریہ طبقہ جبری تحائف سے آزاد کیا جا رہا تھا جو موبدان وصول کرتے تھے اورامراء اور وزرگان کی چنگاری بیویاں بھی آزاد کر کے ان غریبوں میں برابر تقسیم کی جا رہی تھیں جو مہر کی رقم کی وجہ سے شادی نہیں کر سکے تھے۔ مگر یہ قوانین اور ان پر عمل درآمد نہ ہونے پر قاری کو ایک ٹھیس لگتی ہے۔ جب شہنشاہ قباد کو وطن بدر کر کے ان کے بھائی کو سلطنت تھما دی جاتی ہے۔ اس عہد میں استحصال کی فضا اور اس سے پیدا ہونے والے حالات کے مطابق مذہب تبدیل کرنے کے واقعات کو کہانی کے پیرائے میں خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ جہاں ذاتی مفاد کے پیش نظر رشتے جڑتے ہوئے اور زندگی کی حفاظت کرنے کے لیے مذہب تبدیل کرتے کردار نظرآتے ہیں:۔
’’چلو ہم لوگ مسیحی مذہب اختیار کر لیتے ہیں جوشوا حیرت سے چونک گیا۔ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ! ہم پر۔۔۔۔ میں تو مزدکی ہوں محترم باپ! نادان مت بنو!۔۔۔۔ اکا دکا مزدکی کو تنہا پا کر قتل کر دینا اب عام سی بات ہو گئی ہے۔ان کی لاشیں تاریک گوشوں میں ملتی رہی ہیں ہم مسیحی مذہب اختیار کر لیں گے۔ تم اس لڑکی سے شادی کر لو۔‘‘(۱۴۰)
تاریخ میں مذہبی زبانوں تک براہِ راست رسائی اور تفہیم کی کوئی صورتحال موجود نہیں تھی اور ان پڑھ غریب طبقے کو اس زبان سے ناواقفیت کی بنا پر بہت سارے مَن گھڑت مذہبی فرمان جاری کر کے ان کا استحصال کرنا عام بات تھی۔ ایسا ہی رجحان ناول میں بھی کار فرما ملتا ہے جہاں اپنی مرضی سے مذہبی کتابوں میں ترامیم کی جا سکتی تھیں۔ ناول نگار نے جہاں بھوک جیسے بڑے موضوع کو گرفت میں لے کر کہانی تخلیق کی وہاں کئی دوسرے فنی زاویوں کو بھی بخوبی اسلوب کی کاریگری سے ناول میں پیوست کرنے کی بھر پور کاوش کی۔ نسوانی حسن کو جزئیات کے ساتھ بیان کر کے اپنے عمیق مشاہدے اور زرخیز تخیل کا منہ بولتا ثبوت پیش کیا ہے۔ ایسا حُسن جو ایک خاص طرزِ معاشرت کی عکاسی کرتا ہے:۔
’’شانوں کی ہڈیوں پر گوشت، کلائیاں خوبصورت، ہتھیلیاں نرم، انگلیاں لمبی، بدن پُر لطف، پہلو اندر کی طرف مائل، مقام خاص نزاکت لیے ہوئے، سرین باہر کی طرف مائل، رانوں سے نزاکت ٹپکتی ہے۔ ٹخنے واضح، پنڈلیاں پر گوشت اور پازیب میں چست ہو جانے والی۔ نرم خرام، چھوٹے قدموں سے چلنے والی مجلس میں دل کو لبھانے والی، آقا کی فرماں بردار، باوقار، خاموش طبیعت، نسب بھی شریف ہے۔‘‘(۸۴)
فنی لوازمات کا جائزہ لیا جائے تو ناول میں کرداروں کی حلیہ نگاری، جذبات کی عکاسی اور ایک خاص نسائی شعور کی جھلکیاں ناول میں جا بجا ملتی ہیں۔ منظر نگاری کرتے ہوئے قلعہ فراموشی کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا گیا ہے:۔
’’قلعہ فراموشی! ایک بلند و بالا محراب میں داخل ہو کر وسیع و عریض ایوان، جس کی دیواروں پر طلائی اور نقرئی پچی کاری سے بیل بوٹے بنے تھے کئی وسیع کمروں کے دروازے اس ایوان میں کھلتے تھے جوآپس میں دروازوں کے ذریعے منسلک تھے۔‘‘(۱۱۵)
ناول نگار نے کرداروں کی مناسبت سے سلطنت ساسان کی معاشرت کی جگہ جگہ تصویریں پیش کی ہیںَ ان کرداروں کا رہن سہن، پکوان، رسوم وغیرہ قاری کو اس دنیا میں لے چلتے ہیں۔ جو دنیا ایک عرصے سے تاریخ کے صفحوں کی زینت بن چکی ہے۔ عورت سے وابستہ ان رسوم کا بلیغ بیان ملتا ہے جو زمانہ جاہلیہ کی دین تھا۔ مگر ان کے اعتقادات اور روایات کے مطابق درست سمجھا جاتا تھا۔ یہاں ناول نگار کا قلم تلخ حقائق کا عکس دکھاتا ہوا کہیں بھی فحش نگاری کے زمرے میں داخل نہیں ہوتا بلکہ اس سے اپنا دامن بچاتا ہوا ایسی رسوم کی تصویر دکھاتا ہے جو کافی حد تک کئی معاشروں میں ناپید ہو چکی ہیں:۔
’’یہ غیر معمولی زمانے تھے شہنشاہ قباد کو جلاوطن کر دیا گیا تھا اور ملکہ سلطنت ایک بوسیدہ چادر لپیٹے اس کے گھر آئی تھی۔ دینگ۔۔۔۔ میری بھتیجی۔۔۔۔ بامداد نے کہا ۔ گھر کے اندر تو نہیں۔۔۔۔ باہر کوٹھری میں ہے وہ۔۔۔ بامداد نے کچھ رک کر کہا۔۔۔ ان دنوں ناپاک ہے۔ دینگ۔۔۔۔ دینگ ننگے فرش پر سو رہی تھی۔ پاکی کا غسل کرنے تک اس کے لیے مسہری پر سونا گناہ بنا دیا گیا تھا۔‘‘(۱۱۶)

ناول نگار نے فلیش بیک کی تکنیک استعمال كرنے کے ساتھ ساتھ خط کی تکنیک بھی ناول میں بخوبی استعمال کی ہے۔ اس کے ذریعے قسطنطنیہ کے حالات و واقعات کا بیان ملتا ہے۔ جہاں آمریت کے سایے دور دراز تک پھیلے ہوئے نظر آتے ہیں اور غلامی کی وہی چکی یہاں چلتی ہے۔ جو مزدک کی سلطنت میں موجود تھی۔ قسطنطنیہ کے ان حالات کا جائزہ قاری کو جوشوا کے اس خط کے ذریعے ہوتا ہے جو مزدک کو لکھا گیا ہے:۔

’’بے حد افسوس ہے کہ آتے ہوئے آپ سے مل نہ سکا اور اب ہم یہاں ہیں غلاموں سے بھرے ہوئے اس جگمگاتے شہر میں۔ یہ زیادہ تر کرشانوں کے ہی بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ یہ جاگیری زمینوں پر کاشت کرتے ہیں اور قرضہ واپس نہ دے سکنے کے باعث جاگیرداروں کی غلامی میں آجاتے ہیں۔ وہی لوگ انہیں شہروں کی منڈیوں میں فروخت کردیتے ہیں۔‘‘(۱۴۹)
ناول کا اختتام المیہ کی صورت اختیار کرتا ہے اور قاری مزدک کا ہاتھ تھامے انقلاب یا برابری کی کسی صف میں شامل ہونے کی بجائے افسردگی کی فضا میں پہنچ جاتا ہے۔ جہاں مزدک کو شہنشاہ قباد کے چھوٹے بیٹے خسرو نوشیروان کی خاص سیاسی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے قتل کر دیا جاتا ہے اور اہور مزدا کے قول دہرانے والا ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔ امراء اور جاگیردار کے حلق کا کانٹا بنا ہوا یہ انسان (جو کسانوں کو اور اس غفلت میں ڈوبی ہوئی قوم کو جگانے والا مسیحا) ابدی نیند سو جاتاہے۔ ’’مساوات اور برابری‘‘ کی جنگ جاری و ساری رہتی ہے مگر اس کی موت ایک عرصے کے لیے اس عہد کے لوگوں کو پھر سے سُلانے اور بغاوتوں میں اور لوگوں پر اپنی دھاک بٹھانے کے لیے ایک بہترین قدم تھا:۔
’’خسرو نوشیروان نے تھر تھرائی ہوئی لمبی سانس بھری۔ پھر اس نے وزرگان سے کہا۔ آپ کا کام اب شروع ہوا کل سے مزدک کا نام صفحہ سلطنت سے مٹانا شروع کیجئے۔ اس کا اور اس کے مذموم خیالات کا کہیں ذکر نہ ہو اس کا نام بھی کسی کی زبان پر نہ آنے پائے۔ ہمیں اس کو نہیں۔ اس کی یاد کو قلعہ فراموشی کے سپرد کرنا ہے ہوشیار اور خبردار! اگر اس کا ذکر کرنا ہی پڑے تو صرف برای کے ساتھ کیا جائے۔‘‘(۱۶۰)

بشکریہ۔ مصباح نوید

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*