فقط حرف تمنا کیا ہے

شام روشن تھی سنہری تھی
مگر اتری چلی آتی تھی
زینہ زینہ
آ کے پھر رک سی گئی
شب کی منڈیروں کے قریں
اک ستارہ بھی کہیں ساتھ ہی جھک آیا تھا
جیسے وہ چھونے کو تھا کانوں کے بالے اس کے
گیسوؤں کو بھی کہ تھے رخ کے حوالے اس کے
کہنیاں ٹیکے ہوئے ایک دھڑکتی ہوئی دیوار پہ وہ
کھلکھلاتے ہوئے کچھ مجھ سے کہے جاتی تھی
اس کا آہنگ سخن منفرد لحن کلام
زمزمے پھوٹتے تھے جس سے شگوفوں کی طرح
جھیل پہ پنچھی کوئی پنکھ سنوارے جیسے
سر کی لہروں پہ کوئی دل کو پکارے جیسے
سانولے چہرے پہ وہ کانوں کے بالے کی دمک
ناز بے جا بھی نہ تھا رخ پہ تفاخر کی جھلک
اتنی پر نور تھیں وہ آنکھیں کہ گماں ہوتا تھا
جیسے خورشید ابھی ڈوب کے ابھرے گا انہیں آنکھوں سے
لیکن اس شام ان آنکھوں سے اچانک ٹوٹے
دو ستارے جو لرزتے رہے تا دیر لرزتے ہی رہے
جیسے کہتے ہوں کہ اس شام گریزاں کا بھروسا کیا ہے
دل نہ چاہے تو فقط حرف تمنا کیا ہے۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*