دُنیا کی بدصُورت ترین عورت تحریر

اُس نے دُنیا کی بدصُورت ترین عورت سے شادی کی۔ اُس نے خاصی شہرت کی حامل سرکس کے منتظم کی حیثیت سے اُس سے ملنے کے لیے خاص طور پر وِیانا کا دورہ کیا۔ وہ بالکل بھی پہلے سے سوچا سمجھا عمل نہیں تھا— اُسے کبھی ادراک نہیں ہُوا تھا کہ وہ اُسے اپنی بیوی بنا سکتا ہے۔ لیکن اُس پر پہلی نگاہ پڑتے ہی، پہلی بجلی گِرتے ہی، وہ اُس پر سے اپنی نظریں نہیں ہٹا پایا۔ اُس کا بڑا سا سر گلٹیوں اور گومڑوں سے بھرا ہُوا تھا۔ اُس کی چُندھی، ہر وقت آنسووں سے لبریز آنکھیں اُس کی جھکی ہُوئی اور جُھرّیلی پلکوں کے عین نیچے واقع تھیں۔ دُور سے وہ تنگ درز دِکھائی دیتی تھیں۔ اُس کا ناک یُوں لگتا تھا جیسے کئی جگہ سے ٹُوٹا ہُوا ہو، اور اُس کا سِرا نیل پڑے ہُوئے حِصّے کے مانند نیلا تھا، اور چھوٹے چھوٹے سخت بالوں سے ڈھنپا ہُوا تھا۔ اُس کا دہانہ کشادہ اور سُوجا ہُوا تھا، جو سدا کھل کر لٹکا اور تر رہتا، جس کے اندر تیز نوک والے دانت تھے۔ اِن سب سے بڑھ کر، گویا یہ سب ناکافی ہو، اُس کے چہرے پر لمبے، بے ترتیب، ریشمی بال اُگے ہُوئے تھے۔
اُس نے اُسے پہلی مرتبہ ایک سفری سرکس میں تماش بینوں کو اپنا آپا دِکھانے کے لیے گتّے پر نصب ایک قدرتی منظر کی تصویر کے پیچھے سے برآمد ہوتے دیکھا تھا۔ تحیّر اور حقارت کی ایک چیخ ہجوم کے سروں کے اُوپر سے سفر کرتی ہُوئی اُس کے قدموں میں جا گری۔ شاید وہ مُسکرا رہی ہو، لیکن وہ بگڑا ہُوا مُنھ خوف ناک لگتا تھا۔ وہ بے حد ساکت کھڑی تھی، اِس امر سے آگاہ کہ اُس پر درجنوں مشتاق نظریں گڑی ہیں کہ وہ تمام جزئیات اچھی طرح جذب کر لیں تاکہ جب وہ اُس چہرے کو اپنے دوستوں، پڑوسیوں یا اپنے بچّوں کے سامنے بیان کرنے لگیں تو سب کچھ اُن کی نگاہوں میں پھِر رہا ہو، تاکہ وہ آئینے میں اُس چہرے کا اپنے چہروں سے موازنہ کر سکیں— اور پھر سکون بھری سانس لیں۔ وہ صبر کے ساتھ کھڑی تھی، شاید ایک طرح کے احساسِ برتری کے ساتھ کیوں کہ وہ اُن کے سروں کے اُوپر سے پرے واقع گھروں کی چھتوں کو تک رہی تھی۔
خاصی دیر کی حیرت سے بوجھل خاموشی کے بعد، ایک شخص چِلّایا۔ ’’ہمیں اپنے بارے میں بتاؤ!‘‘
اُس نے انبوہ میں اُس مقام کی جانب تاکا جہاں سے آواز آئی تھی۔ وہ اُس شخص کو تلاش کر رہی تھی جس نے یہ بات کی تھی، لیکن عین اُسی لمحے قوی الجثّہ خاتون رِنگ ماسٹر دوڑتی ہُوئی کارڈ بورڈ کے پَروں کے پیچھے سے نکلی اور اُس نے دُنیا کی بدصُورت ترین عورت کی طرف سے جواب دیا۔ ’’یہ بولتی نہیں۔‘‘
’’پھر تم ہمیں اِس کی کہانی سناؤ۔‘‘ آواز نے استدعا کی تو موٹی تازہ خاتون نے کھنگار کر اپنا گلا صاف کیا اور بولنے لگی۔
اُس نے تماشے کے بعد اُس کے ہم رَاہ سرکس کی گاڑی کے پیچھے جڑی ہُوئی گاڑی میں جلتے ہُوئے جستی چُولہے کے پاس بیٹھ کر چائے کی پیالی پیتے ہُوئے پایا کہ وہ بے حد چالاک ہے۔ بِلاشبہ، وہ بول سکتی تھی، اور بات کو بخوبی سمجھتی بھی تھی۔ اُس نے قدرت کے اُس عجیب الخلقت وجود کے بارے میں اپنے تخیّل سے لڑتے ہُوئے اُس کا گہرا مشاہدہ کیا۔ وہ اُس کے اندر جھانک سکتی تھی۔
’’تم نے سوچا کہ میرا خطاب بھی اُتنا ہی عجیب و غریب اور مکروہ ہوگا جتنا میرا چہرہ ہے، کیا تم نے ایسا نہیں سوچا؟‘‘ اُس نے دریافت کیا۔
اُس نے جواب نہیں دیا۔
اُس (عورت) نے اپنی چائے رُوسی اخلاقیات کے تحت، دستے کے بغیر چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں اُنڈیل کر، ہر گُھونٹ کے ساتھ مصری کی ڈلی کو کُترتے ہُوئے پی۔
اُسے جلد ہی پتا چل گیا کہ وہ کئی زبانیں بول سکتی ہے، لیکن ظاہر ہے کہ کوئی بھی روانی سے نہیں۔ وہ بار بار ایک زبان سے دُوسرے پر آجاتی۔ یہ کوئی باعثِ حیرت امر نہیں تھا— کیوں کہ وہ اپنے بچپن ہی سے سرکس میں، ہر ممکن رنگا رنگ انوکھی چیزوں سے بھراہُوا عالمی طائفہ، پلی بڑھی تھی، جو کبھی ایک ہی مقام پر دوبارہ نہیں گئی تھی۔
’’مجھے پتا ہے تم کیا سوچ رہے ہو۔‘‘ وہ اُسے اپنی پُھولی ہُوئی چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے دیکھتے ہُوئے دوبارہ بولی۔ مختصر سے توقف کے بعد اُس نے اضافہ کیا۔ ’’جس کی ماں نہ ہو اُس کی کوئی مادری زبان بھی نہیں ہوتی۔ میں بہت سی زبانیں استعمال کرتی ہُوں، لیکن اِن میں سے میری کوئی بھی نہیں ہے۔‘‘
اُسے جواب دینے کی ہمّت نہیں ہُوئی۔ وہ اچانک ہی اُس کے اعصاب پر سوار ہو گئی تھی، اگرچہ اُسے معلوم نہیں تھا کہ کیوں۔ وہ برجستہ جملے بول رہی تھی۔ اُس کی باتیں باربط اور صریح تھیں— جس کی وہ بالکل توقع نہیں کر رہا تھا۔
پس، اُس نے اُسے الوداع کہا، اور اُس کی حیرت بجا تھی کہ اُس نے اُسے اپنا ہاتھ تھما دیا— ایک انتہائی نسوانی کنایہ۔ درحقیقت، ایک خاتون کا کنایہ؛ اور وہ ہاتھ کامل حسن کا حامل بھی تھا۔ وہ اُس کے سامنے جھکا، لیکن اُس نے ہاتھ پر اپنے ہونٹ مَس نہیں کیے۔
جب وہ واپس ہوٹل میں جا کر اپنے بستر پر پشت کے بَل لیٹا تب بھی وہ اُس کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ وہ ہوٹل کی نم اور بوجھل تاریکی میں تکنے لگا— اُس گہری تاریکی نے اُس کے تخیّل کو بے لگام کر دیا۔ وہ وہاں پڑا سوچ رہا تھا کہ اُس جیسا ہونا کیسا لگتا ہو گا؟ دِل میں کیا محسوس ہوتا ہو گا؟ سؤر جیسی آنکھوں سے دُنیا کیسی دِکھتی ہو گی؟ اُس بدشکل ناک میں سے سانس لینا کیسا لگتا ہو گا— کیا وہ بھی عام لوگوں کی طرح وہی چیزیں سُونگھتی ہو گی؟ اور ہر روز نہانے دھونے، دِیگر روزمرّہ کے چھوٹے چھوٹے افعال سرانجام دینے کے دوران میں اُس بدن کو چُھونا کیسا لگتا ہو گا؟
اُسے ایک مرتبہ بھی اُس پر ترس محسوس نہیں ہُوا۔ اگر وہ اُس پر ترس کھاتا تو وہ اُسے کبھی شادی کی پیشکش کرنے کے بارے میں نہ سوچتا۔
کچھ لوگ اِس کہانی کے بارے میں کہتے تھے کہ اگرچہ وہ محبت کا ایک شامت زدہ چکّر تھا کہ اُس کے دِل نے کسی طور براہِ راست اُس کے دِل میں جھانک کر دیکھا لیا، اور وہ اُس کے عجیب الخلقت چہرے کے باوجود اندر موجود دِلکش فرشتے کی الفت میں گِرفتار ہو گیا تھا۔ لیکن نہیں، یہ معاملہ نہیں تھا— اُس سے ملنے کے بعد اُس پہلی شب وہ اپنے آپ کو اِس تصوّر سے باز نہیں رکھ پایا تھا کہ ایسی مخلوق کے ساتھ مجامعت کرنا کیسا ہو گا، اُس کے ساتھ بوس وکنار اور اُسے برہنہ کرنا۔
وہ اگلے چند ہفتوں تک سرکس کے اِردگِرد منڈلاتا رہا۔ وہ چلا جاتا لیکن پھر واپس لوٹ آتا۔ اُس نے مینیجر کا اعتبار حاصل کیا، اور طائفے کا برنو (Brno) کے لیے معاہدہ کے مذاکرات کیے۔ وہ اُن کے پیچھے وہاں بھی گیا، اور سرکس والے اُسے اپنا ہی ایک فرد سمجھنے لگے۔ وہ اُسے ٹکٹیں بیچنے کے لیے دینے لگے، اور پھر اُس نے فربہ خاتون رِنگ ماسٹر کی جگہ سنبھال لی— اور کہا جانے لگا کہ وہ اِس کام کے لیے عمدہ تھا کیوں کہ رَنگے ہُوئے پھٹیچر پردے کے اُٹھنے سے پہلے وہ تماش بینوں کو گرمانے کا کام خُوب کیا کرتا تھا۔
’’اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ خاص طور پر عورتیں اور بچّے کیوں کہ حساس بصارتوں کے لیے اِس مخلوق کی بدصُورتی سہنا دُشوار ہے۔ جس کسی نے بھی قدرت کے اِس بے ڈھب پن کو دیکھا وہ دوبارہ کبھی سکون کی نیند نہیں سو پایا۔ کچھ لوگ تو خالق پر اپنا عقیدہ تک کھو بیٹھے…‘‘
اِس مرحلے پر وہ اپنا سر معلّق کرتا، جس سے یُوں لگتا کہ اُس نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑ دیا ہے گو ایسا نہیں ہوتا تھا— اُسے معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ اب کیا کہے۔ اُس کا اندازہ تھا کہ لفظ ’’خالق‘‘ ہر شے کو مناسب روشنی میں رکھ دیتا ہے۔ کچھ لوگ پردے کے عقب میں منتظر عورت کو دیکھتے ہی خالق پر اپنا عقیدہ کھو سکتے تھے، لیکن وہ خُود اِس کے برعکس قائل ہو گیا تھا: اگر کسی چیز سے خالق نے اپنے وجود کا اظہار کر کے منتظم کی انتشار خیالی کو یک جائی بخشی تھی تو وہ اُسے اِس موقع کی مرحمت تھی۔ دُنیا کی بدصُورت ترین عورت۔ کچھ گاؤدی حسین عورتوں کے پیچھے مبارزت کرتے اور ایک دُوسرے کو قتل کر دیتے ہیں۔ کچھ احمق عورت کی خواہش پر اپنی قسمتیں لُٹا بیٹھتے ہیں۔ لیکن وہ اُن جیسا نہیں تھا۔ بدصُورت ترین عورت نے اُس کی چاہت کو ایک افسردہ، پالتو جانور کے مانند اپنی طرف لگا لیا تھا۔ وہ دِیگر تمام عورتوں سے مختلف تھی، اور وہ ہمیشہ سودے بازی میں اُسے مالی معاونت فراہم بھی کرتی تھی۔ اگر وہ اُسے اپنی بیوی بنا لیتا تو وہ منفرد ہو جاتا— خاص بن جاتا۔ اُس کے پاس وہ چیز ہوتی جو دُوسروں کے پاس نہیں تھی۔
وہ اُس کے لیے پُھول خریدنے لگا— خاص گُل دستے نہیں، بس ڈھیلے ڈھالے پتلے کاغذ کی قوسی پرت میں لپٹے ہُوئے ارزاں سے چھوٹے چھوٹے گُچھے؛ یا پھر وہ اُسے کوئی سُوتی گلوبند دے دیتا، چمکیلا رِبن یا میوے والی مٹھائی کا ڈبّا۔ پھر جب وہ اپنے ماتھے پر رِبن باندھتی تو وہ مسحور ہو کر دیکھنے لگتا اور وہ رنگین قوس سنگھار بننے کے بجائے خوفناک لگتی۔ اور وہ اُسے اپنی جسیم اور باہر کو اُبلی ہُوئی زبان سے چوکلیٹ چاٹتے ہُوئے تکتا، جو اُس کے دانتوں کے درمیانی وسیع خلا میں تُھوک کو خاکی کر دیتی اور رَونگھٹوں سے اَٹی ٹھوڑی پر رال بن کر ٹپکتی۔
اُس کو اُسے اُس وقت دیکھنا اچھا لگتا تھا جب اُسے پتا نہ ہوتا کہ وہ اُسے دیکھ رہا ہے۔ وہ صبح سویرے چپکے سے کھسک کر تنبو یا پچھلی گاڑی کے عقب میں چھپ جاتا، وہ چپکے سے قریب گھات لگا لیتا اور حد یہ کہ چوبی باڑ کے شگافوں میں سے بھی گھنٹوں تکتا رہتا۔ وہ غسلِ آفتابی لینے کی عادی تھی اور جب وہ یہ غسل لے رہی ہوتی تو وہ بہت دیر تک اپنے تتربتر بالوں میں سحر زدگی کے سے عالم میں کنگھی کرتی، اُن کی بار بار پتلی پتلی چُٹیائیں بناتی اور کھولتی رہتی۔ یا پھر وہ اُن میں آنکڑے ڈالتی رہتی، جس سے دُھوپ میں چمکتی ہُوئی سُوئیاں سرکس کی پُرشور فضا میں چبھتی ہُوئی لگتیں۔ یا، ڈھیلی ڈھالی قمیص پہنے، اپنے عریاں بازوؤں کے ساتھ دُھلائی والے تسلے میں کپڑے دھوتی۔ اُس کے بازوؤں اور بالائی سینے کی جِلد ہلکے رنگ کی سمور سے ڈھکی رہتی۔ یہ منظر دِلکش لگتا تھا۔ نرم، ایک جانور کے جیسا۔
اُسے اِس جاسوسی کی ضرورت تھی کیوں کہ دِن بہ دِن نفرت کم ہوتی، دُھوپ میں پگھلتی اور گرم سہ پہر میں بارش کے پانی کے گڑھے کے مانند غائب ہوتی جا رہی تھی۔ رِفتہ رِفتہ اُس کی آنکھیں اُس کے تکلیف دہ عدم توازن، شکستہ تناسب، تمام کمیوں اور بیشیوں کی عادی ہوتی جا رہی تھیں۔ بعض اوقات تو وہ سوچنے لگتا کہ وہ عام دِکھائی دیتی ہے۔
جب کبھی وہ بے چینی محسوس کرنے لگتا تو اُنھیں کہتا کہ وہ کسی ضروری کام سے باہر جا رہا ہے، اُس کی فلاں فلاں سے مجلس ہے— اور وہ کسی اجنبی کا تذکرہ کرتا یا پھر بالکل متضاد طور پر کسی نہایت معروف ہستی کا۔ وہ سودے بازیاں، مذاکرات کر رہا تھا۔ وہ اپنے جُوتے پالش کرتا، اپنی بہترین قمیص دھوتا اور رَوانہ ہو جاتا۔ وہ کبھی زیادہ دُور نہیں گیا۔ کسی قریبی شہر میں قیام کرتا، کسی کا بٹوہ چُراتا اور شراب کے نشے میں دُھت ہو جاتا۔ لیکن پھر بھی وہ اُس سے آزاد نہ ہو پاتا کیوں کہ وہ اُس کے بارے میں باتیں کرنا شروع کر دیتا تھا۔ وہ اُس کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا، حتّٰی کہ اِن جرأت مندانہ فراروں میں بھی۔
اور حیرت انگیز امر یہ تھا کہ وہ اُس کی سب سے قیمتی ملکیت بن گئی تھی۔ وہ جب چاہتا، اُس کی بدصُورتی کی خاطر شراب کی اَدائی بھی کر سکتا تھا— اور، اِس سے بھی بڑھ کر، وہ خُوب صُورت عورتوں کو اُس کا حلیہ بیان کر کے مسحور کر دیتا، اُن عورتوں کو اُس سے رات گئے بھی، جو اُس کے نیچے برہنہ پڑی ہوتیں، کہتیں کہ وہ اُس کے بارے میں باتیں کرتا رہے۔
جب وہ لوٹتا تو اُس کے پاس اُس کے متعلّق انبوہ کو بتانے کے لیے ایک نئی کہانی ہوتی— اِس امر سے بخوبی آگاہ کہ جب تک کسی شے کی اپنی خاص کہانی نہ ہو وہ حقیقی وجود نہیں رکھتی۔ آغاز میں اُس نے کوشش کی کہ وہ اُنھیں زبانی یاد کر لے، لیکن جلد ہی اُسے پتا چل گیا کہ بدصُورت ترین عورت کہانیاں سنانے میں اچھی نہیں: وہ یکساں آواز میں بولتی اور آخر میں پُھوٹ پُھوٹ کر رونے لگتی۔ پس، اُس کی طرف سے وہ خُود وہ کہانیاں سنانے لگا۔ وہ ایک طرف کھڑا ہو جاتا، اپنا ہاتھ اُس کی سمت اُٹھاتا، اور لحن میں بولتا: ’’جس بدنصیب مخلوق کو آپ اپنی نگاہوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں، جس کے وجود کی نموداری آپ کی معصوم آنکھوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے، اِس کی ماں بلیک فاریسٹ کے کنارے پر ایک گاؤں میں رہتی تھی۔ اور وہاں، موسمِ گرما کے ایک روز، جب یہ جنگل میں سے بیر چُن رہی تھی تو ایک وحشی بڑدنتا سؤر اِس پر پل پڑا۔ وہ وحشیانہ ہوس کے ساتھ مجنونانہ انداز میں اِس پر حملہ آور ہُوا۔‘‘
اِس مرحلے پر اُسے مدام گھٹی گھٹی، دہشت زدہ چیخیں سُنائی دیتیں، اور کچھ عورتیں، جو پہلے ہی روانہ ہو جانا چاہتی تھیں، اپنے متذبذب شوہروں کی آستینیں تھام لیتیں۔
اُس کے اَور بھی بہت سی کہانیاں تھیں:
’’یہ عورت خُدا کے ملعون خطے سے آئی ہے۔ یہ ایک بد، بے رحم قوم کی نسل ہے، جس نے نادار مریضوں پر رحم نہیں کیا، جس پر ہمارے آقا نے تمام گاؤں کو اِس مؤرثی بدصُورتی کا سزایاب ٹھیرایا۔‘‘
یا: ’’یہ اخلاق باختہ عورتوں کی اولادوں پر وارد ہونے والی تقدیر ہے۔ یہاں آپ آتشک کا پھل دیکھ سکتے ہیں، ایک خوف ناک مرض جو پانچویں نسل تک ناپاکی کی سزا دیتا ہے!‘‘
اُسے کبھی پچھتاوا محسوس نہیں ہُوا۔ اِن میں سے کوئی بھی کہانی سچ ہو سکتی تھی۔
’’مجھے نہیں معلوم میرے والدین کون تھے۔‘‘ بدصُورت ترین عورت نے اُسے بتایا۔ ’’میں ہمیشہ سے یُوں ہی ہُوں۔ میں نے اپنے بچپن سے ہی اپنے آپ کو سرکس میں دیکھا ہے۔ کسی کو نہیں پتا کہ اُس سے پہلے کیا ہُوا تھا۔‘‘
جب اُن کا پہلا دور اختتام پذیر ہُوا اَور سرکس اپنی سالانہ سرمائی نیند کے لیے وِیانا کی سمت ایک کاہل قوس میں سفر کر رہا تھا تو اُس نے اُسے شادی پیش کش کر دی۔ وہ لال سُرخ پڑ گئی اور کانپنے لگی۔ پھر اُس نے تُرت کہا۔ ’’ٹھیک ہے۔‘‘ اور اپنا سر آہستگی سے اُس کے بازو پر رکھ دیا۔ وہ اُس کی مہک سُونگھ سکتا تھا— جو گداز اور صابنی تھی۔ اُس نے یہ لمحہ جھیلا اور پھر پیچھے ہٹ کر اُسے اُن کی اکٹھّی زندگی کے منصوبے بتانے اور وہ تمام مقامات شمار کرنے لگا جہاں جہاں وہ سیر کے لیے جائیں گے۔ اُس کے کمرے میں ٹہلنے کے دوران میں وہ اُسے تکتی رہی، لیکن وہ افسردہ اور چُپ تھی۔ اُس کی بات ختم ہوتے ہی اُس نے اُس کا بازو تھاما اور کہا کہ وہ اِس کے بالکل برعکس پسند کرے گی— وہ کسی ایک مقام پر ٹک جائیں گے، اور کہیں جائیں گے نہ کسی سے ملیں گے۔ اور یہ کہ وہ کھانے بنائے گی، اُن کے ہاں بچّے ہَوں گے اور باغیچہ بھی۔
’’تم کبھی یہ نباہ نہیں پاؤ گی۔‘‘ اُس نے برہمی سے اُلٹی دلیل دی۔ ’’تم سرکس میں پلی بڑھی ہو۔ تم چاہتی ہو، اور تمھیں دیکھے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر لوگوں کی نگاہیں تم پر نہ ہُوئی تو تم مر جاؤ گی۔‘‘
اُس نے جواب نہیں دیا۔
اُنھوں نے میلادِ مسیحؑ پر ایک چھوٹے سے گرجا گھر میں شادی کر لی۔ بیاہ کروانے والا پادری لگ بھگ بے ہوش ہی ہو گیا تھا۔ قرأت کرتے ہُوئے اُس کی آواز کانپتی رہی۔ مہمان سرکس کے لوگ تھے، کیوں کہ اُس (مرد) نے اُسے بتایا تھا کہ اُس کا کوئی خاندان نہیں ہے اور وہ بھی اُسی کی دُنیا میں اکیلا ہے۔
جب وہ سب اپنی اپنی نشستوں میں نیم مدہوش تھے، جب تمام بوتلیں خالی ہو چکی تھیں اور بستر پر جانے کا وقت ہو گیا تھا (حد یہ کہ وہ بھی اُس کی آستین کو سر مستی کے عالم میں کھینچ رہی تھی)، اُس نے سب سے ٹھیرنے کے لیے کہا اور میز شراب منگوا لی۔ وہ نشے میں دُھت نہیں ہو سکا، گو وہ اِس کے لیے بے حد کوشش کر رہا تھا۔ اُس کے اندرون میں کوئی شے کاملاً چوکنّا اور رَسّی کے مانند تنی رہی۔ حتّٰی کہ وہ اپنے کندھے ڈھیلے چھوڑ پایا نہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ سکا، بَل کہ تن کر بیٹھا رہا۔ اُس کے رُخسار تمتما اور آنکھیں چمک رہی تھی۔
’’اب ہم چلیں، میرے محبوب۔‘‘ اُس نے اُس کے کان میں سرگوشی کی۔
لیکن وہ میز کے کنارے سے یُوں چمٹ گیا جیسے اُسے اُس کے ساتھ نادیدہ کوکوں سے جڑ دیا گیا۔ تیز مشاہدے والے مہمانوں کا خیال تھا کہ وہ بس اُس کی برہنہ قربت سے ڈرا ہُوا تھا— بیاہ کے بعد کی لازمی ازدواجی قربت سے خوف زدہ۔
’’میرا چہرہ چُھوؤ۔‘‘ وہ اندھیرے میں اُس سے بولی، لیکن وہ یہ نہیں کرتا۔ اُس نے اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں کے بَل پر اُس سے بلند کیا تاکہ اُسے محض اُس کا سایہ ہی دِکھائی دے، باقی کمرے کی تاریکی سے ذرا ہلکے رنگ کا، بے نُمایاں خدوخال کا مدہم خاکہ۔ پھر اُس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں— وہ یہ نہیں دیکھ سکتی تھی— اور حسبِ معمول اپنے دماغ میں کوئی خیال لائے بغیر اُسے ویسے ہی لیا جیسے دُوسری عورتوں کو لیتا تھا۔
اگلے دور کا آغاز اُنھوں نے اپنے طور پر کیا۔ اُس نے اُس کی چند تصاویر کھینچیں اور اُنھیں دُنیا بھر میں تقسیم کر دیا۔ برقی تاروں کے ذریعے اُن سے وقت مخصوص کرائے گئے۔ اُن کی بے شمار رُونمائیاں ہُوئیں اور اُنھوں نے پہلے درجے میں سفر کیا۔ اُس نے ہمیشہ سُرمئی نقاب والا بھاری بھرکم ہَیٹ پہنا، جس کے عقب میں سے اُس نے روم، وینس اور چیمپس ایلی سِیس کا کو دیکھا۔ اُس نے اُس کے لیے بہت سے ملبوسات خریدے اور اُس کے پیٹ کو سہارا دینے والے زیر جامے کو خُود جھالر سے آراستہ کیا، پس جب وہ یورپی شہروں کی پُرہجوم سڑکوں پر سے گذرتے تو ایک عام انسانی جوڑا دِکھائی دیتے تھے۔ لیکن اُس وقت بھی، اچھے وقتوں کے دوران میں بھی، وہ وقتاًفوقتاً بھاگ نکلتا۔ وہ اِسی نوع کا آدمی تھا: دائمی بھگوڑا۔ اچانک اُس کے اندر ہراس سر اُٹھاتا، ناقابلِ برداشت ژولیدگی حملہ آور ہوتی۔ وہ پسینے میں شرابور ہو جاتا اور اُس کا سانس رُکنے لگتا، پس وہ نوٹوں کی ایک گڈی لیتا، اپنا ہَیٹ جھپٹتا اور دوڑتا ہُوا زینے سے اُترتا، جلد ہی خطا کیے بغیر اپنے آپ کو بندرگاہ کے قریب کسی نہانے کی جگہ میں گِرا دیتا۔ وہ وہاں سکون پاتا، اُس کا چہرہ لٹک جاتا، بال بِکھر جاتے اور لمبی لٹوں کے نیچے مشاقی سے ٹِنڈ کے چھپائے ہُوئے ٹکڑے سینہ زوری سے نمایاں ہو کر سب کو دِکھائی دینے لگتے۔ وہ معصومیت اور مسرت کے ساتھ بیٹھ کر پینے لگتا، مٹرگشت کرتا رہتا یہاں تک کہ بالآخر کوئی پیشہ ور طوائف آنکھوں میں دُھول جھونک کر اُسے لُوٹ لیتی۔
جب پہلی مرتبہ بدصُورت ترین عورت نے اُس کے روّیے پر لعنت ملامت کی تو اُس نے اُسے پیٹ میں گھونسا دے مارا کیوں کہ وہ ابھی تک اُس کے چہرے کو چُھونے سے خوف زدہ تھا۔
اب وہ اپنے معمول کے دوروں میں آتشک یا جنگل کے بڑدنتا سؤر کے قِصّے نہیں سناتا تھا۔ اُسے ویانا سے ایک پروفیسر آف میڈیسن کا خط موصول ہُوا تھا اور آج کل وہ اپنی بیوی کو سائنسی اصطلاحات میں پیش کرنا پسند کرتا تھا۔
’’خواتین و حضرات، ہمارے پاس یہاں قدرت کی ایک عجیب الخلقی ہے، ایک منقلب صُورت، ارتقاء کی خطا، حقیقی گم شدہ کڑی۔ اِس نوع کی مثالیں کم یاب ہیں۔ جیسے کسی کا نہایت ہی چھوٹا پیدا ہونے کا غالب امکان نہایت کم ہے بالکل ایسے ہی جیسے اِس جگہ سے، جہاں پر کھڑا میں بول رہا ہُوں، کوئی شہاب ثاقب آٹکرائے۔‘‘
بے شک، وہ جامعہ کے پروفیسر کے ہاں کبھی کبھار جایا کرتے تھے۔ جامعہ میں وہ اکٹھّے تصویریں کھنچواتے، جن میں وہ بیٹھی ہوتی اور وہ عقب میں کھڑا ہو کر اُس کے کاندھے پر ہاتھ رکھے ہوتا۔
ایک مرتبہ جب عورت کا معائنہ کیا جا رہا تھا تو پروفیسر نے اُس کے خاوند سے ایک بات کہی۔
’’میں سوچ رہا ہُوں کہ یہ انتقال وراثتی نہ ہو؟‘‘ وہ بولا۔ ’’کیا تم نے بچّے پیدا کرنے کے بارے میں سوچا ہے؟ کیا یہ کوشش کی؟ کیا تمھاری بیو ی…ار…؟ دراصل کیا تم نے… ار…؟‘‘
کچھ زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ اُس نے، جو شاید اِس محتاط بات چیت سے آگاہ بھی نہیں تھی، اپنے خاوند کو بتایا کہ وہ حمل سے ہے۔ جس پر وہ منقسم شخص ہو گیا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے جیسا بچّہ جنم دے— پھر اُن کے پاس زیادہ معاہدے ہَوں گے، زیادہ دعوتیں ہَوں گی۔ اگر اِس دوران میں اُس کی بیوی مر بھی گئی تو ضرورت پڑنے پر اُن کے پاس زندگی بسر کرنے کے لیے اچھی خاصی جمع پُونجی ہو گی۔ شاید وہ تب تک معروف ہی ہو چکا ہو؟ لیکن تبھی اُس نے ایک بار یہ بھی سوچا کہ بچّہ عفریت ہو گا اور وہ اُسے اُس جیسی دہشت ناک انجام والی زندگی بسر کرتا دیکھنے کے بجائے اُس کے زہریلے، خامی سے پُر خُون سے بچانے کے لیے واقعی اُسے اُس کا پیٹ پھاڑ کر نوچ نکالے گا۔ اور اُسے ایسے خواب دِکھائی دیے جن میں اُس کے پیٹ میں مقیّد وہ بیٹا وہ خُود تھا جسے اُس جیسی عورت کی محبت مل رہی تھی اور یہ کہ اُسے اپنے اندر محبوس رکھ کر وہ بتدریج اپنا چہرہ بدل رہی تھی۔ یا پھر اُس نے خواب دیکھا کہ وہ جنگل کا وحشی دنتا سؤر ہے جو ایک معصوم لڑکی کی عزّت تار تار کر رہا ہے۔ وہ پسینے میں شرابور اُٹھتا اور اُس کے حمل ضائع ہونے کی دُعا کرتا۔
اُس کا پیٹ تماش بینوں کا حوصلہ بڑھاتا، اور اُنھیں اُس کی عفریتی بدصُورتی پر معاف کرنا سہل بناتا۔ وہ اُس سے سوالات پُوچھنے لگے، جن کا وہ شرماتے ہُوئے خاموشی اور غیریقینی انداز میں جواب دیتی۔ اُن کے قریبی شناسا شرطیں بدنے لگے کہ وہ کس طرح کے بچّے کو جنمے گی اور آیا وہ لڑکا ہو گا یا لڑکی۔ وہ اِن سب باتوں کو بھیڑ کی سی انکساری کے ساتھ سنتی۔
وہ راتوں کو بچگانہ کپڑے سیتی۔
’’تمھیں پتا ہے۔‘‘ وہ لمحہ بھر کے لیے ٹھیر کر اپنی نگاہیں کسی دُور پرے واقع نقطے پر جما کر کہتی۔ ’’لوگ بہت کم زور ہیں، نہایت تنہا۔ جب وہ میرے سامنے بیٹھے میرے چہرے کو تک رہے ہوتے ہیں تو مجھے اُن کے لیے دُکھ محسوس ہوتا ہے۔ یُوں لگتا ہے جیسے وہ خُود کھوکھلے ہَوں، گویا اُنھیں کسی چیز کو اچھی طرح دیکھنے، اپنے آپ کو کسی شے سے بھرنے کی ضرورت ہو۔ بعض اوقات تو مجھے لگتا ہے جیسے وہ مجھ سے حسد کرتے ہَوں۔ کم از کم میں کوئی چیز تو ہُوں۔ اُن میں کسی غیرمعمولی شے کی کمی ہے، اپنی ذاتی کسی خاصیت کی کمی ہے۔‘‘
جب اُس نے یہ بات کی تو وہ ٹھٹھکا۔
اُس نے رات کے وقت، کوئی ہنگامہ برپا کیے بغیر چُپ چاپ ایک جانور کے مانند جنما۔ دائی محض آنول نول کاٹنے کے لیے آئی۔ اُس (مرد) نے اُسے اِس یقین دِہانی پر نوٹوں کی ایک گڈّی تھمائی کہ وہ بہت جلد کہانیاں نہ پھیلائے۔ اُس (مرد) کا دِل ٹپّے کھا رہا تھا، اُس نے اُس چیز کا بغور جائزہ لینے کے لیے تمام قمقمے روشن کر دیے۔ بچّہ بے حد دہشت ناک تھا، حد یہ کہ اپنی ماں سے بھی زیادہ ڈراؤنا۔ اُس نے اُبکائی سے بچنے کے لیے اپنی آنکھیں موند لیں۔ بہت دیر کے بعد اُس نے اپنے آپ کو مطمئن کیا کہ نومولود لڑکی تھی، اُس کی ماں کے اعلان کے عین مطابق۔
تو اب کیا ہُوا: وہ تاریک شہر میں چلا گیا، جو ویانا تھا یا شاید برلن۔ ہلکی، نم برف گِر رہی تھی۔ اُس کے جُوتے چکلی بٹیاؤں پر ترحم آمیز انداز میں گھسٹتے ہُوئے نشان ڈال رہے تھے۔ اُس نے اپنے آپ کو اندر سے دوبارہ تقسیم ہوتا محسوس کیا— مسرور، مگر با ایں ہمہ نااُمید۔
اُس نے پی اور ہوش میں رہا۔ اُس نے جاگتی آنکھوں خواب دیکھا اور خوف زدہ ہو گیا۔ جب کئی روز کے بعد وہ گھر لوٹا تو اُس کے پاس اُن کے اَسفار کی تفصیل اور تشہیر کے تمام منصوبے تیار تھے۔ اُس نے پروفیسر کو خط لکھ لکھا اور ایک فوٹوگرافر کو بُلا لیا ، جو اپنے ہاتھوں کے اشارے سے عِفریتی بدصُورتی کے حامل اُن دونوں جان داروں کے متعدّد فوٹو کھینچ کر ریکارڈ کرتا چلا گیا۔
جیسے ہی موسمِ سرما ختم ہو گا، جُوں ہی زیتونی جھاڑی کے پُھول اپنے جوبن پر آئیں گے، جیسے ہی بڑے بڑے شہروں کے چکلی بٹیا سُوکھ جائیں گے، اُس نے سوچا۔ پیٹس برگ، Bucharest، پراگ ، وارسا، آگے سے آگے، نیویارک اور بیونوس ایئرز (Buenos Airs) تک کا تمام سفر… جُوں ہی آسمان نیلے رنگ کا ایک عظیم الشان بادبان کے مانند آسمان زمین پر تن جائے گا، تمام دُنیا اُس کی بیوی اور بیٹی کی بدصُورتی سے مسحور ہو جائے گی اور اُن کے سامنے گھٹنوں کے بَل گِر جائے گی۔
لگ بھگ اِسی مرحلے پر اُس نے پہلی مرتبہ اُس کے چہرے کا بوسہ لیا۔ ہونٹوں کا نہیں۔ نہیں، نہیں بَل کہ بھَوں کا۔ اُس نے اُسے چمکتی ہُوئی، کم و بیش انسانی آنکھوں سے دیکھا۔ پھر وہی سوال لوٹ آیا— وہ سوال جو وہ اُس سے کبھی نہیں پُوچھ پایا: ’’تم کون ہو؟ کون ہو تم؟ کون ہو تم؟‘‘ وہ اپنے آپ سے دُہراتا رہا، یہ دھیان رکھے بغیر کہ وہ یہ سوال دُوسرے لوگوں، حد یہ کہ داڑھی مونڈتے ہُوئے آئینے میں اپنے آپ سے بھی پُوچھنے لگا تھا۔ یہ یُوں تھا جیسے اُس نے کوئی بھید پا لیا ہو— کہ ہر شخص بہروپ بھرے ہُوئے ہے، انسانی چہرے محض مکھوٹے ہیں، تمام زندگی ایک بڑی سی وینسی گیند ہے۔ بعض اوقات وہ نشے کی حالت میں تصوّرات میں گُم ہو جاتا— کیوں کہ ہوش کی حالت میں اُس نے اپنے آپ کو کبھی اِس نوع کی حماقت کا مرتکب نہیں ہونے دیا تھا— کہ وہ مکھوٹے نوچ رہا تھا، اور گُوند سے جُڑے ہُوئے کاغذ کو اُکھیڑنے پر آنے والی ہلکی سی چٹاخ جیسی آواز دیتے ہُوئے وہ ظاہر کر رہے تھے… کیا؟ اُسے پتا نہیں تھا۔ یہ چیز اُسے اِس قدر دِق کرنے لگی کہ اُس کے لیے اُس کے اور بچّی کے ساتھ گھر پر رہنا ناقابلِ برداشت ہو گیا۔ وہ خوف زدہ ہو گیا کہ ایک روز وہ اپنی بدہیٔت اُکساہٹ میں اِتنا غرق ہو جائے گا کہ بچّی کے چہرے سے بدصُورتی کو نوچنے کی کوشش کرنے لگے گا۔ اُس کی اُنگلیاں اُس کے بالوں پھِر کر پوشیدہ گُومڑ، چپچپے حِصّے اور کھال تلاشنے لگیں گی۔ پس، وہ پینے کے لیے نکل جاتا اور پھر اگلی مسافتوں کے بارے میں سوچنے لگتا، اشتہار اور نئے ٹیلی گراموں کے متن ترتیب دینے لگتا۔
لیکن موسمِ بہار کے آغاز میں ہسپانوی نزلہ زکام کی خوف ناک وبا پُھوٹ نکلی، اور ماں اور بیٹی دونوں بیمار پڑ گئیں۔ وہ بخار میں تپتی، بمشکل سانس لیتی ہُوئی ایک دُوسرے کے ساتھ پڑی رہتیں۔ وقتاً فوقتاً سراسیمہ جبلّت کے تحت وہ بچّی کو اپنے ساتھ چمٹا کر اُسے اپنی شوریدہ سری میں، یہ سمجھے بغیر کہ اُس میں چُوسنے کی سکت نہیں رہی اور وہ مر رہی ہے، دُودھ پلانے کی سعی کرتی۔ اور جب بالآخر وہ مر گئی تو اُس (مرد) نے اُسے احتیاط سے اُٹھایا، بستر کے ایک کونے پر لٹایا اور سگار سلگا لیا۔
اُسی شب بدصُورت ترین عورت ذرا سی دیر کے لیے ہوش میں آئی، محض سسکیاں بھرنے اور اتھاہ مایُوسی میں گِریہ زاری کی خاطر۔ یہ اُس (مرد) کی برداشت سے باہر تھا— وہ رات کی آواز تھی، تاریکی کی آواز، جو سیدھی تاریک ترین پاتال سے آرہی تھی۔ اُس نے اپنے کانوں کو ڈھانپ لیا، یہاں تک کہ آخر کار اُس نے اپنا ہَیٹ اُٹھایا اور بھاگ نکلا، لیکن وہ زیادہ دُور نہیں گیا۔ وہ سویر ہونے تک اپنے اپارٹمنٹ کی کھڑکی تلے اِدھر اُدھر ٹہلتا رہا، اور اِس طرح اُس نے اُس (عورت) کی مرنے میں مدد بھی کی۔ یہ کام اُس کی توقع سے زیادہ سرعت سے ہُوا۔
اُس نے اپنے آپ کو خواب گاہ میں بند کر لیا اور دونوں نعشوں کو تکنے لگا، جو اچانک ہی بھاری، بوجھل اور جسیم لگنے لگی تھیں۔ وہ متحیّر تھا کہ اُن کے نیچے گدّا کتنا پچکا ہُوا لگ رہا تھا۔ اُسے کچھ نہیں پتا تھا کہ اب وہ کیا کرے، پس اُس نے پروفیسر کے سِوا کسی کو نہیں بتایا۔ بیٹھے بیٹھے براہِ راست بوتل سے پیتے ہُوئے اُس نے دیکھا کہ پھٹتی ہُوئی پو نے بستر پر پڑے ہُوئے بے حس و حرکت جسموں کے خاکوں کو بتدریج معدوم کر دیا۔
’’اِنھیں محفوظ کر لو۔‘‘ جب پروفیسر پوسٹ مارٹم کرنے کے لیے آیا تو اُس نے بے ربطگی سے کہا۔
’’کیا تم پاگل ہو گئے ہو؟ یہ مر چکی ہیں۔‘‘ وہ تڑخ کر بولا۔
بعد میں پروفیسر نے اُس کے حوالے کاغذ کا ایک ٹکڑا کیا اور رَنڈوے نے اپنے بائیں ہاتھ سے رقم تھامتے ہُوئے، اُس پر اپنے دائیں ہاتھ سے دستخط کر دیے۔
لیکن اُسی روز، بندرگاہ پر غائب ہونے سے پہلے، اُس نے پروفیسر کی یونیورسٹی کے کلینک میں باربرداری والی گاڑی کے ذریعے نعشوں کو لے جانے میں معاونت کی، جہاں پہنچتے ہی فوراً خفیہ طور پر اُن کی پوست اَنبازی کر دی گئی۔
طویل عرصے، لگ بھگ بیس برس تک وہ ایک عمارت کے ٹھٹھرا دینے والے تہہ خانے میں کھڑی رہیں، جب تک کہ بہتر وقت نہیں آگیا اور وہ ایک بڑے ذخیرے میں شمولیت کے لیے نہیں چلی گئیں، جس میں یہودی اور سلاوی کھوپڑیاں، دو سروں والے بچّے، اور ہررنگ و نسل کے آپس میں جُڑے بدنوں والے جُڑواں بچّے شامل تھے۔ اُنھیں آج بھی پیتھالوجِش اینٹومِشز بنڈز عجائب گھر (Pathologisch-Anatomisches Bundes Museum) میں دیکھا جا سکتا ہے— شیشے کی آنکھوں والی ماں اور بیٹی، کامل باوقار انداز میں اب بھی منجمد حالت میں جیسے کسی نئی، ناکامیاب حیاتیاتی نسل کی باقیات ہَوں۔
(انگریزی سے اردو ترجمہ)

* * *
بشکریہ مصباح نوید

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*